تیر جو نشانے سے چوک گیا

کہتے ہیں ایک نوجوان برسوں سے تیر اندازی سیکھ رہا تھا۔

وہ چاہتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے زمانے کا بہترین تیر انداز بن جائے۔

وہ ہر روز مشق کرتا، مگر جب بھی کوئی تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ غصے سے کمان زمین پر پھینک دیتا۔

ایک دن وہ اپنے استاد کے پاس گیا اور بولا،

“استاد جی، شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں۔ ہر بار غلطی ہو جاتی ہے۔”

استاد اسے میدان میں لے گئے۔

دور ایک لکڑی کا نشانہ لگا ہوا تھا۔

استاد نے کمان اٹھائی، سانس لی، نشانہ باندھا اور تیر چھوڑا۔

تیر نشانے سے کئی انچ دور جا لگا۔

نوجوان حیران رہ گیا۔

“استاد جی! آپ سے بھی غلطی ہو گئی؟”

استاد مسکرائے۔

انہوں نے دوسرا تیر نکالا، پھر نشانہ لیا، اور اس بار تیر سیدھا نشانے کے درمیان جا لگا۔

نوجوان نے پوچھا،

“آپ کو پہلے تیر پر غصہ نہیں آیا؟”

استاد نے جواب دیا،

“کیوں آتا؟”

“پہلا تیر مجھے یہ بتانے آیا تھا کہ میں نے کیا غلط کیا۔”

“اگر میں غصے میں کمان توڑ دیتا، تو دوسرا تیر کبھی نشانے تک نہ پہنچتا۔”

پھر استاد نے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا،

“یاد رکھو…”

“ناکامی تمہاری دشمن نہیں، تمہاری استاد ہے۔”

“ہر غلطی تمہیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی۔”

“صرف وہ لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے جو کبھی کوشش ہی نہیں کرتے۔”

نوجوان خاموش ہوگیا۔

اس نے پہلی بار اپنی ناکامیوں کو دشمن نہیں، بلکہ استاد کی نظر سے دیکھا۔

اس دن کے بعد جب بھی اس کا تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ خود سے صرف ایک سوال پوچھتا،

“اس تیر نے مجھے کیا سکھایا؟”

اور ہر جواب اسے پہلے سے بہتر بنا دیتا۔

آج ہم بھی زندگی میں بے شمار تیر چلاتے ہیں۔

کوئی کاروبار ناکام ہو جاتا ہے۔

کوئی امتحان اچھا نہیں ہوتا۔

کوئی نوکری نہیں ملتی۔

کوئی خواب ٹوٹ جاتا ہے۔

مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارا تیر نشانے پر لگا یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے…

کیا ہم نے اگلا تیر چلانے کی ہمت رکھی؟

کیونکہ…

ناکامی کامیابی کی مخالف نہیں، بلکہ کامیابی تک پہنچنے کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔

ہر وہ تیر جو نشانے سے چوک جاتا ہے، اگر آپ اس سے سیکھ لیں، تو وہی آپ کو اگلے نشانے کے قریب لے جاتا ہے۔
تیر جو نشانے سے چوک گیا کہتے ہیں ایک نوجوان برسوں سے تیر اندازی سیکھ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے زمانے کا بہترین تیر انداز بن جائے۔ وہ ہر روز مشق کرتا، مگر جب بھی کوئی تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ غصے سے کمان زمین پر پھینک دیتا۔ ایک دن وہ اپنے استاد کے پاس گیا اور بولا، “استاد جی، شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں۔ ہر بار غلطی ہو جاتی ہے۔” استاد اسے میدان میں لے گئے۔ دور ایک لکڑی کا نشانہ لگا ہوا تھا۔ استاد نے کمان اٹھائی، سانس لی، نشانہ باندھا اور تیر چھوڑا۔ تیر نشانے سے کئی انچ دور جا لگا۔ نوجوان حیران رہ گیا۔ “استاد جی! آپ سے بھی غلطی ہو گئی؟” استاد مسکرائے۔ انہوں نے دوسرا تیر نکالا، پھر نشانہ لیا، اور اس بار تیر سیدھا نشانے کے درمیان جا لگا۔ نوجوان نے پوچھا، “آپ کو پہلے تیر پر غصہ نہیں آیا؟” استاد نے جواب دیا، “کیوں آتا؟” “پہلا تیر مجھے یہ بتانے آیا تھا کہ میں نے کیا غلط کیا۔” “اگر میں غصے میں کمان توڑ دیتا، تو دوسرا تیر کبھی نشانے تک نہ پہنچتا۔” پھر استاد نے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا، “یاد رکھو…” “ناکامی تمہاری دشمن نہیں، تمہاری استاد ہے۔” “ہر غلطی تمہیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی۔” “صرف وہ لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے جو کبھی کوشش ہی نہیں کرتے۔” نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار اپنی ناکامیوں کو دشمن نہیں، بلکہ استاد کی نظر سے دیکھا۔ اس دن کے بعد جب بھی اس کا تیر نشانے سے چوک جاتا، وہ خود سے صرف ایک سوال پوچھتا، “اس تیر نے مجھے کیا سکھایا؟” اور ہر جواب اسے پہلے سے بہتر بنا دیتا۔ آج ہم بھی زندگی میں بے شمار تیر چلاتے ہیں۔ کوئی کاروبار ناکام ہو جاتا ہے۔ کوئی امتحان اچھا نہیں ہوتا۔ کوئی نوکری نہیں ملتی۔ کوئی خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارا تیر نشانے پر لگا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے… کیا ہم نے اگلا تیر چلانے کی ہمت رکھی؟ کیونکہ… ناکامی کامیابی کی مخالف نہیں، بلکہ کامیابی تک پہنچنے کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ ہر وہ تیر جو نشانے سے چوک جاتا ہے، اگر آپ اس سے سیکھ لیں، تو وہی آپ کو اگلے نشانے کے قریب لے جاتا ہے۔
0 Kommentare 0 Anteile 18 Ansichten