وہ شخص جو اپنی پیٹھ پر پتھروں کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا
کہتے ہیں ایک بزرگ ایک لمبے سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پیٹھ پر ایک بہت بڑی بوری اٹھائے بمشکل چل رہا تھا۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا، اور ہر چند قدم بعد وہ رک جاتا، گہرا سانس لیتا اور پھر دوبارہ چل پڑتا۔
بزرگ نے قریب جا کر پوچھا،
“بیٹے! تم اتنے تھکے ہوئے کیوں ہو؟”
اس نے بے بسی سے جواب دیا،
“میری زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔”
بزرگ نے پوچھا،
“اس بوری میں کیا ہے؟”
وہ بولا،
“یہ میری زندگی کے بوجھ ہیں۔”
بزرگ نے کہا،
“کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟”
اس نے بوری زمین پر رکھ دی۔
جب بوری کھولی گئی تو اس میں صرف عام سے پتھر تھے۔
بزرگ نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور پوچھا،
“یہ کس چیز کا بوجھ ہے؟”
وہ بولا،
“بیس سال پہلے ایک شخص نے میری بے عزتی کی تھی۔ میں آج تک اسے نہیں بھولا۔”
بزرگ نے دوسرا پتھر اٹھایا۔
“اور یہ؟”
“ناکام ہونے کا خوف۔”
تیسرا پتھر…
“یہ اُن مواقع کا پچھتاوا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کھو دیے۔”
ایک پتھر اپنے ماضی کی غلطیوں کی شرمندگی تھا۔
ایک دوسروں کی باتوں کا دکھ۔
ایک لوگوں کی رائے کا خوف۔
ایک مستقبل کی بے جا فکر۔
ہر پتھر کا ایک نام تھا۔
بزرگ نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“یہ سارے پتھر تمہیں کس نے اٹھانے کو دیے تھے؟”
وہ شخص خاموش ہوگیا۔
کافی دیر بعد آہستہ سے بولا،
“کسی نے نہیں…”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“پھر تم انہیں اتنے سالوں سے کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟”
اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ بولا،
“میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں انہیں نیچے بھی رکھ سکتا ہوں۔”
بزرگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“زندگی ہمیں تجربات دیتی ہے، تاکہ ہم ان سے سیکھیں، نہ کہ انہیں ہمیشہ اپنی پیٹھ پر لاد کر چلتے رہیں۔ ماضی سے سبق ضرور لو، مگر اسے اپنی قسمت مت بنا لو۔ معاف کر سکتے ہو تو معاف کر دو، انصاف مانگ سکتے ہو تو مانگو، لیکن اپنے دل کو ان پتھروں کا قبرستان مت بناؤ۔”
اس شخص نے ایک ایک کر کے تمام پتھر زمین پر رکھ دیے۔
ہر پتھر کے ساتھ اس کی کمر کچھ سیدھی ہوتی گئی۔
جب آخری پتھر بھی نیچے رکھ دیا تو اس نے خالی بوری ایک ہاتھ سے اٹھائی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
برسوں بعد اسے محسوس ہوا کہ راستہ اتنا مشکل نہیں تھا… بوجھ ہی بہت زیادہ تھا۔
آج ہم میں سے ہر شخص اپنی پیٹھ پر کچھ نہ کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔
کسی کے پاس ماضی کا دکھ ہے۔
کسی کے پاس ناکامی کا خوف۔
کسی کے پاس لوگوں کی باتوں کا بوجھ۔
کسی کے پاس پچھتاوے، حسرتیں اور خود کو معاف نہ کر پانے کا درد۔
یاد رکھیے…
زندگی کا سب سے بھاری بوجھ وہ نہیں جو دنیا ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے ہم خود برسوں تک اٹھائے رکھتے ہیں۔
شاید ایک بہتر زندگی کی شروعات صرف ایک پتھر نیچے رکھنے سے ہو۔
