آج میں نے عثمان چغتائی صاحب کو ایک بہت اہم چیز سمجھائی۔

میں نے کہا:

یہ صرف ہماری بات نہیں۔
یہ صرف ہمارے ادارے کے لیے نہیں۔
یہ پورے پاکستان کے ہر اسکول اور ہر مدرسے کے لیے ہے۔

ہم نے جو ACCL سسٹم اور 5,000 روپے ماہانہ کتابی ماڈل بنایا ہے —
وہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔

یہ اُن تمام اسکولوں اور مدارس کے لیے ہے جو:

• اپنے طلبہ کو AI سکھانا چاہتے ہیں
• چاہتے ہیں کہ بچے خود کمائیں
• چاہتے ہیں کہ طلبہ اپنی فیس خود ادا کریں
• چاہتے ہیں کہ تعلیم بوجھ نہ رہے بلکہ طاقت بن جائے

میں نے وضاحت کی:

یہ 5,000 روپے کی کتاب صرف کتاب نہیں ہے۔
یہ ایک مکمل ایکشن سسٹم ہے۔
روزانہ ٹاسکس۔
روزانہ AI پریکٹس۔
روزانہ کمیونیکیشن مشق۔
روزانہ کمائی کی تیاری۔

اگر ایک بچہ 12 سے 18 مہینے میں اپنی 5,000 روپے فیس خود دینا شروع کر دے —
تو اُس کے اندر جو تبدیلی آتی ہے،
وہ نصاب سے نہیں…
ذمہ داری سے آتی ہے۔

میں نے کہا:

ہم نہیں چاہتے کہ بچے صرف ڈگری لیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود کھڑے ہوں۔

اور یہ سسٹم کسی کے لیے بھی اوپن ہے۔

پاکستان کا کوئی بھی اسکول، کوئی بھی مدرسہ،
یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے
اور اپنے طلبہ کو AI اور خود کفالت کی تربیت دے سکتا ہے۔

کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:

rehanschool.com/books

فیصلہ اب اداروں کا ہے۔
وہ بچوں کو صرف پڑھائیں گے…
یا انہیں خود کمانا بھی سکھائیں گے؟

— ریحان اللہ والا
آج میں نے عثمان چغتائی صاحب کو ایک بہت اہم چیز سمجھائی۔ میں نے کہا: یہ صرف ہماری بات نہیں۔ یہ صرف ہمارے ادارے کے لیے نہیں۔ یہ پورے پاکستان کے ہر اسکول اور ہر مدرسے کے لیے ہے۔ ہم نے جو ACCL سسٹم اور 5,000 روپے ماہانہ کتابی ماڈل بنایا ہے — وہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ یہ اُن تمام اسکولوں اور مدارس کے لیے ہے جو: • اپنے طلبہ کو AI سکھانا چاہتے ہیں • چاہتے ہیں کہ بچے خود کمائیں • چاہتے ہیں کہ طلبہ اپنی فیس خود ادا کریں • چاہتے ہیں کہ تعلیم بوجھ نہ رہے بلکہ طاقت بن جائے میں نے وضاحت کی: یہ 5,000 روپے کی کتاب صرف کتاب نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل ایکشن سسٹم ہے۔ روزانہ ٹاسکس۔ روزانہ AI پریکٹس۔ روزانہ کمیونیکیشن مشق۔ روزانہ کمائی کی تیاری۔ اگر ایک بچہ 12 سے 18 مہینے میں اپنی 5,000 روپے فیس خود دینا شروع کر دے — تو اُس کے اندر جو تبدیلی آتی ہے، وہ نصاب سے نہیں… ذمہ داری سے آتی ہے۔ میں نے کہا: ہم نہیں چاہتے کہ بچے صرف ڈگری لیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود کھڑے ہوں۔ اور یہ سسٹم کسی کے لیے بھی اوپن ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی اسکول، کوئی بھی مدرسہ، یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے اور اپنے طلبہ کو AI اور خود کفالت کی تربیت دے سکتا ہے۔ کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے: rehanschool.com/books فیصلہ اب اداروں کا ہے۔ وہ بچوں کو صرف پڑھائیں گے… یا انہیں خود کمانا بھی سکھائیں گے؟ — ریحان اللہ والا
0 Commenti 0 condivisioni 63 Views 0