آج شہیدِ بھٹو ایکسپریس وے پر سفر کرتے ہوئے، دریائے ملیر کے ساتھ ساتھ کئی میل تک خشک دریا دیکھتا رہا۔

اور پھر ایک سوال نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا…

کیا ہم ہر سال آنے والا بارشوں اور سیلاب کا کروڑوں گیلن پانی سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کے لیے ترس رہا ہے؟

یورپ کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی میں نے ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھے ہیں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔

تو کیا دریائے ملیر کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

بارش کا پانی محفوظ ہو۔
کراچی کو پانی ملے۔
اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید نظام کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا جائے۔

میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔

میں صرف یہ سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟

اگر آپ کسی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا سرکاری ادارے کے ذمہ دار کو جانتے ہیں تو براہِ کرم یہ پوسٹ اُن تک پہنچائیں۔

ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کا مستقبل بدل دے۔
آج شہیدِ بھٹو ایکسپریس وے پر سفر کرتے ہوئے، دریائے ملیر کے ساتھ ساتھ کئی میل تک خشک دریا دیکھتا رہا۔ اور پھر ایک سوال نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا… کیا ہم ہر سال آنے والا بارشوں اور سیلاب کا کروڑوں گیلن پانی سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ کراچی پانی کے لیے ترس رہا ہے؟ یورپ کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی میں نے ایسے ڈیم اور آبی ذخائر دیکھے ہیں جو بارش کا پانی محفوظ کرتے ہیں۔ تو کیا دریائے ملیر کے کسی حصے کو ایک بڑے موسمی آبی ذخیرے (Reservoir) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ بارش کا پانی محفوظ ہو۔ کراچی کو پانی ملے۔ اور اگر بڑا سیلاب آئے تو جدید نظام کے ذریعے اضافی پانی محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا جائے۔ میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہی حل ہے۔ میں صرف یہ سوال پوچھ رہا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟ اگر آپ کسی ہائیڈرولوجسٹ، سول انجینئر، ڈیم ایکسپرٹ، اربن پلانر یا سرکاری ادارے کے ذمہ دار کو جانتے ہیں تو براہِ کرم یہ پوسٹ اُن تک پہنچائیں۔ ہو سکتا ہے ایک سوال، کراچی کا مستقبل بدل دے۔
0 Commenti 0 condivisioni 17 Views