تغلق آباد کی تاریخ
تغلق آباد (Tughlaqabad) دہلی کے جنوب مشرق میں واقع ایک تاریخی قلعہ نما شہر ہے، جسے تغلق خاندان کے بانی سلطان غیاث الدین تغلق نے 1321ء میں تعمیر کروانا شروع کیا۔ اس کا مقصد ایک مضبوط اور محفوظ دارالحکومت قائم کرنا تھا جو بیرونی حملوں سے سلطنت کا دفاع کر سکے۔
تعمیر
سلطان غیاث الدین تغلق نے ایک عظیم الشان قلعہ اور شہر کی بنیاد رکھی جس کے گرد بلند اور موٹی دیواریں تعمیر کی گئیں۔ قلعے میں محلات، بازار، رہائشی علاقے، پانی کے ذخائر اور فوجی چھاؤنیاں موجود تھیں۔ اس دور میں اسے دنیا کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء سے تعلق
روایت کے مطابق، اسی زمانے میں مشہور صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی میں ایک تالاب (باولی) تعمیر کروا رہے تھے۔ سلطان غیاث الدین تغلق نے مزدوروں کو اپنے قلعے کی تعمیر پر لگا دیا، جس کی وجہ سے باولی کی تعمیر متاثر ہوئی۔ اس پر حضرت نظام الدین اولیاء نے مشہور جملہ فرمایا:
“یا رہے اُجڑ، یا بسے گوجر”
یعنی یہ شہر یا تو ویران ہو جائے گا یا پھر اس میں گوجر آباد ہوں گے۔
محمد بن تغلق کا دور
1325ء میں غیاث الدین تغلق کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن تغلق تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے ابتدا میں تغلق آباد کو استعمال کیا، لیکن بعد میں دہلی سے دولت آباد دارالحکومت منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں تغلق آباد کی اہمیت کم ہوتی گئی۔
زوال
چند دہائیوں کے اندر اندر یہ عظیم شہر تقریباً ویران ہو گیا۔ پانی کی کمی، انتظامی تبدیلیوں اور نئے شہروں کے قیام کے باعث لوگ یہاں سے منتقل ہوتے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صرف اس کے مضبوط کھنڈرات باقی رہ گئے۔
غیاث الدین تغلق کا مقبرہ
تغلق آباد کے قریب ایک مصنوعی جھیل کے درمیان سلطان غیاث الدین تغلق کا خوبصورت مقبرہ واقع ہے، جو سرخ پتھر اور سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ آج بھی تغلق دور کی فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
موجودہ حیثیت
آج تغلق آباد کے کھنڈرات دہلی، ہندوستان میں موجود ہیں اور انہیں ایک اہم تاریخی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور تاریخ کے طالب علم اس عظیم قلعے کو دیکھنے آتے ہیں۔
نتیجہ
تغلق آباد کبھی دہلی سلطنت کا ایک عظیم اور مضبوط شہر تھا، لیکن چند ہی دہائیوں میں ویران ہو گیا۔ اس کے کھنڈرات آج بھی غیاث الدین تغلق اور تغلق خاندان کی طاقت، عظمت اور بلند عزائم کی یاد دلاتے ہیں۔
تغلق آباد (Tughlaqabad) دہلی کے جنوب مشرق میں واقع ایک تاریخی قلعہ نما شہر ہے، جسے تغلق خاندان کے بانی سلطان غیاث الدین تغلق نے 1321ء میں تعمیر کروانا شروع کیا۔ اس کا مقصد ایک مضبوط اور محفوظ دارالحکومت قائم کرنا تھا جو بیرونی حملوں سے سلطنت کا دفاع کر سکے۔
تعمیر
سلطان غیاث الدین تغلق نے ایک عظیم الشان قلعہ اور شہر کی بنیاد رکھی جس کے گرد بلند اور موٹی دیواریں تعمیر کی گئیں۔ قلعے میں محلات، بازار، رہائشی علاقے، پانی کے ذخائر اور فوجی چھاؤنیاں موجود تھیں۔ اس دور میں اسے دنیا کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء سے تعلق
روایت کے مطابق، اسی زمانے میں مشہور صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی میں ایک تالاب (باولی) تعمیر کروا رہے تھے۔ سلطان غیاث الدین تغلق نے مزدوروں کو اپنے قلعے کی تعمیر پر لگا دیا، جس کی وجہ سے باولی کی تعمیر متاثر ہوئی۔ اس پر حضرت نظام الدین اولیاء نے مشہور جملہ فرمایا:
“یا رہے اُجڑ، یا بسے گوجر”
یعنی یہ شہر یا تو ویران ہو جائے گا یا پھر اس میں گوجر آباد ہوں گے۔
محمد بن تغلق کا دور
