“انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے ان کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔”
اچھا انسان دوسروں میں اچھائی تلاش کرتا ہے
لیو ٹالسٹائی کا یہ قول انسان کے کردار کو سمجھنے کا بہت خوبصورت معیار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے لوگوں کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر صرف دوسروں کو نہیں دکھاتی، ہماری اپنی اندرونی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو انسان خود نرم دل، سمجھدار اور مثبت سوچ رکھنے والا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے اندر چھپی ہوئی خوبیاں دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا، ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور موجود ہوتی ہے۔
دوسری طرف جو انسان ہر وقت دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر تعریف کم کرتے ہیں، تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کی ایک غلطی سے جج کر لیتے ہیں، مگر اس کی دس اچھائیاں نہیں دیکھتے۔
ایک استاد اگر بچے میں صرف کمزوری دیکھے گا تو بچہ ڈر جائے گا، لیکن اگر وہ اس میں چھپی ہوئی صلاحیت دیکھے گا تو بچہ آگے بڑھ جائے گا۔ ایک لیڈر اگر اپنی ٹیم میں صرف غلطیاں تلاش کرے گا تو ٹیم کمزور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ ہر شخص کی خوبی پہچانے گا تو پوری ٹیم طاقتور بن جائے گی۔
اس لیے ہمیں اپنی نظر کو تربیت دینی چاہیے۔ ہر انسان سے پہلے یہ پوچھیں: اس میں کون سی اچھائی ہے؟ یہ کس کام میں بہتر ہے؟ اس کی کون سی خوبی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
معاشرہ تب بہتر ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عیب گننے کے بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ خامی دیکھنا آسان ہے، خوبی تلاش کرنا عقل، دل اور کردار کا کام ہے۔
سبق: دوسروں میں اچھائی دیکھنا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔
اچھا انسان دوسروں میں اچھائی تلاش کرتا ہے
لیو ٹالسٹائی کا یہ قول انسان کے کردار کو سمجھنے کا بہت خوبصورت معیار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے لوگوں کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر صرف دوسروں کو نہیں دکھاتی، ہماری اپنی اندرونی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو انسان خود نرم دل، سمجھدار اور مثبت سوچ رکھنے والا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے اندر چھپی ہوئی خوبیاں دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا، ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور موجود ہوتی ہے۔
دوسری طرف جو انسان ہر وقت دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر تعریف کم کرتے ہیں، تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کی ایک غلطی سے جج کر لیتے ہیں، مگر اس کی دس اچھائیاں نہیں دیکھتے۔
ایک استاد اگر بچے میں صرف کمزوری دیکھے گا تو بچہ ڈر جائے گا، لیکن اگر وہ اس میں چھپی ہوئی صلاحیت دیکھے گا تو بچہ آگے بڑھ جائے گا۔ ایک لیڈر اگر اپنی ٹیم میں صرف غلطیاں تلاش کرے گا تو ٹیم کمزور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ ہر شخص کی خوبی پہچانے گا تو پوری ٹیم طاقتور بن جائے گی۔
اس لیے ہمیں اپنی نظر کو تربیت دینی چاہیے۔ ہر انسان سے پہلے یہ پوچھیں: اس میں کون سی اچھائی ہے؟ یہ کس کام میں بہتر ہے؟ اس کی کون سی خوبی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
معاشرہ تب بہتر ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عیب گننے کے بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ خامی دیکھنا آسان ہے، خوبی تلاش کرنا عقل، دل اور کردار کا کام ہے۔
سبق: دوسروں میں اچھائی دیکھنا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔
“انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے ان کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔”
اچھا انسان دوسروں میں اچھائی تلاش کرتا ہے
لیو ٹالسٹائی کا یہ قول انسان کے کردار کو سمجھنے کا بہت خوبصورت معیار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جتنا عقلمند اور مہربان ہوتا ہے، اسے لوگوں میں اچھائیاں نظر آتی ہیں، اور جتنا بیوقوف اور شریر ہوتا ہے، اسے لوگوں کے عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر صرف دوسروں کو نہیں دکھاتی، ہماری اپنی اندرونی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو انسان خود نرم دل، سمجھدار اور مثبت سوچ رکھنے والا ہوتا ہے، وہ دوسروں کے اندر چھپی ہوئی خوبیاں دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان مکمل نہیں ہوتا، ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور موجود ہوتی ہے۔
دوسری طرف جو انسان ہر وقت دوسروں کی خامیاں، غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر تعریف کم کرتے ہیں، تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس کی ایک غلطی سے جج کر لیتے ہیں، مگر اس کی دس اچھائیاں نہیں دیکھتے۔
ایک استاد اگر بچے میں صرف کمزوری دیکھے گا تو بچہ ڈر جائے گا، لیکن اگر وہ اس میں چھپی ہوئی صلاحیت دیکھے گا تو بچہ آگے بڑھ جائے گا۔ ایک لیڈر اگر اپنی ٹیم میں صرف غلطیاں تلاش کرے گا تو ٹیم کمزور ہو جائے گی، لیکن اگر وہ ہر شخص کی خوبی پہچانے گا تو پوری ٹیم طاقتور بن جائے گی۔
اس لیے ہمیں اپنی نظر کو تربیت دینی چاہیے۔ ہر انسان سے پہلے یہ پوچھیں: اس میں کون سی اچھائی ہے؟ یہ کس کام میں بہتر ہے؟ اس کی کون سی خوبی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟
معاشرہ تب بہتر ہوتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عیب گننے کے بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ کیونکہ خامی دیکھنا آسان ہے، خوبی تلاش کرنا عقل، دل اور کردار کا کام ہے۔
سبق: دوسروں میں اچھائی دیکھنا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔
0 Reacties
0 aandelen
69 Views