### ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا
ایک دن ملا نصرالدین کے پاس دو پڑوسی بہت غصے میں آئے۔ دونوں ایک دوسرے سے زور زور سے بحث کر رہے تھے۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب! اس نے میرے باغ کی دیوار کے ساتھ اپنی چیزیں رکھ دی ہیں۔ میری جگہ خراب ہو رہی ہے!"
دوسرا فوراً بولا:
"یہ جھوٹ بول رہا ہے! میں نے اس کی کوئی جگہ نہیں گھیر ی۔ بلکہ اس نے میری گلی کا راستہ بند کر رکھا ہے!"
دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
ملا نصرالدین نے دونوں کو خاموش کرایا اور کہا:
"ٹھیک ہے، پہلے میں ایک ایک کی بات سنوں گا۔"
ملا نے پہلے ایک پڑوسی کی پوری بات سنی، پھر دوسرے کی بات بھی غور سے سنی۔ اس کے بعد وہ دونوں کو لے کر گلی میں پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔
ملا نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور کہا:
"یہ حصہ پہلے پڑوسی کا ہے اور یہ حصہ دوسرے پڑوسی کا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ کو اہم سمجھ رہے ہیں اور دوسرے کی مشکل کو نہیں سمجھ رہے۔"
پھر ملا نے دونوں سے کہا:
"اگر تم دونوں ایک دوسرے کی جگہ ہوتے تو کیا تمہیں یہ مسئلہ اچھا لگتا؟"
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
ملا نے مشورہ دیا:
"پہلا پڑوسی اپنی چیزیں تھوڑی پیچھے کر دے گا، اور دوسرا اپنی دیوار کے پاس سامان رکھنے کے بجائے ایک مخصوص جگہ استعمال کرے گا۔ اس طرح راستہ بھی کھلا رہے گا اور کسی کی جگہ بھی خراب نہیں ہوگی۔"
دونوں پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ میں صرف اپنی بات دیکھ رہا تھا۔"
دوسرا بھی مسکرا کر بولا:
"اور میں بھی!"
ملا نصرالدین ہنس کر بولے:
"جھگڑا جیتنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کرنا۔ پڑوسی سے جنگ کرو گے تو روز ملنا مشکل ہوگا، لیکن سمجھداری سے کام لو گے تو روز سلام بھی ہوگا اور سکون بھی!"
دونوں پڑوسی ہنس پڑے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔
### سبق:
**کسی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے صرف اپنی بات نہیں، بلکہ دوسرے کی مشکل کو بھی سمجھنا چاہیے۔
ایک دن ملا نصرالدین کے پاس دو پڑوسی بہت غصے میں آئے۔ دونوں ایک دوسرے سے زور زور سے بحث کر رہے تھے۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب! اس نے میرے باغ کی دیوار کے ساتھ اپنی چیزیں رکھ دی ہیں۔ میری جگہ خراب ہو رہی ہے!"
دوسرا فوراً بولا:
"یہ جھوٹ بول رہا ہے! میں نے اس کی کوئی جگہ نہیں گھیر ی۔ بلکہ اس نے میری گلی کا راستہ بند کر رکھا ہے!"
دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
ملا نصرالدین نے دونوں کو خاموش کرایا اور کہا:
"ٹھیک ہے، پہلے میں ایک ایک کی بات سنوں گا۔"
ملا نے پہلے ایک پڑوسی کی پوری بات سنی، پھر دوسرے کی بات بھی غور سے سنی۔ اس کے بعد وہ دونوں کو لے کر گلی میں پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔
ملا نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور کہا:
"یہ حصہ پہلے پڑوسی کا ہے اور یہ حصہ دوسرے پڑوسی کا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ کو اہم سمجھ رہے ہیں اور دوسرے کی مشکل کو نہیں سمجھ رہے۔"
پھر ملا نے دونوں سے کہا:
"اگر تم دونوں ایک دوسرے کی جگہ ہوتے تو کیا تمہیں یہ مسئلہ اچھا لگتا؟"
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
ملا نے مشورہ دیا:
"پہلا پڑوسی اپنی چیزیں تھوڑی پیچھے کر دے گا، اور دوسرا اپنی دیوار کے پاس سامان رکھنے کے بجائے ایک مخصوص جگہ استعمال کرے گا۔ اس طرح راستہ بھی کھلا رہے گا اور کسی کی جگہ بھی خراب نہیں ہوگی۔"
دونوں پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ میں صرف اپنی بات دیکھ رہا تھا۔"
دوسرا بھی مسکرا کر بولا:
"اور میں بھی!"
