خالی زمین پر مونگ کی دال اگانے کے حیرت انگیز فوائد

پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین ایسی ہے جو مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں تک خالی پڑی رہتی ہے۔ ایسی زمین آہستہ آہستہ اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، سخت اور بنجر ہو جاتی ہے، اور اس پر جڑی بوٹیاں اور گھاس پھوس قبضہ کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر اسی زمین پر صرف مونگ کی دال کے بیج بکھیر دیے جائیں تو قدرت خود اس زمین کو دوبارہ زندہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔

مونگ صرف ایک خوراک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک قدرتی کھاد فیکٹری ہے۔

بیج سے فصل تک کا سفر

پہلا ہفتہ

بیج پھوٹتے ہیں اور ننھے پودے زمین سے باہر نکل آتے ہیں۔

دوسرا تا چوتھا ہفتہ

پودے زمین کو ڈھانپنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے دھوپ اور ہوا کے نقصان سے مٹی محفوظ رہتی ہے۔

پانچواں اور چھٹا ہفتہ

پودوں پر پھول آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران ان کی جڑوں میں موجود بیکٹیریا فضا سے نائٹروجن لے کر مٹی میں جمع کرتے ہیں۔

ساتواں تا دسواں ہفتہ

پھلیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔

نویں تا بارہویں ہفتے (60 سے 90 دن)

فصل تیار ہو جاتی ہے۔ اگر فصل کاٹ لی جائے تو اس کی باقیات زمین میں ملا کر مزید قدرتی کھاد حاصل کی جا سکتی ہے۔

یعنی صرف دو سے تین ماہ میں بنجر زمین دوبارہ زندہ اور زرخیز بننا شروع ہو جاتی ہے۔

قدرتی یوریا فیکٹری

مونگ کی دال کی جڑیں فضا سے نائٹروجن جذب کر کے مٹی میں جمع کرتی ہیں۔ ایک ہیکٹر مونگ کی فصل تقریباً 30 سے 60 کلوگرام نائٹروجن مٹی میں شامل کر سکتی ہے، جو تقریباً 65 سے 130 کلوگرام یوریا کھاد کے برابر ہے۔

آج کی قیمتوں کے مطابق یہ تقریباً 6 ہزار سے 12 ہزار روپے کی یوریا کھاد کے برابر بنتا ہے۔

یعنی اگر زمین ویسے بھی خالی پڑی ہے تو صرف مونگ اگانے سے ہزاروں روپے کی قدرتی کھاد مفت حاصل ہو سکتی ہے۔

اگر فصل نہ کاٹی جائے تو کیا ہوگا؟

مونگ کی دال کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اگر اسے نہ کاٹا جائے تو اس کی پھلیاں خشک ہو کر خود بخود زمین پر گر جاتی ہیں۔ ان پھلیوں سے بیج دوبارہ زمین میں بکھر جاتے ہیں۔

پھر جب بارش ہوتی ہے یا پانی لگتا ہے تو یہی بیج دوبارہ اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اس طرح قدرت خود ہی دوبارہ بیج بونے کا کام انجام دیتی ہے۔

یعنی:

* زمین خالی اور بنجر نہیں رہتی بلکہ سبز رہتی ہے۔
* ہر 60 سے 90 دن بعد ایک نئی نسل کے پودے پیدا ہو سکتے ہیں۔
* مٹی میں نامیاتی مادہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔
* زمین کی زرخیزی ہر سال بہتر ہوتی جاتی ہے۔
* پرندے، شہد کی مکھیاں، کیڑے اور زمین کے فائدہ مند جاندار واپس آ جاتے ہیں۔
* جڑی بوٹیوں کی افزائش کم ہو جاتی ہے۔
* بارش اور ہوا سے مٹی کے کٹاؤ میں کمی آتی ہے۔

گویا ایک بے جان زمین آہستہ آہستہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام (Ecosystem) میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

زمین کو مردہ ہونے سے بچانا

ننگی زمین سورج، ہوا اور بارش کے باعث اپنی نمی اور زرخیزی کھو دیتی ہے۔

مونگ کے پودے:

