### ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج

ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں ملا نصرالدین کو بلایا۔ سلطان ملا کی حاضر جوابی اور عقل مندی کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا۔

سلطان نے ملا سے کہا:

"ملا نصرالدین! آج میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسے پورا کر دیا تو میں تمہیں انعام دوں گا، لیکن اگر ناکام ہوئے تو تمہیں سزا دی جائے گی۔"

ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا:

"حضور! چیلنج قبول ہے، لیکن پہلے مجھے بتائیے کہ کرنا کیا ہے؟"

سلطان نے ایک مشکل سوال پوچھا:

"مجھے بتاؤ کہ میرے محل میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟"

دربار کے سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کسی نے کہا سونا، کسی نے کہا ہیرے، اور کسی نے کہا سلطان کا تاج۔

ملا نصرالدین نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا:

"حضور! آپ کے محل میں سب سے قیمتی چیز **آپ کا وقت** ہے۔"

سلطان حیران ہوا اور پوچھا:

"وہ کیسے؟"

ملا نے جواب دیا:

"سونا دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، ہیرے دوبارہ مل سکتے ہیں اور تاج بھی دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جو وقت گزر جائے وہ دنیا کی کسی دولت سے واپس نہیں آتا۔"

دربار میں خاموشی چھا گئی۔

سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر کہا:

"ملا نصرالدین! تم نے نہ صرف میرا چیلنج جیتا ہے بلکہ مجھے ایک ایسی بات سکھائی ہے جو ہر بادشاہ کو یاد رکھنی چاہیے۔"

سلطان نے ملا کو انعام دیا اور کہا:

"آج سے تم میرے دربار کے سب سے عقلمند مشیروں میں سے ایک ہو۔"

ملا نصرالدین نے ہنس کر کہا:

"حضور! بس اتنا یاد رکھیے کہ وقت کو ضائع کرنے سے پہلے اسے خریدنے کی کوشش نہ کیجیے گا، کیونکہ بازار میں اس کی دکان نہیں ہے!"

سب لوگ ہنس پڑے، اور سلطان بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔

### سبق:
**وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ اسے ضائع کرنے کے بجائے صحیح کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔**
### ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں ملا نصرالدین کو بلایا۔ سلطان ملا کی حاضر جوابی اور عقل مندی کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا۔ سلطان نے ملا سے کہا: "ملا نصرالدین! آج میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسے پورا کر دیا تو میں تمہیں انعام دوں گا، لیکن اگر ناکام ہوئے تو تمہیں سزا دی جائے گی۔" ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا: "حضور! چیلنج قبول ہے، لیکن پہلے مجھے بتائیے کہ کرنا کیا ہے؟" سلطان نے ایک مشکل سوال پوچھا: "مجھے بتاؤ کہ میرے محل میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟" دربار کے سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کسی نے کہا سونا، کسی نے کہا ہیرے، اور کسی نے کہا سلطان کا تاج۔ ملا نصرالدین نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا: "حضور! آپ کے محل میں سب سے قیمتی چیز **آپ کا وقت** ہے۔" سلطان حیران ہوا اور پوچھا: "وہ کیسے؟" ملا نے جواب دیا: "سونا دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، ہیرے دوبارہ مل سکتے ہیں اور تاج بھی دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جو وقت گزر جائے وہ دنیا کی کسی دولت سے واپس نہیں آتا۔" دربار میں خاموشی چھا گئی۔ سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر کہا: "ملا نصرالدین! تم نے نہ صرف میرا چیلنج جیتا ہے بلکہ مجھے ایک ایسی بات سکھائی ہے جو ہر بادشاہ کو یاد رکھنی چاہیے۔" سلطان نے ملا کو انعام دیا اور کہا: "آج سے تم میرے دربار کے سب سے عقلمند مشیروں میں سے ایک ہو۔" ملا نصرالدین نے ہنس کر کہا: "حضور! بس اتنا یاد رکھیے کہ وقت کو ضائع کرنے سے پہلے اسے خریدنے کی کوشش نہ کیجیے گا، کیونکہ بازار میں اس کی دکان نہیں ہے!" سب لوگ ہنس پڑے، اور سلطان بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ 😄 ### سبق: **وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ اسے ضائع کرنے کے بجائے صحیح کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔**
0 Commentaires 0 Parts 61 Vue