کہتے ہیں ایک بزرگ ایک لمبے سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پیٹھ پر ایک بہت بڑی بوری اٹھائے بمشکل چل رہا تھا۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا، اور ہر چند قدم بعد وہ رک جاتا، گہرا سانس لیتا اور پھر دوبارہ چل پڑتا۔
بزرگ نے قریب جا کر پوچھا،
“بیٹے! تم اتنے تھکے ہوئے کیوں ہو؟”
اس نے بے بسی سے جواب دیا،
“میری زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔”
بزرگ نے پوچھا،
“اس بوری میں کیا ہے؟”
وہ بولا،
“یہ میری زندگی کے بوجھ ہیں۔”
بزرگ نے کہا،
“کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟”
اس نے بوری زمین پر رکھ دی۔
جب بوری کھولی گئی تو اس میں صرف عام سے پتھر تھے۔
بزرگ نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور پوچھا،
“یہ کس چیز کا بوجھ ہے؟”
وہ بولا،
“بیس سال پہلے ایک شخص نے میری بے عزتی کی تھی۔ میں آج تک اسے نہیں بھولا۔”
بزرگ نے دوسرا پتھر اٹھایا۔
“اور یہ؟”
“ناکام ہونے کا خوف۔”
تیسرا پتھر…
“یہ اُن مواقع کا پچھتاوا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کھو دیے۔”
ایک پتھر اپنے ماضی کی غلطیوں کی شرمندگی تھا۔
ایک دوسروں کی باتوں کا دکھ۔
ایک لوگوں کی رائے کا خوف۔
ایک مستقبل کی بے جا فکر۔
ہر پتھر کا ایک نام تھا۔
بزرگ نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“یہ سارے پتھر تمہیں کس نے اٹھانے کو دیے تھے؟”
وہ شخص خاموش ہوگیا۔
کافی دیر بعد آہستہ سے بولا،
“کسی نے نہیں…”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“پھر تم انہیں اتنے سالوں سے کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟”
اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ بولا،
“میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں انہیں نیچے بھی رکھ سکتا ہوں۔”
بزرگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“زندگی ہمیں تجربات دیتی ہے، تاکہ ہم ان سے سیکھیں، نہ کہ انہیں ہمیشہ اپنی پیٹھ پر لاد کر چلتے رہیں۔ ماضی سے سبق ضرور لو، مگر اسے اپنی قسمت مت بنا لو۔ معاف کر سکتے ہو تو معاف کر دو، انصاف مانگ سکتے ہو تو مانگو، لیکن اپنے دل کو ان پتھروں کا قبرستان مت بناؤ۔”
اس شخص نے ایک ایک کر کے تمام پتھر زمین پر رکھ دیے۔
ہر پتھر کے ساتھ اس کی کمر کچھ سیدھی ہوتی گئی۔
جب آخری پتھر بھی نیچے رکھ دیا تو اس نے خالی بوری ایک ہاتھ سے اٹھائی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
برسوں بعد اسے محسوس ہوا کہ راستہ اتنا مشکل نہیں تھا… بوجھ ہی بہت زیادہ تھا۔
آج ہم میں سے ہر شخص اپنی پیٹھ پر کچھ نہ کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔
کسی کے پاس ماضی کا دکھ ہے۔
کسی کے پاس ناکامی کا خوف۔
کسی کے پاس لوگوں کی باتوں کا بوجھ۔
کسی کے پاس پچھتاوے، حسرتیں اور خود کو معاف نہ کر پانے کا درد۔
یاد رکھیے…
زندگی کا سب سے بھاری بوجھ وہ نہیں جو دنیا ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے ہم خود برسوں تک اٹھائے رکھتے ہیں۔
شاید ایک بہتر زندگی کی شروعات صرف ایک پتھر نیچے رکھنے سے ہو۔
