بھرا ہوا کپ
کہتے ہیں لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے سنا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں جن کے پاس لوگ زندگی کے مسائل کا حل لینے آتے ہیں۔
پروفیسر نے سوچا،
“میں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے، سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں، ہزاروں لیکچر دیے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس بزرگ کے پاس ایسا کیا علم ہے جو میرے پاس نہیں۔”
چند دن بعد وہ گاؤں پہنچ گیا۔
بزرگ ایک سادہ سے کچے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھے تھے۔
انہوں نے پروفیسر کا احترام سے استقبال کیا اور کہا،
“آئیے، پہلے ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر بات کریں گے۔”
پروفیسر نے بیٹھتے ہی اپنی بات شروع کر دی۔
“میں نے نفسیات پڑھی ہے…”
“میں نے فلسفہ پڑھا ہے…”
“میں نے قرآن کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں…”
“میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق بھی کر رہا ہوں…”
“میں یہ سمجھتا ہوں…”
“میری رائے میں…”
وہ مسلسل بولتا رہا۔
بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔
چائے تیار ہوئی۔
بزرگ نے پروفیسر کے سامنے کپ رکھا اور چائے ڈالنا شروع کی۔
کپ بھر گیا۔
لیکن بزرگ نے چائے ڈالنا بند نہ کی۔
چائے کپ سے باہر نکلنے لگی۔
تشتری بھر گئی۔
پھر چائے میز پر گرنے لگی۔
پروفیسر گھبرا کر بولا،
“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں مزید چائے نہیں آ سکتی!”
بزرگ نے پہلی مرتبہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا،
“بالکل ایسے ہی تمہارا ذہن بھی بھرا ہوا ہے۔”
“تم یہاں سیکھنے نہیں آئے…”
“تم یہاں اپنی معلومات دکھانے آئے ہو۔”
“جب تک کپ خالی نہیں ہوگا، اس میں نئی چائے نہیں ڈالی جا سکتی۔”
“اور جب تک انسان اپنے ذہن کو ‘مجھے سب معلوم ہے’ سے خالی نہیں کرتا، تب تک اس میں نئی حکمت داخل نہیں ہو سکتی۔”
پروفیسر خاموش ہوگیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ پورے وقت صرف بولتا رہا تھا۔
اس نے ایک بھی سوال نہیں پوچھا تھا۔
اس نے جواب سننے سے پہلے ہی اپنے جواب تیار کر رکھے تھے۔
اس نے آہستہ سے کپ اٹھایا، ایک گھونٹ چائے پیا، اور کہا،
“آج میں پہلی مرتبہ واقعی سیکھنے آیا ہوں۔”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“بیٹا، تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، لیکن عاجزی اسے حکمت دیتی ہے۔”
آج ہمارے پاس گوگل ہے، یوٹیوب ہے، چیٹ جی پی ٹی ہے، لاکھوں کتابیں ہیں، اور چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا میرا دماغ علم سے بھرا ہوا ہے… یا تکبر سے؟
کیونکہ…
جو کپ پہلے ہی بھرا ہو، اس میں دنیا کی بہترین چائے بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔
کہتے ہیں لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے سنا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں جن کے پاس لوگ زندگی کے مسائل کا حل لینے آتے ہیں۔
پروفیسر نے سوچا،
“میں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے، سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں، ہزاروں لیکچر دیے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس بزرگ کے پاس ایسا کیا علم ہے جو میرے پاس نہیں۔”
چند دن بعد وہ گاؤں پہنچ گیا۔
بزرگ ایک سادہ سے کچے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھے تھے۔
انہوں نے پروفیسر کا احترام سے استقبال کیا اور کہا،
“آئیے، پہلے ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر بات کریں گے۔”
پروفیسر نے بیٹھتے ہی اپنی بات شروع کر دی۔
“میں نے نفسیات پڑھی ہے…”
“میں نے فلسفہ پڑھا ہے…”
“میں نے قرآن کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں…”
“میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق بھی کر رہا ہوں…”
“میں یہ سمجھتا ہوں…”
“میری رائے میں…”
وہ مسلسل بولتا رہا۔
بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔
چائے تیار ہوئی۔
بزرگ نے پروفیسر کے سامنے کپ رکھا اور چائے ڈالنا شروع کی۔
کپ بھر گیا۔
لیکن بزرگ نے چائے ڈالنا بند نہ کی۔
چائے کپ سے باہر نکلنے لگی۔
تشتری بھر گئی۔
پھر چائے میز پر گرنے لگی۔
پروفیسر گھبرا کر بولا،
“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں مزید چائے نہیں آ سکتی!”
