عنوان: وہ شخص جس نے صرف عمارتیں نہیں، ایک قوم کی روح بنائی — شاہد عبداللہ کی زندہ داستان

تحریر: ریحان اللہ والا — ایک خواہش کے ساتھ کہ ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے… پوڈکاسٹس میں، کہانیوں میں، اور لوگوں کے دلوں میں۔



ایک ایسے ملک میں جہاں عمارتیں تو بنتی ہیں… مگر اکثر اُن میں لوگوں کی روح نظر نہیں آتی،
وہاں ایک شخص نے خاموشی سے دہائیوں لگا دیں…
صرف اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں، بلکہ خدمت، جذبے اور یقین سے…

یہ کہانی صرف ایک آرکیٹیکٹ کی نہیں ہے۔
یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو لوگ بناتا ہے، قوم بناتا ہے، خواب بناتا ہے۔

نام ہے… شاہد عبداللہ۔



واپسی… جس نے پاکستان کو نیا راستہ دیا

1974…
امریکہ کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ڈگری ہاتھ میں…
سامنے روشن مستقبل… ڈالر، عزت، آسان زندگی…

لیکن شاہد نے وہ فیصلہ کیا جو کم لوگ کرتے ہیں…

وہ واپس آگئے…

پاکستان…
مسائل…
اور ایک مقصد کی طرف…

اپنے بھائی ارشد عبداللہ کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادارہ بنایا —
Arshad Shahid Abdulla (ASA)

یہ صرف کمپنی نہیں تھی…
یہ ایک مشن تھا… پاکستان کو خوبصورت اور باوقار بنانے کا۔



دل جو دیواروں سے آگے سوچتا ہے

شاہد عبداللہ نے صرف عمارتیں نہیں بنائیں…
انہوں نے امید بنائی…

• 2500 سے زیادہ اسکولز — جہاں ہزاروں بچوں کے خواب جنم لیتے ہیں
• ہنر فاؤنڈیشن — جہاں نوجوانوں کو عزت کے ساتھ روزگار سیکھایا جاتا ہے
• Indus Valley School — جہاں تخلیقی ذہن آزاد ہوتے ہیں
• اسپتال، فیکٹریاں، پارکس، سڑکیں… اور یہاں تک کہ پبلک ٹوائلٹس

لوگ کہتے ہیں یہ پروجیکٹس ہیں…
مگر شاہد کے لیے… یہ دعائیں ہیں… جو شکل اختیار کر گئی ہیں۔



جب ماضی کو بچایا گیا… مستقبل کے لیے

ایک صدی پرانی عمارت…
Nusserwanjee Building

توڑ دی جاتی… ختم ہو جاتی…
لیکن شاہد عبداللہ نے کیا کیا؟

اسے ایک ایک پتھر سے اٹھا کر…
پورا کا پورا منتقل کر دیا…

کیوں؟

کیونکہ وہ جانتے تھے…

“جو قوم اپنا ماضی بھول جائے… وہ مستقبل نہیں بنا سکتی۔”



خاموش عظمت… جو شور نہیں کرتی

Pride of Performance…
Sitara-e-Imtiaz…

ایوارڈز ملے… عزت ملی…
لیکن وہ آج بھی ویسے ہی ہیں…

خاموش…
کام میں مصروف…
لوگوں کے لیے کچھ اور کرنے میں لگے ہوئے…

انہوں نے کام کیا:

• Expo 2020 Pakistan Pavilion
• NICVD Trust — دل کے مریضوں کے لیے امید
• Nehr-e-Khayyam — کراچی کے لیے ایک نیا خواب



میری خواہش — ریحان اللہ والا

میں ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں…

ایسے لوگ کتابوں میں نہیں چھپنے چاہئیں…
میٹنگز میں نہیں گم ہونے چاہئیں…

میں چاہتا ہوں:

شاہد عبداللہ کی آواز دنیا سنے۔

وہ سینکڑوں پوڈکاسٹس میں آئیں…
یوٹیوب پر آئیں…
ہر بچے تک پہنچیں…

تاکہ ہر نوجوان یہ سمجھے کہ
ایک پینسل، ایک مقصد، اور اپنے ملک سے محبت…
دنیا بدل سکتی ہے۔

ہم نے بہت سیلیبریٹیز کو سن لیا…

اب وقت ہے کہ
اصل ہیروز بولیں۔



آخری بات…

اگر عمارتیں بول سکتی ہوتیں…
تو وہ کہتیں:

“اس نے ہمیں آسمان کو چھونے کے لیے نہیں بنایا…
اس نے ہمیں انسانوں کو اوپر اٹھانے کے لیے بنایا ہے۔”

