تاریخِ ٹھٹہ

ٹھٹہ (Thatta) سندھ کے قدیم ترین اور تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ کئی صدیوں تک ٹھٹہ علم، تجارت، ثقافت اور حکومت کا مرکز رہا اور اسے برصغیر کے عظیم شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

ابتدائی تاریخ

ٹھٹہ کی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اگرچہ اس کے قیام کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، لیکن مؤرخین کے مطابق یہ علاقہ قدیم سندھ تہذیب اور بعد کے ادوار میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر ترقی کرتا رہا۔ دریائے سندھ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں زراعت اور تجارت دونوں فروغ پاتے رہے۔

سمہ خاندان کا دور

چودھویں صدی میں سمہ خاندان نے سندھ پر حکومت قائم کی اور ٹھٹہ کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ جام نظام الدین المعروف جام نندو (1461ء–1509ء) کے دور کو ٹھٹہ کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں شہر میں مدارس، مساجد، باغات اور بازار تعمیر کیے گئے اور یہاں علم و ادب کو فروغ ملا۔

ارغون اور ترخان حکمران

سولہویں صدی میں ارغون اور بعد ازاں ترخان خاندان نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے بھی ٹھٹہ کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا۔ اسی دور میں شہر کی تجارتی اہمیت مزید بڑھی اور یہاں ایران، عرب، وسط ایشیا اور ہندوستان سے تاجر آتے تھے۔

مغل دور

1592ء میں شہنشاہ اکبر کے دور میں سندھ مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا۔ مغل حکمرانوں نے ٹھٹہ کو ایک اہم صوبائی مرکز کی حیثیت دی۔ اس زمانے میں شہر کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جو اس دور کے بڑے شہروں میں شمار ہوتی تھی۔

شاہجہان کے حکم پر 1647ء میں مشہور شاہجہانی مسجد تعمیر کی گئی، جو اپنی خوبصورت ٹائلوں اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔

مکلی کا قبرستان

ٹھٹہ کے قریب واقع مکلی کا قبرستان دنیا کے سب سے بڑے قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً 10 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس تاریخی مقام پر سات لاکھ سے زیادہ افراد مدفون ہیں، جن میں بادشاہ، صوفی بزرگ، علماء اور جرنیل شامل ہیں۔ یونیسکو نے 1981ء میں مکلی کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

زوال کا آغاز

سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں دریائے سندھ کے راستے تبدیل ہونے، بندرگاہوں کی اہمیت کم ہونے اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ٹھٹہ کی تجارتی اور سیاسی اہمیت کم ہوتی گئی۔ بعد میں کراچی کی ترقی کے ساتھ ٹھٹہ مزید پس منظر میں چلا گیا۔

برطانوی دور اور پاکستان

1843ء میں سندھ برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام آیا۔ اس دور میں کراچی ایک بڑی بندرگاہ کے طور پر ابھرا اور ٹھٹہ کی سابقہ عظمت کم ہوتی گئی۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد ٹھٹہ سندھ کا ایک اہم ضلع بن گیا۔

موجودہ دور

آج ٹھٹہ اپنی تاریخی عمارتوں، مکلی کے عظیم قبرستان، شاہجہانی مسجد، کیٹی بندر، کینجھر جھیل اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور محققین اس شہر کی تاریخی اہمیت کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

نتیجہ

ٹھٹہ ایک ایسا شہر ہے جس نے سندھ کی تاریخ، ثقافت، علم اور تجارت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ کئی صدیوں تک یہ سندھ کا دارالحکومت اور برصغیر کا ایک اہم شہر رہا۔ اگرچہ آج اس کی سیاسی اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن اس کی تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔
تاریخِ ٹھٹہ ٹھٹہ (Thatta) سندھ کے قدیم ترین اور تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ کئی صدیوں تک ٹھٹہ علم، تجارت، ثقافت اور حکومت کا مرکز رہا اور اسے برصغیر کے عظیم شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ابتدائی تاریخ ٹھٹہ کی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اگرچہ اس کے قیام کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، لیکن مؤرخین کے مطابق یہ علاقہ قدیم سندھ تہذیب اور بعد کے ادوار میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر ترقی کرتا رہا۔ دریائے سندھ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں زراعت اور تجارت دونوں فروغ پاتے رہے۔ سمہ خاندان کا دور چودھویں صدی میں سمہ خاندان نے سندھ پر حکومت قائم کی اور ٹھٹہ کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ جام نظام الدین المعروف جام نندو (1461ء–1509ء) کے دور کو ٹھٹہ کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں شہر میں مدارس، مساجد، باغات اور بازار تعمیر کیے گئے اور یہاں علم و ادب کو فروغ ملا۔ ارغون اور ترخان حکمران سولہویں صدی میں ارغون اور بعد ازاں ترخان خاندان نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے بھی ٹھٹہ کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا۔ اسی دور میں شہر کی تجارتی اہمیت مزید بڑھی اور یہاں ایران، عرب، وسط ایشیا اور ہندوستان سے تاجر آتے تھے۔ مغل دور 1592ء میں شہنشاہ اکبر کے دور میں سندھ مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا۔ مغل حکمرانوں نے ٹھٹہ کو ایک اہم صوبائی مرکز کی حیثیت دی۔ اس زمانے میں شہر کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جو اس دور کے بڑے شہروں میں شمار ہوتی تھی۔ شاہجہان کے حکم پر 1647ء میں مشہور شاہجہانی مسجد تعمیر کی گئی، جو اپنی خوبصورت ٹائلوں اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مکلی کا قبرستان ٹھٹہ کے قریب واقع مکلی کا قبرستان دنیا کے سب سے بڑے قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً 10 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس تاریخی مقام پر سات لاکھ سے زیادہ افراد مدفون ہیں، جن میں بادشاہ، صوفی بزرگ، علماء اور جرنیل شامل ہیں۔ یونیسکو نے 1981ء میں مکلی کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ زوال کا آغاز سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں دریائے سندھ کے راستے تبدیل ہونے، بندرگاہوں کی اہمیت کم ہونے اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ٹھٹہ کی تجارتی اور سیاسی اہمیت کم ہوتی گئی۔ بعد میں کراچی کی ترقی کے ساتھ ٹھٹہ مزید پس منظر میں چلا گیا۔ برطانوی دور اور پاکستان 1843ء میں سندھ برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام آیا۔ اس دور میں کراچی ایک بڑی بندرگاہ کے طور پر ابھرا اور ٹھٹہ کی سابقہ عظمت کم ہوتی گئی۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد ٹھٹہ سندھ کا ایک اہم ضلع بن گیا۔ موجودہ دور آج ٹھٹہ اپنی تاریخی عمارتوں، مکلی کے عظیم قبرستان، شاہجہانی مسجد، کیٹی بندر، کینجھر جھیل اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور محققین اس شہر کی تاریخی اہمیت کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ نتیجہ ٹھٹہ ایک ایسا شہر ہے جس نے سندھ کی تاریخ، ثقافت، علم اور تجارت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ کئی صدیوں تک یہ سندھ کا دارالحکومت اور برصغیر کا ایک اہم شہر رہا۔ اگرچہ آج اس کی سیاسی اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن اس کی تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔
0 Comments 0 Shares 2 Views