ACCL Foundaton Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
Roll no.29
Day 12:Story post
Titel:. The Cleverness of Mulla Nasrudin —
English Story:
Once upon a time, Mulla Nasrudin had a donkey. One day, some villagers laughed at him and said, “Mulla, your donkey is old and weak. You should sell it because it is not worth much.”
Mulla smiled and replied, “Do not worry! I have a clever plan.”
He decorated his donkey with a beautiful cloth and a crown. Then he rode toward the city.
On the way, people laughed and asked, “Mulla, why have you decorated your donkey like a king?”
Mulla answered cleverly, “This is a very special donkey. I am taking it to the royal palace!”
When he reached the city gate, the guards stopped him and asked what he was doing.
Mulla smiled and said, “I have brought a royal animal. You can ask the king yourself!”
The guards were amused by his clever answer and allowed him to pass.
Mulla continued his journey happily. He had turned a difficult situation into an opportunity through his intelligence and confidence.
Moral: Wisdom and cleverness can help us overcome difficult situations.
2. مولانا نصرالدین کی ہوشیاری — اردو کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولانا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ”مولانا! آپ کا گدھا بوڑھا اور کمزور ہے۔ اسے بیچ دیں، کیونکہ اب اس کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے۔“
مولانا نصرالدین مسکرائے اور بولے، ”فکر نہ کرو! میرے پاس ایک زبردست ترکیب ہے۔“
انہوں نے اپنے گدھے کو خوبصورت کپڑے سے سجایا اور اس کے سر پر ایک تاج رکھ دیا۔ پھر وہ گدھے پر سوار ہو کر شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔
راستے میں لوگوں نے انہیں دیکھا تو ہنسنے لگے اور پوچھا، ”مولانا! آپ نے اپنے گدھے کو بادشاہ کی طرح کیوں سجایا ہے؟“
مولانا نے بڑی ہوشیاری سے جواب دیا، ”یہ کوئی عام گدھا نہیں، بلکہ ایک خاص گدھا ہے۔ میں اسے شاہی محل لے جا رہا ہوں!“
جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو پہرے داروں نے انہیں روک لیا اور پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔
مولانا مسکرائے اور بولے، ”میں ایک شاہی جانور لے کر آیا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا تو بادشاہ سے خود پوچھ لو!“
مولانا کے ہوشیار جواب پر پہرے دار حیران ہوئے اور انہیں جانے دیا۔
اس طرح مولانا نصرالدین نے اپنی عقل، حاضر جوابی اور اعتماد سے مشکل صورتِ حال کو آسان بنا لیا۔
سبق: عقل مندی اور حاضر جوابی سے مشکل حالات کا سامنا کیا جا سکتا ہے
Roll no.29
Day 12:Story post
Titel:. The Cleverness of Mulla Nasrudin —
English Story:
Once upon a time, Mulla Nasrudin had a donkey. One day, some villagers laughed at him and said, “Mulla, your donkey is old and weak. You should sell it because it is not worth much.”
Mulla smiled and replied, “Do not worry! I have a clever plan.”
He decorated his donkey with a beautiful cloth and a crown. Then he rode toward the city.
On the way, people laughed and asked, “Mulla, why have you decorated your donkey like a king?”
Mulla answered cleverly, “This is a very special donkey. I am taking it to the royal palace!”
When he reached the city gate, the guards stopped him and asked what he was doing.
Mulla smiled and said, “I have brought a royal animal. You can ask the king yourself!”
The guards were amused by his clever answer and allowed him to pass.
Mulla continued his journey happily. He had turned a difficult situation into an opportunity through his intelligence and confidence.
Moral: Wisdom and cleverness can help us overcome difficult situations.
