آج میں نے سائمہ Saima Happinesswali کا انٹرویو لیا۔

وہ ایک سال پہلے ہمارے ساتھ جُڑی تھیں۔
خاموش۔ نظرانداز۔ خود سے ناواقف۔

اور آج انہوں نے ایک جملہ کہا جو دل میں اُتر گیا:

“اس اسکول سے پہلے مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ میں بھی کوئی ہوں۔”

یہ جملہ صرف ایک کہانی نہیں —
یہ ہمارے تعلیمی نظام پر ایک خاموش الزام ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو ہنر نہیں سکھائے جاتے،
مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی پہچان نہیں دی جاتی۔

ایک سال میں سائمہ نے صرف کچھ نہیں سیکھا،
انہوں نے خود کو پایا۔

انہوں نے سیکھا:
• بولنا
• نظر آنا
• اپنی موجودگی کو اہم سمجھنا
• یہ ماننا کہ وہ معنی رکھتی ہیں

یہی اصل تبدیلی ہے۔

ہم نمبر بنانے والے نہیں بناتے،
ہم انسان جگاتے ہیں۔

کیونکہ جس دن کوئی انسان یہ جان لے کہ
“میں بھی کوئی ہوں”
اس دن کے بعد اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
آج میں نے سائمہ Saima Happinesswali کا انٹرویو لیا۔ وہ ایک سال پہلے ہمارے ساتھ جُڑی تھیں۔ خاموش۔ نظرانداز۔ خود سے ناواقف۔ اور آج انہوں نے ایک جملہ کہا جو دل میں اُتر گیا: “اس اسکول سے پہلے مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ میں بھی کوئی ہوں۔” یہ جملہ صرف ایک کہانی نہیں — یہ ہمارے تعلیمی نظام پر ایک خاموش الزام ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو ہنر نہیں سکھائے جاتے، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی پہچان نہیں دی جاتی۔ ایک سال میں سائمہ نے صرف کچھ نہیں سیکھا، انہوں نے خود کو پایا۔ انہوں نے سیکھا: • بولنا • نظر آنا • اپنی موجودگی کو اہم سمجھنا • یہ ماننا کہ وہ معنی رکھتی ہیں یہی اصل تبدیلی ہے۔ ہم نمبر بنانے والے نہیں بناتے، ہم انسان جگاتے ہیں۔ کیونکہ جس دن کوئی انسان یہ جان لے کہ “میں بھی کوئی ہوں” اس دن کے بعد اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
0 Comments 0 Shares 163 Views 0