ہر پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہونا چاہیے

آج کے دور میں اسمارٹ فون صرف ایک فون نہیں رہا بلکہ یہ تعلیم، روزگار، کاروبار، بینکنگ، صحت، اور مصنوعی ذہانت (AI) تک رسائی کا دروازہ بن چکا ہے۔ جس طرح ایک زمانے میں خواندگی ضروری سمجھی جاتی تھی، اسی طرح آج ڈیجیٹل خواندگی اور اسمارٹ فون ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔

پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ محنت کرتے ہیں، لیکن ایک ساتھ 20,000، 30,000 یا 40,000 روپے خرچ کرکے اسمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، اگر یہی فون آسان اقساط پر صرف 1,000 سے 1,500 روپے ماہانہ میں دستیاب ہو تو تقریباً ہر خاندان اسے حاصل کرسکتا ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ مارکیٹ میں طویل مدت کی اقساط پر 50 فیصد سے 70 فیصد تک اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ بھی موجود نہیں ہیں۔ نتیجتاً وہ جدید تعلیم، AI، آن لائن روزگار، اور ڈیجیٹل معیشت سے باہر رہ جاتے ہیں۔

میں حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، اور فلاحی اداروں جیسے الخدمت فاؤنڈیشن، GTC اور دیگر سماجی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک قومی “ہر پاکستانی کے لیے اسمارٹ فون” پروگرام شروع کریں۔

اس پروگرام کے تحت:

* 10,000 سے 30,000 روپے کے اسمارٹ فون آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں۔
* ماہانہ قسط 1,000 سے 1,500 روپے رکھی جائے۔
* EasyPaisa، JazzCash، UBL Omni اور دیگر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دی جائے۔
* کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی شرط ختم کی جائے۔
* طلبہ، مزدوروں، خواتین، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دی جائے۔
* مقامی موبائل مینوفیکچررز اور مائیکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے۔
* سود یا انتہائی زیادہ منافع کے بجائے کم لاگت یا سماجی سرمایہ کاری کے ماڈل اپنائے جائیں۔

اگر ایک پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون آجاتا ہے تو وہ:

* AI سے سیکھ سکتا ہے۔
* آن لائن ہنر حاصل کرسکتا ہے۔
* فری لانسنگ اور ریموٹ جابز کرسکتا ہے۔
* اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔
* سرکاری خدمات اور ڈیجیٹل بینکنگ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
* دنیا بھر کے علم تک فوری رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ہمیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ آنے والے زمانے میں سب سے بڑی طاقت معلومات، علم اور مصنوعی ذہانت ہوگی۔

جس دن ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون اور AI اسسٹنٹ ہوگا، اس دن غربت کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی جاسکے گی۔

میری حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، الخدمت فاؤنڈیشن، GTC، ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ مل کر ایک قومی مشن شروع کریں:

“ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون”

کیونکہ جب معلومات ہر انسان کے ہاتھ میں آجاتی ہیں، تو لوگ اپنے مسائل خود حل کرنا شروع کردیتے ہیں، اور یہی ایک خوشحال اور طاقتور پاکستان کی بنیاد ہے۔

— ریحان اللہ والا
ہر پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہونا چاہیے آج کے دور میں اسمارٹ فون صرف ایک فون نہیں رہا بلکہ یہ تعلیم، روزگار، کاروبار، بینکنگ، صحت، اور مصنوعی ذہانت (AI) تک رسائی کا دروازہ بن چکا ہے۔ جس طرح ایک زمانے میں خواندگی ضروری سمجھی جاتی تھی، اسی طرح آج ڈیجیٹل خواندگی اور اسمارٹ فون ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ محنت کرتے ہیں، لیکن ایک ساتھ 20,000، 30,000 یا 40,000 روپے خرچ کرکے اسمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، اگر یہی فون آسان اقساط پر صرف 1,000 سے 1,500 روپے ماہانہ میں دستیاب ہو تو تقریباً ہر خاندان اسے حاصل کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ مارکیٹ میں طویل مدت کی اقساط پر 50 فیصد سے 70 فیصد تک اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانیوں کے پاس بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ بھی موجود نہیں ہیں۔ نتیجتاً وہ جدید تعلیم، AI، آن لائن روزگار، اور ڈیجیٹل معیشت سے باہر رہ جاتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، اور فلاحی اداروں جیسے الخدمت فاؤنڈیشن، GTC اور دیگر سماجی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک قومی “ہر پاکستانی کے لیے اسمارٹ فون” پروگرام شروع کریں۔ اس پروگرام کے تحت: * 10,000 سے 30,000 روپے کے اسمارٹ فون آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں۔ * ماہانہ قسط 1,000 سے 1,500 روپے رکھی جائے۔ * EasyPaisa، JazzCash، UBL Omni اور دیگر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دی جائے۔ * کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی شرط ختم کی جائے۔ * طلبہ، مزدوروں، خواتین، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دی جائے۔ * مقامی موبائل مینوفیکچررز اور مائیکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے۔ * سود یا انتہائی زیادہ منافع کے بجائے کم لاگت یا سماجی سرمایہ کاری کے ماڈل اپنائے جائیں۔ اگر ایک پاکستانی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون آجاتا ہے تو وہ: * AI سے سیکھ سکتا ہے۔ * آن لائن ہنر حاصل کرسکتا ہے۔ * فری لانسنگ اور ریموٹ جابز کرسکتا ہے۔ * اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔ * سرکاری خدمات اور ڈیجیٹل بینکنگ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ * دنیا بھر کے علم تک فوری رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ہمیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ آنے والے زمانے میں سب سے بڑی طاقت معلومات، علم اور مصنوعی ذہانت ہوگی۔ جس دن ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون اور AI اسسٹنٹ ہوگا، اس دن غربت کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی جاسکے گی۔ میری حکومت پاکستان، وزارت آئی ٹی، الخدمت فاؤنڈیشن، GTC، ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ مل کر ایک قومی مشن شروع کریں: “ہر پاکستانی کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون” کیونکہ جب معلومات ہر انسان کے ہاتھ میں آجاتی ہیں، تو لوگ اپنے مسائل خود حل کرنا شروع کردیتے ہیں، اور یہی ایک خوشحال اور طاقتور پاکستان کی بنیاد ہے۔ — ریحان اللہ والا
0 Комментарии 0 Поделились 27 Просмотры