Teacher Training book
Day 39,Task 4

Story Post:
Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation

مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت

ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا
یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔
دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔
“یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!”
مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔
گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔
کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔
بادشاہ نے تعجب سے پوچھا:
“مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟”
مُلّا مسکرا کر بولے:
“حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔”
یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔
سبق:
انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔
جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
Teacher Training book Day 39,Task 4 Story Post: Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔ دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔ “یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!” مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔ گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔ کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔ بادشاہ نے تعجب سے پوچھا: “مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟” مُلّا مسکرا کر بولے: “حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔” یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔ سبق: انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔ جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
0 Commentaires 0 Parts 42 Vue