1325ء میں غیاث الدین تغلق کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن تغلق تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے ابتدا میں تغلق آباد کو استعمال کیا، لیکن بعد میں دہلی سے دولت آباد دارالحکومت منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں تغلق آباد کی اہمیت کم ہوتی گئی۔
زوال
چند دہائیوں کے اندر اندر یہ عظیم شہر تقریباً ویران ہو گیا۔ پانی کی کمی، انتظامی تبدیلیوں اور نئے شہروں کے قیام کے باعث لوگ یہاں سے منتقل ہوتے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صرف اس کے مضبوط کھنڈرات باقی رہ گئے۔
غیاث الدین تغلق کا مقبرہ
تغلق آباد کے قریب ایک مصنوعی جھیل کے درمیان سلطان غیاث الدین تغلق کا خوبصورت مقبرہ واقع ہے، جو سرخ پتھر اور سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ آج بھی تغلق دور کی فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
موجودہ حیثیت
آج تغلق آباد کے کھنڈرات دہلی، ہندوستان میں موجود ہیں اور انہیں ایک اہم تاریخی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور تاریخ کے طالب علم اس عظیم قلعے کو دیکھنے آتے ہیں۔
نتیجہ
تغلق آباد کبھی دہلی سلطنت کا ایک عظیم اور مضبوط شہر تھا، لیکن چند ہی دہائیوں میں ویران ہو گیا۔ اس کے کھنڈرات آج بھی غیاث الدین تغلق اور تغلق خاندان کی طاقت، عظمت اور بلند عزائم کی یاد دلاتے ہیں۔
تغلق آباد کی تاریخ
تغلق آباد (Tughlaqabad) دہلی کے جنوب مشرق میں واقع ایک تاریخی قلعہ نما شہر ہے، جسے تغلق خاندان کے بانی سلطان غیاث الدین تغلق نے 1321ء میں تعمیر کروانا شروع کیا۔ اس کا مقصد ایک مضبوط اور محفوظ دارالحکومت قائم کرنا تھا جو بیرونی حملوں سے سلطنت کا دفاع کر سکے۔
تعمیر
سلطان غیاث الدین تغلق نے ایک عظیم الشان قلعہ اور شہر کی بنیاد رکھی جس کے گرد بلند اور موٹی دیواریں تعمیر کی گئیں۔ قلعے میں محلات، بازار، رہائشی علاقے، پانی کے ذخائر اور فوجی چھاؤنیاں موجود تھیں۔ اس دور میں اسے دنیا کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء سے تعلق
روایت کے مطابق، اسی زمانے میں مشہور صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی میں ایک تالاب (باولی) تعمیر کروا رہے تھے۔ سلطان غیاث الدین تغلق نے مزدوروں کو اپنے قلعے کی تعمیر پر لگا دیا، جس کی وجہ سے باولی کی تعمیر متاثر ہوئی۔ اس پر حضرت نظام الدین اولیاء نے مشہور جملہ فرمایا:
“یا رہے اُجڑ، یا بسے گوجر”
یعنی یہ شہر یا تو ویران ہو جائے گا یا پھر اس میں گوجر آباد ہوں گے۔
محمد بن تغلق کا دور
1325ء میں غیاث الدین تغلق کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن تغلق تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے ابتدا میں تغلق آباد کو استعمال کیا، لیکن بعد میں دہلی سے دولت آباد دارالحکومت منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں تغلق آباد کی اہمیت کم ہوتی گئی۔
زوال
چند دہائیوں کے اندر اندر یہ عظیم شہر تقریباً ویران ہو گیا۔ پانی کی کمی، انتظامی تبدیلیوں اور نئے شہروں کے قیام کے باعث لوگ یہاں سے منتقل ہوتے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صرف اس کے مضبوط کھنڈرات باقی رہ گئے۔
غیاث الدین تغلق کا مقبرہ
تغلق آباد کے قریب ایک مصنوعی جھیل کے درمیان سلطان غیاث الدین تغلق کا خوبصورت مقبرہ واقع ہے، جو سرخ پتھر اور سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ آج بھی تغلق دور کی فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
موجودہ حیثیت
آج تغلق آباد کے کھنڈرات دہلی، ہندوستان میں موجود ہیں اور انہیں ایک اہم تاریخی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور تاریخ کے طالب علم اس عظیم قلعے کو دیکھنے آتے ہیں۔
نتیجہ
تغلق آباد کبھی دہلی سلطنت کا ایک عظیم اور مضبوط شہر تھا، لیکن چند ہی دہائیوں میں ویران ہو گیا۔ اس کے کھنڈرات آج بھی غیاث الدین تغلق اور تغلق خاندان کی طاقت، عظمت اور بلند عزائم کی یاد دلاتے ہیں۔
0 Reacties
0 aandelen
28 Views