آج میری ملاقات مولانا شوکت علی سے ہوئی —
جنہوں نے جامعہ رشید کراچی میں دس سال سے زیادہ عرصہ عالم کی تربیت حاصل کی۔
ان کے والد نے 2004 میں بہادرآباد، عالمگیر روڈ کراچی پر
کوئٹہ عالمگیر ہوٹل کی بنیاد رکھی۔
آج ماشاءاللہ،
ان کے رشتے دار مل کر اسی ایک علاقے میں 11 ہوٹل چلا رہے ہیں۔
یہ صرف ہوٹل نہیں، ایک کامیاب خاندانی بزنس ماڈل ہے۔
گفتگو کے دوران ایک بات بہت دل کو لگی:
“اگر امریکہ کی اسٹاربکس 30,000 سے زیادہ چائے اور کافی کی دکانیں بنا سکتی ہے
تو ہم کیوں نہیں؟”
اسی لمحے ہم نے ایک واضح ہدف طے کیا:
• اگلے 20 سال میں 5,000 دکانیں
• اور اس کے بعد 30 سال میں 50,000 چائے کی دکانیں
تاکہ دنیا بھر میں لوگ
پاکستانی ذائقے سے فیض حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا:
“ہمارے پاس آدمیوں کی کمی ہے”
میں نے کہا:
“پاکستان میں مسئلہ انسانوں کی کمی نہیں،
مسئلہ انسانوں کی تیاری کا ہے”
پھر میں نے ایک آئیڈیا رکھا:
کیوں نہ ایک “چائے کا کالج” بنایا جائے؟
جہاں:
• چائے بنانا
• چائے سرونگ
• معیار
• اخلاق
• نظم
• بزنس سمجھ
2 سے 4 سال میں باقاعدہ سکھایا جائے
جو بچہ گریجویٹ ہو:
• اس کے ہاتھ میں ڈپلومہ ہو
• اور پھر اسی کے ساتھ مل کر نئی دکانیں کھولی جائیں
اسی طرح:
• 5,000 دکانیں بھی ممکن ہیں
• اور 50,000 بھی
یہ بات انہیں سمجھ بھی آئی
اور خوشی بھی ہوئی
کہ ہاں — یہ ہم کر سکتے ہیں۔
اب یہی بات میں آپ سے بھی کہنا چاہتا ہوں:
اگر آپ:
• ایک چائے کی دکان چلاتے ہیں
• ایک کافی شاپ
• ایک چاٹ کا ٹھیا
• بریانی، نہاری، سموسہ یا کوئی بھی کھانے کا بزنس
تو اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ یاد رکھیں:
انسان
پاکستان میں ہر سال 70 لاکھ نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
آپ ان کے لیے:
• فیکٹری لگائیں
• جسے اسکول اور کالج کہتے ہیں
• اپنا کورکلم بنائیں
• ChatGPT اور اپنے تجربے کی مدد سے
• انہیں سکھائیں
• ان سے کام کروائیں
• اور پھر پارٹنرشپ کے ساتھ فرنچائز بنائیں
اسی طرح:
• کاروبار بھی بڑھے گا
• بے روزگاری بھی کم ہوگی
• اور پاکستان کا نام بھی
اب سوال آپ سے ہے:
آپ کس ریسٹورانٹ، کس دکان، کس ذائقے کو
دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ
پورے پاکستان، پھر پوری دنیا میں پھیل جائے؟
کمنٹ میں نام لکھیں —
شاید اگلا “اسٹاربکس”
یہیں سے نکلے۔
⸻
جنہوں نے جامعہ رشید کراچی میں دس سال سے زیادہ عرصہ عالم کی تربیت حاصل کی۔
ان کے والد نے 2004 میں بہادرآباد، عالمگیر روڈ کراچی پر
کوئٹہ عالمگیر ہوٹل کی بنیاد رکھی۔
آج ماشاءاللہ،
ان کے رشتے دار مل کر اسی ایک علاقے میں 11 ہوٹل چلا رہے ہیں۔
یہ صرف ہوٹل نہیں، ایک کامیاب خاندانی بزنس ماڈل ہے۔
گفتگو کے دوران ایک بات بہت دل کو لگی:
“اگر امریکہ کی اسٹاربکس 30,000 سے زیادہ چائے اور کافی کی دکانیں بنا سکتی ہے
تو ہم کیوں نہیں؟”
اسی لمحے ہم نے ایک واضح ہدف طے کیا:
• اگلے 20 سال میں 5,000 دکانیں
• اور اس کے بعد 30 سال میں 50,000 چائے کی دکانیں
تاکہ دنیا بھر میں لوگ
پاکستانی ذائقے سے فیض حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا:
“ہمارے پاس آدمیوں کی کمی ہے”
میں نے کہا:
“پاکستان میں مسئلہ انسانوں کی کمی نہیں،
مسئلہ انسانوں کی تیاری کا ہے”
پھر میں نے ایک آئیڈیا رکھا:
کیوں نہ ایک “چائے کا کالج” بنایا جائے؟
جہاں:
• چائے بنانا
• چائے سرونگ
• معیار
• اخلاق
• نظم
• بزنس سمجھ
2 سے 4 سال میں باقاعدہ سکھایا جائے
جو بچہ گریجویٹ ہو:
• اس کے ہاتھ میں ڈپلومہ ہو
