پہلا کاروبار کیوں ضروری ہے؟

کراچی کا ایک نوجوان تھا، حارث۔

اس کا خواب تھا کہ وہ اپنا کاروبار کرے۔

اس نے اپنی پہلی آن لائن دکان بنائی۔

تین مہینے گزر گئے۔

ایک بھی آرڈر نہ آیا۔

اس نے ویب سائٹ بند کر دی اور مایوسی کے عالم میں اپنے استاد کے پاس پہنچ گیا۔

“استاد جی، شاید کاروبار کرنا میرے نصیب میں نہیں۔”

استاد مسکرائے۔

انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور حارث سے پوچھا،

“تم نے یہ ویب سائٹ کتنی بار تبدیل کی؟”

حارث نے جواب دیا،

“ایک بار بھی نہیں۔”

استاد نے پھر پوچھا،

“تم نے قیمتیں بدل کر دیکھیں؟”

“نہیں۔”

“مختلف تصویریں آزمائیں؟”

“نہیں۔”

“اشتہار کا طریقہ بدلا؟”

“نہیں۔”

“مختلف گاہکوں سے بات کی؟”

“نہیں۔”

استاد خاموش ہوگئے۔

پھر بولے،

“تو ناکام کاروبار نہیں ہوا…”

“صرف پہلا تجربہ ختم ہوا ہے۔”

انہوں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ بک نکالی۔

اس میں درجنوں کاروباری آئیڈیاز لکھے تھے۔

کچھ کے سامنے لکھا تھا: ناکام

کچھ کے سامنے: صرف 10 گاہک

کچھ کے سامنے: کوئی منافع نہیں

اور چند کے سامنے لکھا تھا: کامیاب

حارث نے حیران ہو کر پوچھا،

“استاد جی، آپ نے اتنی ناکامیاں کیوں برداشت کیں؟”

استاد ہنس پڑے۔

“بیٹا، میں کاروبار نہیں بنا رہا تھا…”

“میں خود کو بنا رہا تھا۔”

“پہلے کاروبار نے مجھے گاہک سمجھنا سکھایا۔”

“دوسرے نے قیمت لگانا سکھایا۔”

“تیسرے نے مارکیٹنگ سکھائی۔”

“چوتھے نے ٹیم بنانا سکھایا۔”

“پانچویں نے مجھے کامیاب بنا دیا۔”

پھر استاد نے ایک ایسی بات کہی جو حارث کبھی نہ بھولا۔

“ہر ناکام کاروبار دراصل اگلے کامیاب کاروبار کی فیس ہوتا ہے۔”

اس دن کے بعد حارث نے اپنی ناکامی کو ختم نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک رپورٹ سمجھا جس میں لکھا تھا:

یہ طریقہ کام نہیں کرتا، دوسرا آزما کر دیکھو۔

چند سال بعد اس کا کاروبار کامیاب ہوگیا۔

لوگوں نے کہا،

“تم بہت خوش قسمت ہو۔”

وہ مسکرا کر بولا،

“یہ خوش قسمتی نہیں… یہ ان تمام تجربات کا نتیجہ ہے جنہیں لوگ ناکامی کہتے ہیں۔”

آج بہت سے نوجوان اپنی پہلی کوشش میں کامیابی چاہتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلی کوشش کا مقصد کامیاب ہونا نہیں ہوتا۔

پہلی کوشش کا مقصد سیکھنا ہوتا ہے۔

اور جو شخص ہر تجربے سے سیکھتا جاتا ہے، ایک دن لوگ اسی کو “اوورنائٹ سکسیس” کہتے ہیں۔
پہلا کاروبار کیوں ضروری ہے؟ کراچی کا ایک نوجوان تھا، حارث۔ اس کا خواب تھا کہ وہ اپنا کاروبار کرے۔ اس نے اپنی پہلی آن لائن دکان بنائی۔ تین مہینے گزر گئے۔ ایک بھی آرڈر نہ آیا۔ اس نے ویب سائٹ بند کر دی اور مایوسی کے عالم میں اپنے استاد کے پاس پہنچ گیا۔ “استاد جی، شاید کاروبار کرنا میرے نصیب میں نہیں۔” استاد مسکرائے۔ انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور حارث سے پوچھا، “تم نے یہ ویب سائٹ کتنی بار تبدیل کی؟” حارث نے جواب دیا، “ایک بار بھی نہیں۔” استاد نے پھر پوچھا، “تم نے قیمتیں بدل کر دیکھیں؟” “نہیں۔” “مختلف تصویریں آزمائیں؟” “نہیں۔” “اشتہار کا طریقہ بدلا؟” “نہیں۔” “مختلف گاہکوں سے بات کی؟” “نہیں۔” استاد خاموش ہوگئے۔ پھر بولے، “تو ناکام کاروبار نہیں ہوا…” “صرف پہلا تجربہ ختم ہوا ہے۔” انہوں نے اپنی جیب سے ایک نوٹ بک نکالی۔ اس میں درجنوں کاروباری آئیڈیاز لکھے تھے۔ کچھ کے سامنے لکھا تھا: ناکام کچھ کے سامنے: صرف 10 گاہک کچھ کے سامنے: کوئی منافع نہیں اور چند کے سامنے لکھا تھا: کامیاب حارث نے حیران ہو کر پوچھا، “استاد جی، آپ نے اتنی ناکامیاں کیوں برداشت کیں؟” استاد ہنس پڑے۔ “بیٹا، میں کاروبار نہیں بنا رہا تھا…” “میں خود کو بنا رہا تھا۔” “پہلے کاروبار نے مجھے گاہک سمجھنا سکھایا۔” “دوسرے نے قیمت لگانا سکھایا۔” “تیسرے نے مارکیٹنگ سکھائی۔” “چوتھے نے ٹیم بنانا سکھایا۔” “پانچویں نے مجھے کامیاب بنا دیا۔” پھر استاد نے ایک ایسی بات کہی جو حارث کبھی نہ بھولا۔ “ہر ناکام کاروبار دراصل اگلے کامیاب کاروبار کی فیس ہوتا ہے۔” اس دن کے بعد حارث نے اپنی ناکامی کو ختم نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک رپورٹ سمجھا جس میں لکھا تھا: یہ طریقہ کام نہیں کرتا، دوسرا آزما کر دیکھو۔ چند سال بعد اس کا کاروبار کامیاب ہوگیا۔ لوگوں نے کہا، “تم بہت خوش قسمت ہو۔” وہ مسکرا کر بولا، “یہ خوش قسمتی نہیں… یہ ان تمام تجربات کا نتیجہ ہے جنہیں لوگ ناکامی کہتے ہیں۔” آج بہت سے نوجوان اپنی پہلی کوشش میں کامیابی چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلی کوشش کا مقصد کامیاب ہونا نہیں ہوتا۔ پہلی کوشش کا مقصد سیکھنا ہوتا ہے۔ اور جو شخص ہر تجربے سے سیکھتا جاتا ہے، ایک دن لوگ اسی کو “اوورنائٹ سکسیس” کہتے ہیں۔
0 Commentaires 0 Parts 26 Vue