rahan school campus urdu bazar
Roll No 16
foundation level studant
# Day 12 The Clever Plan of Mulla Nasrudin
**Once Upon a Time...**
One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more
# دن 12 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ
**ایک دفعہ کا ذکر ہے...**
ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔
ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“
ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔
کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“
ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“
ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“
ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔
## کہانی کا سبق
**سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
Roll No 16
foundation level studant
# Day 12 The Clever Plan of Mulla Nasrudin
**Once Upon a Time...**
One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more
# دن 12 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ
**ایک دفعہ کا ذکر ہے...**
ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔
ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“
ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔
کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“
ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“
ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“
ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔
## کہانی کا سبق
**سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
rahan school campus urdu bazar
Roll No 16
foundation level studant
# Day 12 📖 The Clever Plan of Mulla Nasrudin
**Once Upon a Time...**
One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more
# دن 12 📖 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ
**ایک دفعہ کا ذکر ہے...**
ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔
ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“
ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔
کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“
ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“
ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“
ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔
## 🌟 کہانی کا سبق
**سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
0 Comentários
0 Compartilhamentos
56 Visualizações