اور شاید یہی وجہ ہے کہ
وہ صرف ایک آرکیٹیکٹ نہیں…

بلکہ
محبت، حوصلے اور خاموش انقلاب کی ایک زندہ علامت ہیں۔



آج وہ ریحان اسکول آئے…
ہمیں حوصلہ دیا… ہمیں سکھایا… ہمیں بڑا سوچنے کی ہمت دی…

دل سے شکریہ شاہد عبداللہ صاحب
عنوان: وہ شخص جس نے صرف عمارتیں نہیں، ایک قوم کی روح بنائی — شاہد عبداللہ کی زندہ داستان تحریر: ریحان اللہ والا — ایک خواہش کے ساتھ کہ ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے… پوڈکاسٹس میں، کہانیوں میں، اور لوگوں کے دلوں میں۔ ⸻ ایک ایسے ملک میں جہاں عمارتیں تو بنتی ہیں… مگر اکثر اُن میں لوگوں کی روح نظر نہیں آتی، وہاں ایک شخص نے خاموشی سے دہائیوں لگا دیں… صرف اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں، بلکہ خدمت، جذبے اور یقین سے… یہ کہانی صرف ایک آرکیٹیکٹ کی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو لوگ بناتا ہے، قوم بناتا ہے، خواب بناتا ہے۔ نام ہے… شاہد عبداللہ۔ ⸻ واپسی… جس نے پاکستان کو نیا راستہ دیا 1974… امریکہ کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ڈگری ہاتھ میں… سامنے روشن مستقبل… ڈالر، عزت، آسان زندگی… لیکن شاہد نے وہ فیصلہ کیا جو کم لوگ کرتے ہیں… وہ واپس آگئے… پاکستان… مسائل… اور ایک مقصد کی طرف… اپنے بھائی ارشد عبداللہ کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادارہ بنایا — Arshad Shahid Abdulla (ASA) یہ صرف کمپنی نہیں تھی… یہ ایک مشن تھا… پاکستان کو خوبصورت اور باوقار بنانے کا۔ ⸻ دل جو دیواروں سے آگے سوچتا ہے شاہد عبداللہ نے صرف عمارتیں نہیں بنائیں… انہوں نے امید بنائی… • 2500 سے زیادہ اسکولز — جہاں ہزاروں بچوں کے خواب جنم لیتے ہیں • ہنر فاؤنڈیشن — جہاں نوجوانوں کو عزت کے ساتھ روزگار سیکھایا جاتا ہے • Indus Valley School — جہاں تخلیقی ذہن آزاد ہوتے ہیں • اسپتال، فیکٹریاں، پارکس، سڑکیں… اور یہاں تک کہ پبلک ٹوائلٹس لوگ کہتے ہیں یہ پروجیکٹس ہیں… مگر شاہد کے لیے… یہ دعائیں ہیں… جو شکل اختیار کر گئی ہیں۔ ⸻ جب ماضی کو بچایا گیا… مستقبل کے لیے ایک صدی پرانی عمارت… Nusserwanjee Building توڑ دی جاتی… ختم ہو جاتی… لیکن شاہد عبداللہ نے کیا کیا؟ اسے ایک ایک پتھر سے اٹھا کر… پورا کا پورا منتقل کر دیا… کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے تھے… “جو قوم اپنا ماضی بھول جائے… وہ مستقبل نہیں بنا سکتی۔” ⸻ خاموش عظمت… جو شور نہیں کرتی Pride of Performance… Sitara-e-Imtiaz… ایوارڈز ملے… عزت ملی… لیکن وہ آج بھی ویسے ہی ہیں… خاموش… کام میں مصروف… لوگوں کے لیے کچھ اور کرنے میں لگے ہوئے… انہوں نے کام کیا: • Expo 2020 Pakistan Pavilion • NICVD Trust — دل کے مریضوں کے لیے امید • Nehr-e-Khayyam — کراچی کے لیے ایک نیا خواب ⸻ میری خواہش — ریحان اللہ والا میں ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں… ایسے لوگ کتابوں میں نہیں چھپنے چاہئیں… میٹنگز میں نہیں گم ہونے چاہئیں… میں چاہتا ہوں: شاہد عبداللہ کی آواز دنیا سنے۔ وہ سینکڑوں پوڈکاسٹس میں آئیں… یوٹیوب پر آئیں… ہر بچے تک پہنچیں… تاکہ ہر نوجوان یہ سمجھے کہ ایک پینسل، ایک مقصد، اور اپنے ملک سے محبت… دنیا بدل سکتی ہے۔ ہم نے بہت سیلیبریٹیز کو سن لیا… اب وقت ہے کہ اصل ہیروز بولیں۔ ⸻ آخری بات… اگر عمارتیں بول سکتی ہوتیں… تو وہ کہتیں: “اس نے ہمیں آسمان کو چھونے کے لیے نہیں بنایا… اس نے ہمیں انسانوں کو اوپر اٹھانے کے لیے بنایا ہے۔” اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک آرکیٹیکٹ نہیں… بلکہ محبت، حوصلے اور خاموش انقلاب کی ایک زندہ علامت ہیں۔ ⸻ آج وہ ریحان اسکول آئے… ہمیں حوصلہ دیا… ہمیں سکھایا… ہمیں بڑا سوچنے کی ہمت دی… دل سے شکریہ شاہد عبداللہ صاحب ❤️
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 92 Views 0