ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے
آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔
وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:
خالص زیتون کا تیل
اصل شہد
دیسی گھی
یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…
آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لیکن ایک سوال ہے:
کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟
میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔
میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:
انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:
ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔
ذرا تصور کریں…
اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟
وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔
اور پھر…
وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔
جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔
رابطہ:
+92 305 9736377
Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood
— ریحان اللہ والا
آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔
وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:
خالص زیتون کا تیل
اصل شہد
دیسی گھی
یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…
آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لیکن ایک سوال ہے:
کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟
میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔
میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:
انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:
ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔
ذرا تصور کریں…
اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟
وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔
اور پھر…
وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔
جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔
رابطہ:
+92 305 9736377
Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood
— ریحان اللہ والا
🔥 ملاقات: سابق ایم پی اے خیبر پختونخوا حافظ عصام الدین قریشی محسود سے
آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری ملاقات حافظ عصام الدین قریشی محسود صاحب سے ہوئی — جو جنوبی وزیرستان کے ایک باوقار عالمِ دین، حدیث کے استاد، اسلامی علوم میں ایم فل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن (MPA) رہ چکے ہیں۔
وہ جمعیت علماء اسلام (JUI) سے وابستہ رہے ہیں اور اپنے علاقے میں ایک بااثر مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سیاست یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
وزیرستان کی زمین کی خالص نعمتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے وہ یہ مصنوعات فروغ دے رہے ہیں:
🌿 خالص زیتون کا تیل
🍯 اصل شہد
🧈 دیسی گھی
یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو وزیرستان کی زمین سے نکلتی ہیں اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ملاقات کے دوران ہم نے ایک بہت اہم موضوع پر گفتگو کی…
آج دنیا تیزی سے Artificial Intelligence، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لیکن ایک سوال ہے:
❓ کیا وزیرستان، فاٹا اور پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ بھی اس نئی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں؟
میرا جواب تھا: جی ہاں، بالکل بن سکتے ہیں۔
میں نے انہیں بتایا کہ Rehan School میں ہم ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں بچے:
💻 انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مہارتیں سیکھتے ہیں
🤖 AI کے ساتھ کام کرنا سیکھتے ہیں
🎤 اعتماد اور مضبوط گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں
📱 سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو سمجھتے ہیں
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:
💰 ہمارے کئی طلبہ 6 سے 18 مہینے کے اندر اپنی اسکول فیس خود کمانا شروع کر دیتے ہیں۔
ذرا تصور کریں…
اگر یہی نظام وزیرستان کے نوجوانوں تک پہنچ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟
وہ نوجوان جو آج صرف نوکری ڈھونڈتے ہیں،
کل دنیا بھر کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسر، کاروباری افراد اور لیڈر بن سکتے ہیں۔
اور پھر…
🌍 وزیرستان صرف خبروں میں نہیں
بلکہ دنیا کے نقشے پر علم، کردار اور معیشت کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔
جب علمِ دین، سیاسی تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ آ جائیں تو معاشرے بدل جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ پاکستان کے ہر علاقے — خاص طور پر وزیرستان — کے نوجوانوں کو
علم، AI، انٹرنیٹ اور روزگار کے نئے راستوں سے جوڑ سکیں۔
📞 رابطہ:
+92 305 9736377
📘 Facebook: Hafiz Isamuddin Qureshi Mehsood
— ریحان اللہ والا
0 Reacties
0 aandelen
105 Views
0