2. مولانا نصرالدین کی ہوشیاری — اردو کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولانا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ”مولانا! آپ کا گدھا بوڑھا اور کمزور ہے۔ اسے بیچ دیں، کیونکہ اب اس کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے۔“
مولانا نصرالدین مسکرائے اور بولے، ”فکر نہ کرو! میرے پاس ایک زبردست ترکیب ہے۔“
انہوں نے اپنے گدھے کو خوبصورت کپڑے سے سجایا اور اس کے سر پر ایک تاج رکھ دیا۔ پھر وہ گدھے پر سوار ہو کر شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔
راستے میں لوگوں نے انہیں دیکھا تو ہنسنے لگے اور پوچھا، ”مولانا! آپ نے اپنے گدھے کو بادشاہ کی طرح کیوں سجایا ہے؟“
مولانا نے بڑی ہوشیاری سے جواب دیا، ”یہ کوئی عام گدھا نہیں، بلکہ ایک خاص گدھا ہے۔ میں اسے شاہی محل لے جا رہا ہوں!“
جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو پہرے داروں نے انہیں روک لیا اور پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔
مولانا مسکرائے اور بولے، ”میں ایک شاہی جانور لے کر آیا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا تو بادشاہ سے خود پوچھ لو!“
مولانا کے ہوشیار جواب پر پہرے دار حیران ہوئے اور انہیں جانے دیا۔
اس طرح مولانا نصرالدین نے اپنی عقل، حاضر جوابی اور اعتماد سے مشکل صورتِ حال کو آسان بنا لیا۔
سبق: عقل مندی اور حاضر جوابی سے مشکل حالات کا سامنا کیا جا سکتا ہے
ACCL Foundaton Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
Roll no.29
Day 12:Story post
Titel:. The Cleverness of Mulla Nasrudin —
English Story:
Once upon a time, Mulla Nasrudin had a donkey. One day, some villagers laughed at him and said, “Mulla, your donkey is old and weak. You should sell it because it is not worth much.”
Mulla smiled and replied, “Do not worry! I have a clever plan.”
He decorated his donkey with a beautiful cloth and a crown. Then he rode toward the city.
On the way, people laughed and asked, “Mulla, why have you decorated your donkey like a king?”
Mulla answered cleverly, “This is a very special donkey. I am taking it to the royal palace!”
When he reached the city gate, the guards stopped him and asked what he was doing.
Mulla smiled and said, “I have brought a royal animal. You can ask the king yourself!”
The guards were amused by his clever answer and allowed him to pass.
Mulla continued his journey happily. He had turned a difficult situation into an opportunity through his intelligence and confidence.
Moral: Wisdom and cleverness can help us overcome difficult situations.
2. مولانا نصرالدین کی ہوشیاری — اردو کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولانا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ”مولانا! آپ کا گدھا بوڑھا اور کمزور ہے۔ اسے بیچ دیں، کیونکہ اب اس کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے۔“
مولانا نصرالدین مسکرائے اور بولے، ”فکر نہ کرو! میرے پاس ایک زبردست ترکیب ہے۔“
انہوں نے اپنے گدھے کو خوبصورت کپڑے سے سجایا اور اس کے سر پر ایک تاج رکھ دیا۔ پھر وہ گدھے پر سوار ہو کر شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔
راستے میں لوگوں نے انہیں دیکھا تو ہنسنے لگے اور پوچھا، ”مولانا! آپ نے اپنے گدھے کو بادشاہ کی طرح کیوں سجایا ہے؟“
مولانا نے بڑی ہوشیاری سے جواب دیا، ”یہ کوئی عام گدھا نہیں، بلکہ ایک خاص گدھا ہے۔ میں اسے شاہی محل لے جا رہا ہوں!“
جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو پہرے داروں نے انہیں روک لیا اور پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔
مولانا مسکرائے اور بولے، ”میں ایک شاہی جانور لے کر آیا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا تو بادشاہ سے خود پوچھ لو!“
مولانا کے ہوشیار جواب پر پہرے دار حیران ہوئے اور انہیں جانے دیا۔
اس طرح مولانا نصرالدین نے اپنی عقل، حاضر جوابی اور اعتماد سے مشکل صورتِ حال کو آسان بنا لیا۔
سبق: عقل مندی اور حاضر جوابی سے مشکل حالات کا سامنا کیا جا سکتا ہے
0 Commenti
0 condivisioni
78 Views