### ملا نصرالدین اور اجنبی مسافر

ایک شام ملا نصرالدین بازار سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک اجنبی آدمی کو سڑک کے کنارے پریشان بیٹھے دیکھا۔

ملا نے اس کے قریب جا کر پوچھا:

"بھائی! تم اتنے پریشان کیوں ہو؟"

اجنبی نے جواب دیا:

"میں اس شہر میں نیا ہوں۔ میرا پرس کہیں راستے میں گم ہو گیا ہے۔ میرے پاس کھانے اور گھر واپس جانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔"

ملا نصرالدین نے اس کی بات غور سے سنی۔ انہوں نے اپنی جیب میں دیکھا۔ ان کے پاس بھی زیادہ پیسے نہیں تھے، لیکن انہوں نے اپنی کچھ رقم اجنبی کو دے دی۔

ملا نے کہا:

"یہ رقم رکھ لو۔ اس سے کھانا کھا لینا اور اپنے گھر واپس جانے کا انتظام کر لینا۔"

اجنبی نے حیرت سے پوچھا:

"لیکن ملا صاحب، آپ مجھے جانتے بھی نہیں۔ پھر آپ میری مدد کیوں کر رہے ہیں؟"

ملا مسکرائے اور بولے:

"مدد کرنے کے لیے کسی کو پہلے سے جاننا ضروری نہیں۔ جب کسی انسان کو ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنا ہی کافی وجہ ہے۔"

اجنبی نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چلا گیا۔

کچھ دن بعد وہی اجنبی ملا نصرالدین کے پاس واپس آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔ اس نے ملا کے پیسے واپس کرنے کی کوشش کی۔

ملا نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا:

"اگر واقعی میرا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تو جب کبھی تمہیں کوئی ضرورت مند انسان ملے، اس کی مدد کر دینا۔"

اجنبی نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔

اس واقعے کے بعد ملا نصرالدین نے خود بھی ایک بات سیکھی۔ انہوں نے سوچا:

**"کسی کی مدد کرنے سے صرف دوسرے کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے دل میں بھی خوشی اور انسانیت بڑھتی ہے۔"**

### سبق:
**نیکی کرنے کے لیے کسی فائدے یا بدلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹی سی مدد بھی کسی انسان کے لیے بہت بڑی امید بن سکتی ہے۔**
### ملا نصرالدین اور اجنبی مسافر ایک شام ملا نصرالدین بازار سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک اجنبی آدمی کو سڑک کے کنارے پریشان بیٹھے دیکھا۔ ملا نے اس کے قریب جا کر پوچھا: "بھائی! تم اتنے پریشان کیوں ہو؟" اجنبی نے جواب دیا: "میں اس شہر میں نیا ہوں۔ میرا پرس کہیں راستے میں گم ہو گیا ہے۔ میرے پاس کھانے اور گھر واپس جانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔" ملا نصرالدین نے اس کی بات غور سے سنی۔ انہوں نے اپنی جیب میں دیکھا۔ ان کے پاس بھی زیادہ پیسے نہیں تھے، لیکن انہوں نے اپنی کچھ رقم اجنبی کو دے دی۔ ملا نے کہا: "یہ رقم رکھ لو۔ اس سے کھانا کھا لینا اور اپنے گھر واپس جانے کا انتظام کر لینا۔" اجنبی نے حیرت سے پوچھا: "لیکن ملا صاحب، آپ مجھے جانتے بھی نہیں۔ پھر آپ میری مدد کیوں کر رہے ہیں؟" ملا مسکرائے اور بولے: "مدد کرنے کے لیے کسی کو پہلے سے جاننا ضروری نہیں۔ جب کسی انسان کو ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنا ہی کافی وجہ ہے۔" اجنبی نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دن بعد وہی اجنبی ملا نصرالدین کے پاس واپس آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔ اس نے ملا کے پیسے واپس کرنے کی کوشش کی۔ ملا نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا: "اگر واقعی میرا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تو جب کبھی تمہیں کوئی ضرورت مند انسان ملے، اس کی مدد کر دینا۔" اجنبی نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ اس واقعے کے بعد ملا نصرالدین نے خود بھی ایک بات سیکھی۔ انہوں نے سوچا: **"کسی کی مدد کرنے سے صرف دوسرے کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے دل میں بھی خوشی اور انسانیت بڑھتی ہے۔"** ### سبق: **نیکی کرنے کے لیے کسی فائدے یا بدلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹی سی مدد بھی کسی انسان کے لیے بہت بڑی امید بن سکتی ہے۔** ❤️
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 47 Views