ملا نصرالدین ہنس کر بولے:
"جھگڑا جیتنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کرنا۔ پڑوسی سے جنگ کرو گے تو روز ملنا مشکل ہوگا، لیکن سمجھداری سے کام لو گے تو روز سلام بھی ہوگا اور سکون بھی!"
دونوں پڑوسی ہنس پڑے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔
### سبق:
**کسی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے صرف اپنی بات نہیں، بلکہ دوسرے کی مشکل کو بھی سمجھنا چاہیے۔
### ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا
ایک دن ملا نصرالدین کے پاس دو پڑوسی بہت غصے میں آئے۔ دونوں ایک دوسرے سے زور زور سے بحث کر رہے تھے۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب! اس نے میرے باغ کی دیوار کے ساتھ اپنی چیزیں رکھ دی ہیں۔ میری جگہ خراب ہو رہی ہے!"
دوسرا فوراً بولا:
"یہ جھوٹ بول رہا ہے! میں نے اس کی کوئی جگہ نہیں گھیر ی۔ بلکہ اس نے میری گلی کا راستہ بند کر رکھا ہے!"
دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
ملا نصرالدین نے دونوں کو خاموش کرایا اور کہا:
"ٹھیک ہے، پہلے میں ایک ایک کی بات سنوں گا۔"
ملا نے پہلے ایک پڑوسی کی پوری بات سنی، پھر دوسرے کی بات بھی غور سے سنی۔ اس کے بعد وہ دونوں کو لے کر گلی میں پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔
ملا نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور کہا:
"یہ حصہ پہلے پڑوسی کا ہے اور یہ حصہ دوسرے پڑوسی کا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ کو اہم سمجھ رہے ہیں اور دوسرے کی مشکل کو نہیں سمجھ رہے۔"
پھر ملا نے دونوں سے کہا:
"اگر تم دونوں ایک دوسرے کی جگہ ہوتے تو کیا تمہیں یہ مسئلہ اچھا لگتا؟"
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
ملا نے مشورہ دیا:
"پہلا پڑوسی اپنی چیزیں تھوڑی پیچھے کر دے گا، اور دوسرا اپنی دیوار کے پاس سامان رکھنے کے بجائے ایک مخصوص جگہ استعمال کرے گا۔ اس طرح راستہ بھی کھلا رہے گا اور کسی کی جگہ بھی خراب نہیں ہوگی۔"
دونوں پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
پہلا پڑوسی بولا:
"ملا صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ میں صرف اپنی بات دیکھ رہا تھا۔"
دوسرا بھی مسکرا کر بولا:
"اور میں بھی!"
ملا نصرالدین ہنس کر بولے:
"جھگڑا جیتنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کرنا۔ پڑوسی سے جنگ کرو گے تو روز ملنا مشکل ہوگا، لیکن سمجھداری سے کام لو گے تو روز سلام بھی ہوگا اور سکون بھی!"
دونوں پڑوسی ہنس پڑے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔
### سبق:
**کسی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے صرف اپنی بات نہیں، بلکہ دوسرے کی مشکل کو بھی سمجھنا چاہیے۔
0 Comentários
0 Compartilhamentos
47 Visualizações