شک کی قیمت

کراچی کی ایک شام تھی۔

ایک نوجوان نے اپنے دوست سے پوچھا،

“تم روز ریحان اللہ والا کی ویڈیوز کیوں دیکھتے ہو؟”

دوست مسکرایا اور بولا،

“کیونکہ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔”

پہلا نوجوان ہنس پڑا۔

“میں تو انہیں پندرہ بیس سال سے دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز کوئی نیا آئیڈیا، کوئی نئی بات، کوئی نیا خواب…”

“لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کچھ ہوتا ہے۔”

دونوں خاموش ہوگئے۔

چائے والا دو کپ چائے رکھ گیا۔

اتنے میں ایک تیسرا شخص ان کے پاس آیا۔

وہ کبھی ریحان اللہ والا کی ایک ورکشاپ میں شریک ہوا تھا۔

پھر اس نے انٹرویو دینا سیکھا۔

انگریزی بولنا سیکھی۔

پہلا آن لائن کام کیا۔

اپنا چھوٹا کاروبار شروع کیا۔

آج وہ کئی لوگوں کو روزگار دے رہا تھا۔

اس نے دونوں کو سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔

پہلے نوجوان نے حیرت سے پوچھا،

“یہ کون تھا؟”

دوست نے جواب دیا،

“یہ اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے صرف ویڈیوز نہیں دیکھیں… عمل بھی کیا۔”

پھر وہ بولا،

“تم جانتے ہو سب سے حیران کن بات کیا ہے؟”

“برسوں سے ریحان اللہ والا ہر روز سکھا رہے ہیں۔ پہلے کلاس روم میں، پھر یوٹیوب پر، پھر فیس بک پر، اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی۔”

“سینکڑوں لوگوں نے ان کی باتوں پر عمل کیا، اپنی زندگی بدلی، اپنے کیریئر بنائے، اپنے کاروبار شروع کیے۔”

“لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ آج بھی صرف ایک ہی جملہ کہتے ہیں…”

‘پتہ نہیں… شاید یہ کام نہ کرے۔’

دوست نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کہا،

“عجیب بات ہے۔”

“ہم ایک نئے موبائل پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔”

“ایک نئے ریسٹورنٹ کو آزما لیتے ہیں۔”

“ایک نئے ڈرامے پر گھنٹوں لگا دیتے ہیں۔”

“لیکن جب کوئی برسوں سے مسلسل علم بانٹ رہا ہو، تو ہم کہتے ہیں…”

‘دیکھتے ہیں… کبھی بعد میں۔’

زندگی میں ہر انسان کو دو استاد ملتے ہیں۔

ایک علم…

اور دوسرا وقت۔

جو علم سے نہیں سیکھتا، وقت اسے زیادہ مہنگا سبق سکھاتا ہے۔

اس لیے سوال یہ نہیں کہ کوئی استاد کامل ہے یا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ…

کیا ہم اتنی عاجزی رکھتے ہیں کہ کسی اچھی بات پر عمل کر سکیں؟

کیونکہ بعض اوقات کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق صرف صلاحیت کا نہیں ہوتا…

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سیکھ کر عمل کیا، اور دوسرے نے صرف شک کیا۔
شک کی قیمت کراچی کی ایک شام تھی۔ ایک نوجوان نے اپنے دوست سے پوچھا، “تم روز ریحان اللہ والا کی ویڈیوز کیوں دیکھتے ہو؟” دوست مسکرایا اور بولا، “کیونکہ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔” پہلا نوجوان ہنس پڑا۔ “میں تو انہیں پندرہ بیس سال سے دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز کوئی نیا آئیڈیا، کوئی نئی بات، کوئی نیا خواب…” “لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کچھ ہوتا ہے۔” دونوں خاموش ہوگئے۔ چائے والا دو کپ چائے رکھ گیا۔ اتنے میں ایک تیسرا شخص ان کے پاس آیا۔ وہ کبھی ریحان اللہ والا کی ایک ورکشاپ میں شریک ہوا تھا۔ پھر اس نے انٹرویو دینا سیکھا۔ انگریزی بولنا سیکھی۔ پہلا آن لائن کام کیا۔ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کیا۔ آج وہ کئی لوگوں کو روزگار دے رہا تھا۔ اس نے دونوں کو سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔ پہلے نوجوان نے حیرت سے پوچھا، “یہ کون تھا؟” دوست نے جواب دیا، “یہ اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے صرف ویڈیوز نہیں دیکھیں… عمل بھی کیا۔” پھر وہ بولا، “تم جانتے ہو سب سے حیران کن بات کیا ہے؟” “برسوں سے ریحان اللہ والا ہر روز سکھا رہے ہیں۔ پہلے کلاس روم میں، پھر یوٹیوب پر، پھر فیس بک پر، اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی۔” “سینکڑوں لوگوں نے ان کی باتوں پر عمل کیا، اپنی زندگی بدلی، اپنے کیریئر بنائے، اپنے کاروبار شروع کیے۔” “لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ آج بھی صرف ایک ہی جملہ کہتے ہیں…” ‘پتہ نہیں… شاید یہ کام نہ کرے۔’ دوست نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کہا، “عجیب بات ہے۔” “ہم ایک نئے موبائل پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔” “ایک نئے ریسٹورنٹ کو آزما لیتے ہیں۔” “ایک نئے ڈرامے پر گھنٹوں لگا دیتے ہیں۔” “لیکن جب کوئی برسوں سے مسلسل علم بانٹ رہا ہو، تو ہم کہتے ہیں…” ‘دیکھتے ہیں… کبھی بعد میں۔’ زندگی میں ہر انسان کو دو استاد ملتے ہیں۔ ایک علم… اور دوسرا وقت۔ جو علم سے نہیں سیکھتا، وقت اسے زیادہ مہنگا سبق سکھاتا ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ کوئی استاد کامل ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ… کیا ہم اتنی عاجزی رکھتے ہیں کہ کسی اچھی بات پر عمل کر سکیں؟ کیونکہ بعض اوقات کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق صرف صلاحیت کا نہیں ہوتا… فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سیکھ کر عمل کیا، اور دوسرے نے صرف شک کیا۔
0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 21 Views