Today my story post no 189
Jai Parkash EducationWala
Rehan School Korangi Campus
A boy stood in the middle of the mountains and shouted, "Im useless!" The echo came back, "Im useless!" He felt worse. Then he shouted, "Im strong!" and heard, "Im strong!" back. He realized the world reflects what you send out.
ایک لڑکا پہاڑوں کے بیچ کھڑا ہو کر چلایا، "میں ناکام ہوں!" جواب میں گونج آئی، "میں ناکام ہوں!" وہ مزید اداس ہوا۔ پھر وہ بولا، "میں مضبوط ہوں!" اور گونج آئی، "میں مضبوط ہوں!" اُسے احساس ہوا کہ دنیا وہی لوٹاتی ہے جو ہم دیتے ہیں۔
سبق: مثبت بات کرو، دنیا تمہیں وہی واپس دیتی ہے۔
Jai Parkash EducationWala
Rehan School Korangi Campus
A boy stood in the middle of the mountains and shouted, "Im useless!" The echo came back, "Im useless!" He felt worse. Then he shouted, "Im strong!" and heard, "Im strong!" back. He realized the world reflects what you send out.
ایک لڑکا پہاڑوں کے بیچ کھڑا ہو کر چلایا، "میں ناکام ہوں!" جواب میں گونج آئی، "میں ناکام ہوں!" وہ مزید اداس ہوا۔ پھر وہ بولا، "میں مضبوط ہوں!" اور گونج آئی، "میں مضبوط ہوں!" اُسے احساس ہوا کہ دنیا وہی لوٹاتی ہے جو ہم دیتے ہیں۔
سبق: مثبت بات کرو، دنیا تمہیں وہی واپس دیتی ہے۔
Today my story post no 189
Jai Parkash EducationWala
Rehan School Korangi Campus
A boy stood in the middle of the mountains and shouted, "I'm useless!" The echo came back, "I'm useless!" He felt worse. Then he shouted, "I'm strong!" and heard, "I'm strong!" back. He realized the world reflects what you send out.
ایک لڑکا پہاڑوں کے بیچ کھڑا ہو کر چلایا، "میں ناکام ہوں!" جواب میں گونج آئی، "میں ناکام ہوں!" وہ مزید اداس ہوا۔ پھر وہ بولا، "میں مضبوط ہوں!" اور گونج آئی، "میں مضبوط ہوں!" اُسے احساس ہوا کہ دنیا وہی لوٹاتی ہے جو ہم دیتے ہیں۔
سبق: مثبت بات کرو، دنیا تمہیں وہی واپس دیتی ہے۔
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
34 Views