یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔
یہ ایک گواہی ہے۔
یہ ایک تصدیق ہے۔
یہ ایک امید ہے۔
جب فیصل ایدھی جیسے انسان—
جو روز انسانیت کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں،
جو دکھ، درد، بھوک اور بے بسی کے بیچ جیتے ہیں—
کسی ادارے کے بارے میں خود کھڑے ہو کر بولیں،
تو وہ تعریف نہیں ہوتی…
وہ وزن دار سچ ہوتا ہے۔
انہوں نے ریحان اسکول میں آ کر یہ نہیں دیکھا کہ
عمارت کتنی بڑی ہے،
دیواریں کتنی نئی ہیں،
یا کرسیاں کتنی مہنگی ہیں۔
انہوں نے یہ دیکھا کہ
یہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں ہیں،
یہاں بچے خاموش نہیں ہیں،
یہاں بچے سوچ رہے ہیں، بول رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں۔
یہ وہ اسکول ہے جہاں
بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا،
انہیں انسان بنایا جاتا ہے،
انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ہے،
انہیں خدمت اور قیادت کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔
ایدھی صاحب کی وراثت
ایمبولینسوں تک محدود نہیں تھی،
وہ انسانیت کی تیاری تھی۔
اور اگر آج ان کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ
یہ اسکول درست سمت میں ہے—
تو یہ ہمارے لیے فخر بھی ہے
اور ذمہ داری بھی۔
کیونکہ اب یہ صرف ہمارا خواب نہیں رہا۔
یہ ایک قومی امانت بن چکا ہے۔
ریحان اسکول
جہاں بچے نمبر نہیں…
اثر (Impact) سیکھتے ہیں۔
یہ ایک گواہی ہے۔
یہ ایک تصدیق ہے۔
یہ ایک امید ہے۔
جب فیصل ایدھی جیسے انسان—
جو روز انسانیت کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں،
جو دکھ، درد، بھوک اور بے بسی کے بیچ جیتے ہیں—
کسی ادارے کے بارے میں خود کھڑے ہو کر بولیں،
تو وہ تعریف نہیں ہوتی…
وہ وزن دار سچ ہوتا ہے۔
انہوں نے ریحان اسکول میں آ کر یہ نہیں دیکھا کہ
عمارت کتنی بڑی ہے،
دیواریں کتنی نئی ہیں،
یا کرسیاں کتنی مہنگی ہیں۔
انہوں نے یہ دیکھا کہ
یہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں ہیں،
یہاں بچے خاموش نہیں ہیں،
یہاں بچے سوچ رہے ہیں، بول رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں۔
یہ وہ اسکول ہے جہاں
بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا،
انہیں انسان بنایا جاتا ہے،
انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ہے،
انہیں خدمت اور قیادت کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔
ایدھی صاحب کی وراثت
ایمبولینسوں تک محدود نہیں تھی،
وہ انسانیت کی تیاری تھی۔
اور اگر آج ان کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ
یہ اسکول درست سمت میں ہے—
تو یہ ہمارے لیے فخر بھی ہے
اور ذمہ داری بھی۔
کیونکہ اب یہ صرف ہمارا خواب نہیں رہا۔
یہ ایک قومی امانت بن چکا ہے۔
ریحان اسکول
جہاں بچے نمبر نہیں…
اثر (Impact) سیکھتے ہیں۔
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہے۔
یہ ایک گواہی ہے۔
یہ ایک تصدیق ہے۔
یہ ایک امید ہے۔
جب فیصل ایدھی جیسے انسان—
جو روز انسانیت کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں،
جو دکھ، درد، بھوک اور بے بسی کے بیچ جیتے ہیں—
کسی ادارے کے بارے میں خود کھڑے ہو کر بولیں،
تو وہ تعریف نہیں ہوتی…
وہ وزن دار سچ ہوتا ہے۔
انہوں نے ریحان اسکول میں آ کر یہ نہیں دیکھا کہ
عمارت کتنی بڑی ہے،
دیواریں کتنی نئی ہیں،
یا کرسیاں کتنی مہنگی ہیں۔
انہوں نے یہ دیکھا کہ
یہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں ہیں،
یہاں بچے خاموش نہیں ہیں،
یہاں بچے سوچ رہے ہیں، بول رہے ہیں، خواب دیکھ رہے ہیں۔
یہ وہ اسکول ہے جہاں
بچوں کو صرف نصاب نہیں پڑھایا جاتا،
انہیں انسان بنایا جاتا ہے،
انہیں ذمہ دار بنایا جاتا ہے،
انہیں خدمت اور قیادت کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔
ایدھی صاحب کی وراثت
ایمبولینسوں تک محدود نہیں تھی،
وہ انسانیت کی تیاری تھی۔
اور اگر آج ان کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ
یہ اسکول درست سمت میں ہے—
تو یہ ہمارے لیے فخر بھی ہے
اور ذمہ داری بھی۔
کیونکہ اب یہ صرف ہمارا خواب نہیں رہا۔
یہ ایک قومی امانت بن چکا ہے۔
ریحان اسکول
جہاں بچے نمبر نہیں…
اثر (Impact) سیکھتے ہیں۔
0 تبصرے
0 شیئرز
137 ویوز
0