وہ شخص جو اپنی پیٹھ پر پتھروں کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا
کہتے ہیں ایک بزرگ ایک لمبے سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی پیٹھ پر ایک بہت بڑی بوری اٹھائے بمشکل چل رہا تھا۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا، اور ہر چند قدم بعد وہ رک جاتا، گہرا سانس لیتا اور پھر دوبارہ چل پڑتا۔
بزرگ نے قریب جا کر پوچھا،
“بیٹے! تم اتنے تھکے ہوئے کیوں ہو؟”
اس نے بے بسی سے جواب دیا،
“میری زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے۔”
بزرگ نے پوچھا،
“اس بوری میں کیا ہے؟”
وہ بولا،
“یہ میری زندگی کے بوجھ ہیں۔”
بزرگ نے کہا،
“کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟”
اس نے بوری زمین پر رکھ دی۔
جب بوری کھولی گئی تو اس میں صرف عام سے پتھر تھے۔
بزرگ نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور پوچھا،
“یہ کس چیز کا بوجھ ہے؟”
وہ بولا،
“بیس سال پہلے ایک شخص نے میری بے عزتی کی تھی۔ میں آج تک اسے نہیں بھولا۔”
بزرگ نے دوسرا پتھر اٹھایا۔
“اور یہ؟”
“ناکام ہونے کا خوف۔”
تیسرا پتھر…
“یہ اُن مواقع کا پچھتاوا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کھو دیے۔”
ایک پتھر اپنے ماضی کی غلطیوں کی شرمندگی تھا۔
ایک دوسروں کی باتوں کا دکھ۔
ایک لوگوں کی رائے کا خوف۔
ایک مستقبل کی بے جا فکر۔
ہر پتھر کا ایک نام تھا۔
بزرگ نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“یہ سارے پتھر تمہیں کس نے اٹھانے کو دیے تھے؟”
وہ شخص خاموش ہوگیا۔
کافی دیر بعد آہستہ سے بولا،
“کسی نے نہیں…”
بزرگ مسکرائے اور بولے،
“پھر تم انہیں اتنے سالوں سے کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟”
اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ بولا،
“میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں انہیں نیچے بھی رکھ سکتا ہوں۔”
بزرگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“زندگی ہمیں تجربات دیتی ہے، تاکہ ہم ان سے سیکھیں، نہ کہ انہیں ہمیشہ اپنی پیٹھ پر لاد کر چلتے رہیں۔ ماضی سے سبق ضرور لو، مگر اسے اپنی قسمت مت بنا لو۔ معاف کر سکتے ہو تو معاف کر دو، انصاف مانگ سکتے ہو تو مانگو، لیکن اپنے دل کو ان پتھروں کا قبرستان مت بناؤ۔”
اس شخص نے ایک ایک کر کے تمام پتھر زمین پر رکھ دیے۔
ہر پتھر کے ساتھ اس کی کمر کچھ سیدھی ہوتی گئی۔
جب آخری پتھر بھی نیچے رکھ دیا تو اس نے خالی بوری ایک ہاتھ سے اٹھائی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
برسوں بعد اسے محسوس ہوا کہ راستہ اتنا مشکل نہیں تھا… بوجھ ہی بہت زیادہ تھا۔
آج ہم میں سے ہر شخص اپنی پیٹھ پر کچھ نہ کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔
کسی کے پاس ماضی کا دکھ ہے۔
کسی کے پاس ناکامی کا خوف۔
کسی کے پاس لوگوں کی باتوں کا بوجھ۔
کسی کے پاس پچھتاوے، حسرتیں اور خود کو معاف نہ کر پانے کا درد۔
یاد رکھیے…
زندگی کا سب سے بھاری بوجھ وہ نہیں جو دنیا ہمارے کندھوں پر رکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے ہم خود برسوں تک اٹھائے رکھتے ہیں۔
شاید ایک بہتر زندگی کی شروعات صرف ایک پتھر نیچے رکھنے سے ہو۔
0 Comments
0 Shares
29 Views