### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون
ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔
کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔
ملا نے کہا:
"اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"
اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔
سلطان نے پوچھا:
"ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
ملا نے جواب دیا:
"حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔"
سلطان نے اجازت دے دی۔
ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا:
"حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔"
سلطان نے حیرت سے کہا:
"یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟"
ملا مسکرائے اور بولے:
"حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔"
سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔
سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔
دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
ملا نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔"
### سبق:
**اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو
ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔
کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔
ملا نے کہا:
"اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"
اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔
سلطان نے پوچھا:
"ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
ملا نے جواب دیا:
"حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔"
سلطان نے اجازت دے دی۔
ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا:
"حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔"
سلطان نے حیرت سے کہا:
"یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟"
ملا مسکرائے اور بولے:
"حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔"
سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔
سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔
دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
ملا نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔"
### سبق:
**اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو
### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون
ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔
کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔
ملا نے کہا:
"اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"
اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔
سلطان نے پوچھا:
"ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
ملا نے جواب دیا:
"حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔"
سلطان نے اجازت دے دی۔
ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا:
"حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔"
سلطان نے حیرت سے کہا:
"یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟"
ملا مسکرائے اور بولے:
"حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔"
سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔
سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔
دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
ملا نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔"
### سبق:
**اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو
0 تبصرے
0 شیئرز
59 ویوز