• اور پھر اسی کے ساتھ مل کر نئی دکانیں کھولی جائیں
اسی طرح:
• 5,000 دکانیں بھی ممکن ہیں
• اور 50,000 بھی
یہ بات انہیں سمجھ بھی آئی
اور خوشی بھی ہوئی
کہ ہاں — یہ ہم کر سکتے ہیں۔
اب یہی بات میں آپ سے بھی کہنا چاہتا ہوں:
اگر آپ:
• ایک چائے کی دکان چلاتے ہیں
• ایک کافی شاپ
• ایک چاٹ کا ٹھیا
• بریانی، نہاری، سموسہ یا کوئی بھی کھانے کا بزنس
تو اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ یاد رکھیں:
انسان
پاکستان میں ہر سال 70 لاکھ نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
آپ ان کے لیے:
• فیکٹری لگائیں
• جسے اسکول اور کالج کہتے ہیں
• اپنا کورکلم بنائیں
• ChatGPT اور اپنے تجربے کی مدد سے
• انہیں سکھائیں
• ان سے کام کروائیں
• اور پھر پارٹنرشپ کے ساتھ فرنچائز بنائیں
اسی طرح:
• کاروبار بھی بڑھے گا
• بے روزگاری بھی کم ہوگی
• اور پاکستان کا نام بھی
اب سوال آپ سے ہے:
آپ کس ریسٹورانٹ، کس دکان، کس ذائقے کو
دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ
پورے پاکستان، پھر پوری دنیا میں پھیل جائے؟
کمنٹ میں نام لکھیں —
شاید اگلا “اسٹاربکس”
یہیں سے نکلے۔
⸻
آج میری ملاقات مولانا شوکت علی سے ہوئی —
جنہوں نے جامعہ رشید کراچی میں دس سال سے زیادہ عرصہ عالم کی تربیت حاصل کی۔
ان کے والد نے 2004 میں بہادرآباد، عالمگیر روڈ کراچی پر
کوئٹہ عالمگیر ہوٹل کی بنیاد رکھی۔
آج ماشاءاللہ،
ان کے رشتے دار مل کر اسی ایک علاقے میں 11 ہوٹل چلا رہے ہیں۔
یہ صرف ہوٹل نہیں، ایک کامیاب خاندانی بزنس ماڈل ہے۔
گفتگو کے دوران ایک بات بہت دل کو لگی:
“اگر امریکہ کی اسٹاربکس 30,000 سے زیادہ چائے اور کافی کی دکانیں بنا سکتی ہے
تو ہم کیوں نہیں؟”
اسی لمحے ہم نے ایک واضح ہدف طے کیا:
• اگلے 20 سال میں 5,000 دکانیں
• اور اس کے بعد 30 سال میں 50,000 چائے کی دکانیں
تاکہ دنیا بھر میں لوگ
پاکستانی ذائقے سے فیض حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا:
“ہمارے پاس آدمیوں کی کمی ہے”
میں نے کہا:
“پاکستان میں مسئلہ انسانوں کی کمی نہیں،
مسئلہ انسانوں کی تیاری کا ہے”
پھر میں نے ایک آئیڈیا رکھا:
کیوں نہ ایک “چائے کا کالج” بنایا جائے؟
جہاں:
• چائے بنانا
• چائے سرونگ
• معیار
• اخلاق
• نظم
• بزنس سمجھ
2 سے 4 سال میں باقاعدہ سکھایا جائے
جو بچہ گریجویٹ ہو:
• اس کے ہاتھ میں ڈپلومہ ہو
• اور پھر اسی کے ساتھ مل کر نئی دکانیں کھولی جائیں
اسی طرح:
• 5,000 دکانیں بھی ممکن ہیں
• اور 50,000 بھی
یہ بات انہیں سمجھ بھی آئی
اور خوشی بھی ہوئی
کہ ہاں — یہ ہم کر سکتے ہیں۔
اب یہی بات میں آپ سے بھی کہنا چاہتا ہوں:
اگر آپ:
• ایک چائے کی دکان چلاتے ہیں
• ایک کافی شاپ
• ایک چاٹ کا ٹھیا
• بریانی، نہاری، سموسہ یا کوئی بھی کھانے کا بزنس
تو اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ یاد رکھیں:
انسان
پاکستان میں ہر سال 70 لاکھ نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
آپ ان کے لیے:
• فیکٹری لگائیں
• جسے اسکول اور کالج کہتے ہیں
• اپنا کورکلم بنائیں
• ChatGPT اور اپنے تجربے کی مدد سے
• انہیں سکھائیں
• ان سے کام کروائیں
• اور پھر پارٹنرشپ کے ساتھ فرنچائز بنائیں
اسی طرح:
• کاروبار بھی بڑھے گا
• بے روزگاری بھی کم ہوگی
• اور پاکستان کا نام بھی
اب سوال آپ سے ہے:
آپ کس ریسٹورانٹ، کس دکان، کس ذائقے کو
دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ
پورے پاکستان، پھر پوری دنیا میں پھیل جائے؟
کمنٹ میں نام لکھیں —
شاید اگلا “اسٹاربکس”
یہیں سے نکلے۔
⸻
0 Comments
0 Shares
167 Views
0