Thank you mufti Molana Jahan Yaqoob

اِک بندہ وَکھراسا!!
#مولانا_محمد_جہان_یعقوب
بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔
یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔
دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے!
سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔
سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔
ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔
اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔)
Thank you mufti Molana Jahan Yaqoob اِک بندہ وَکھراسا!! #مولانا_محمد_جہان_یعقوب بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔ یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔ دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے! سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔ سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔ ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔ اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔)
0 تبصرے 0 شیئرز 169 ویوز 0