گدھا اور کتابوں کا بوجھ

کہتے ہیں ایک بزرگ عالم کے پاس ایک گدھا تھا۔

ہر صبح وہ اس گدھے کی پیٹھ پر قیمتی کتابوں سے بھرے ہوئے تھیلے لادتا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا، جہاں طالب علم ان کتابوں سے علم حاصل کرتے تھے۔

گدھا روزانہ سینکڑوں کتابیں اپنی پیٹھ پر اٹھاتا۔

قرآن، حدیث، فلسفہ، طب، ریاضی، شاعری، تاریخ…

دن بھر چلتا، پہاڑ عبور کرتا، ندیوں سے گزرتا اور شام تک منزل پر پہنچ جاتا۔

ایک دن راستے میں ایک گھوڑے نے گدھے سے پوچھا،

“تمہاری پیٹھ پر کیا ہے؟”

گدھے نے فخر سے جواب دیا،

“دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں… علم سے بھری کتابیں!”

گھوڑے نے پوچھا،

“تو پھر تم یقیناً بہت بڑے عالم ہوگے؟”

گدھا حیران ہوا۔

“عالم؟ میں؟”

گھوڑا مسکرایا اور بولا،

“اگر تم برسوں سے علم اٹھائے پھر رہے ہو تو تمہیں سب کچھ معلوم ہونا چاہیے۔”

گدھا خاموش ہوگیا۔

اسے احساس ہوا کہ اس نے ہزاروں کتابیں اٹھائیں، لیکن کبھی ایک حرف بھی نہ پڑھا، نہ سمجھا، نہ اس پر عمل کیا۔

وہ صرف وزن اٹھاتا رہا…

علم نہیں۔

یہ سب سن کر بزرگ مسکرائے اور اپنے شاگردوں سے کہا،

“یاد رکھو، کتابیں اٹھانے سے انسان عالم نہیں بنتا، جیسے لکڑی اٹھانے سے کوئی بڑھئی نہیں بنتا، یا دوائیں اٹھانے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن جاتا۔”

“علم صرف سر میں جمع ہونے والی معلومات کا نام نہیں۔ علم وہ ہے جو انسان کے کردار، فیصلوں اور زندگی میں نظر آئے۔”

آج ہمارے ہاتھوں میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں ویڈیوز، کروڑوں مضامین اور مصنوعی ذہانت موجود ہے۔

ہم ہر روز نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے…

کیا ہم صرف علم کا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟

یا علم ہمیں بدل بھی رہا ہے؟

اگر غصہ پہلے جیسا ہے…

تکبر پہلے جیسا ہے…

سستی پہلے جیسی ہے…

اور عمل پہلے جیسا ہی کمزور ہے…

تو شاید ہم بھی اس گدھے کی طرح صرف کتابوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

حقیقی علم وہ نہیں جو صرف دماغ میں داخل ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کی زندگی بدل دے۔
گدھا اور کتابوں کا بوجھ کہتے ہیں ایک بزرگ عالم کے پاس ایک گدھا تھا۔ ہر صبح وہ اس گدھے کی پیٹھ پر قیمتی کتابوں سے بھرے ہوئے تھیلے لادتا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا، جہاں طالب علم ان کتابوں سے علم حاصل کرتے تھے۔ گدھا روزانہ سینکڑوں کتابیں اپنی پیٹھ پر اٹھاتا۔ قرآن، حدیث، فلسفہ، طب، ریاضی، شاعری، تاریخ… دن بھر چلتا، پہاڑ عبور کرتا، ندیوں سے گزرتا اور شام تک منزل پر پہنچ جاتا۔ ایک دن راستے میں ایک گھوڑے نے گدھے سے پوچھا، “تمہاری پیٹھ پر کیا ہے؟” گدھے نے فخر سے جواب دیا، “دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں… علم سے بھری کتابیں!” گھوڑے نے پوچھا، “تو پھر تم یقیناً بہت بڑے عالم ہوگے؟” گدھا حیران ہوا۔ “عالم؟ میں؟” گھوڑا مسکرایا اور بولا، “اگر تم برسوں سے علم اٹھائے پھر رہے ہو تو تمہیں سب کچھ معلوم ہونا چاہیے۔” گدھا خاموش ہوگیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے ہزاروں کتابیں اٹھائیں، لیکن کبھی ایک حرف بھی نہ پڑھا، نہ سمجھا، نہ اس پر عمل کیا۔ وہ صرف وزن اٹھاتا رہا… علم نہیں۔ یہ سب سن کر بزرگ مسکرائے اور اپنے شاگردوں سے کہا، “یاد رکھو، کتابیں اٹھانے سے انسان عالم نہیں بنتا، جیسے لکڑی اٹھانے سے کوئی بڑھئی نہیں بنتا، یا دوائیں اٹھانے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن جاتا۔” “علم صرف سر میں جمع ہونے والی معلومات کا نام نہیں۔ علم وہ ہے جو انسان کے کردار، فیصلوں اور زندگی میں نظر آئے۔” آج ہمارے ہاتھوں میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں ویڈیوز، کروڑوں مضامین اور مصنوعی ذہانت موجود ہے۔ ہم ہر روز نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے… کیا ہم صرف علم کا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟ یا علم ہمیں بدل بھی رہا ہے؟ اگر غصہ پہلے جیسا ہے… تکبر پہلے جیسا ہے… سستی پہلے جیسی ہے… اور عمل پہلے جیسا ہی کمزور ہے… تو شاید ہم بھی اس گدھے کی طرح صرف کتابوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ حقیقی علم وہ نہیں جو صرف دماغ میں داخل ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کی زندگی بدل دے۔
0 Comentários 0 Compartilhamentos 30 Visualizações