بزرگ نے پہلی مرتبہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا،
“بالکل ایسے ہی تمہارا ذہن بھی بھرا ہوا ہے۔”
“تم یہاں سیکھنے نہیں آئے…”
“تم یہاں اپنی معلومات دکھانے آئے ہو۔”
“جب تک کپ خالی نہیں ہوگا، اس میں نئی چائے نہیں ڈالی جا سکتی۔”
“اور جب تک انسان اپنے ذہن کو ‘مجھے سب معلوم ہے’ سے خالی نہیں کرتا، تب تک اس میں نئی حکمت داخل نہیں ہو سکتی۔”
پروفیسر خاموش ہوگیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ پورے وقت صرف بولتا رہا تھا۔
اس نے ایک بھی سوال نہیں پوچھا تھا۔
اس نے جواب سننے سے پہلے ہی اپنے جواب تیار کر رکھے تھے۔
اس نے آہستہ سے کپ اٹھایا، ایک گھونٹ چائے پیا، اور کہا،
“آج میں پہلی مرتبہ واقعی سیکھنے آیا ہوں۔”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“بیٹا، تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، لیکن عاجزی اسے حکمت دیتی ہے۔”
آج ہمارے پاس گوگل ہے، یوٹیوب ہے، چیٹ جی پی ٹی ہے، لاکھوں کتابیں ہیں، اور چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا میرا دماغ علم سے بھرا ہوا ہے… یا تکبر سے؟
کیونکہ…
جو کپ پہلے ہی بھرا ہو، اس میں دنیا کی بہترین چائے بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔
بھرا ہوا کپ
کہتے ہیں لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے سنا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں جن کے پاس لوگ زندگی کے مسائل کا حل لینے آتے ہیں۔
پروفیسر نے سوچا،
“میں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے، سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں، ہزاروں لیکچر دیے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس بزرگ کے پاس ایسا کیا علم ہے جو میرے پاس نہیں۔”
چند دن بعد وہ گاؤں پہنچ گیا۔
بزرگ ایک سادہ سے کچے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھے تھے۔
انہوں نے پروفیسر کا احترام سے استقبال کیا اور کہا،
“آئیے، پہلے ایک کپ چائے پی لیتے ہیں، پھر بات کریں گے۔”
پروفیسر نے بیٹھتے ہی اپنی بات شروع کر دی۔
“میں نے نفسیات پڑھی ہے…”
“میں نے فلسفہ پڑھا ہے…”
“میں نے قرآن کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں…”
“میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق بھی کر رہا ہوں…”
“میں یہ سمجھتا ہوں…”
“میری رائے میں…”
وہ مسلسل بولتا رہا۔
بزرگ خاموشی سے سنتے رہے۔
چائے تیار ہوئی۔
بزرگ نے پروفیسر کے سامنے کپ رکھا اور چائے ڈالنا شروع کی۔
کپ بھر گیا۔
لیکن بزرگ نے چائے ڈالنا بند نہ کی۔
چائے کپ سے باہر نکلنے لگی۔
تشتری بھر گئی۔
پھر چائے میز پر گرنے لگی۔
پروفیسر گھبرا کر بولا،
“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں مزید چائے نہیں آ سکتی!”
بزرگ نے پہلی مرتبہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا،
“بالکل ایسے ہی تمہارا ذہن بھی بھرا ہوا ہے۔”
“تم یہاں سیکھنے نہیں آئے…”
“تم یہاں اپنی معلومات دکھانے آئے ہو۔”
“جب تک کپ خالی نہیں ہوگا، اس میں نئی چائے نہیں ڈالی جا سکتی۔”
“اور جب تک انسان اپنے ذہن کو ‘مجھے سب معلوم ہے’ سے خالی نہیں کرتا، تب تک اس میں نئی حکمت داخل نہیں ہو سکتی۔”
پروفیسر خاموش ہوگیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ پورے وقت صرف بولتا رہا تھا۔
اس نے ایک بھی سوال نہیں پوچھا تھا۔
اس نے جواب سننے سے پہلے ہی اپنے جواب تیار کر رکھے تھے۔
اس نے آہستہ سے کپ اٹھایا، ایک گھونٹ چائے پیا، اور کہا،
“آج میں پہلی مرتبہ واقعی سیکھنے آیا ہوں۔”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“بیٹا، تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، لیکن عاجزی اسے حکمت دیتی ہے۔”
آج ہمارے پاس گوگل ہے، یوٹیوب ہے، چیٹ جی پی ٹی ہے، لاکھوں کتابیں ہیں، اور چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا میرا دماغ علم سے بھرا ہوا ہے… یا تکبر سے؟
کیونکہ…
جو کپ پہلے ہی بھرا ہو، اس میں دنیا کی بہترین چائے بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔
0 Kommentare
0 Anteile
18 Ansichten