* مٹی کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں۔
* نمی کو محفوظ رکھتے ہیں۔
* سخت زمین کو نرم کرتے ہیں۔
* کیچوؤں اور فائدہ مند جراثیم کی افزائش میں مدد دیتے ہیں۔
* جڑی بوٹیوں کو قدرتی طور پر کم کرتے ہیں۔

کم خرچ، زیادہ فائدہ

مونگ کی فصل کو نسبتاً کم پانی درکار ہوتا ہے اور اسے اگانا آسان ہے۔

اگر ایک کلو بیج بویا جائے تو عام حالات میں تقریباً 10 سے 15 کلو مونگ حاصل ہو سکتی ہے۔

یعنی ایک طرف زمین بہتر ہوتی ہے اور دوسری طرف کسان کو اضافی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔

آنے والی فصلوں کے لیے بہترین تحفہ

مونگ کے بعد اگائی جانے والی گندم، کپاس، سبزیاں اور پھل دار درخت زیادہ اچھی پیداوار دیتے ہیں اور ان کے لیے کم کیمیائی کھاد درکار ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں دالوں کو زمین کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

غربت کے خلاف ایک خاموش ہتھیار

پاکستان ہر سال اربوں روپے کی کھاد درآمد کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے مونگ جیسی فصلوں کی صورت میں ایک قدرتی نظام پہلے ہی بنا رکھا ہے۔

اگر پاکستان کی لاکھوں ایکڑ خالی زمین پر صرف مونگ کی دال اگائی جائے تو:

* زمین کی زرخیزی بڑھے گی۔
* یوریا کھاد پر خرچ کم ہوگا۔
* خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
* کسانوں کی آمدنی بڑھے گی۔
* ماحول سرسبز ہوگا۔
* زیر زمین پانی محفوظ رہے گا۔
* پاکستان مزید خود کفیل بن سکے گا۔

نتیجہ

خالی زمین ایک ضائع شدہ نعمت ہے۔

صرف ایک مٹھی مونگ کے بیج، جو 60 سے 90 دن میں بڑھتے ہیں، زمین کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔

اور اگر فصل نہ بھی کاٹی جائے تو قدرت خود ہی اگلی فصل کا انتظام کر دیتی ہے۔

شاید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جو سب سے سادہ ہوتی ہیں۔

ایک مٹھی مونگ کی دال لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو دوبارہ سرسبز، زرخیز اور زندگی سے بھرپور بنا سکتی ہے۔
خالی زمین پر مونگ کی دال اگانے کے حیرت انگیز فوائد پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین ایسی ہے جو مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں تک خالی پڑی رہتی ہے۔ ایسی زمین آہستہ آہستہ اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، سخت اور بنجر ہو جاتی ہے، اور اس پر جڑی بوٹیاں اور گھاس پھوس قبضہ کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر اسی زمین پر صرف مونگ کی دال کے بیج بکھیر دیے جائیں تو قدرت خود اس زمین کو دوبارہ زندہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ مونگ صرف ایک خوراک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک قدرتی کھاد فیکٹری ہے۔ بیج سے فصل تک کا سفر پہلا ہفتہ بیج پھوٹتے ہیں اور ننھے پودے زمین سے باہر نکل آتے ہیں۔ دوسرا تا چوتھا ہفتہ پودے زمین کو ڈھانپنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے دھوپ اور ہوا کے نقصان سے مٹی محفوظ رہتی ہے۔ پانچواں اور چھٹا ہفتہ پودوں پر پھول آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران ان کی جڑوں میں موجود بیکٹیریا فضا سے نائٹروجن لے کر مٹی میں جمع کرتے ہیں۔ ساتواں تا دسواں ہفتہ پھلیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ نویں تا بارہویں ہفتے (60 سے 90 دن) فصل تیار ہو جاتی ہے۔ اگر فصل کاٹ لی جائے تو اس کی باقیات زمین میں ملا کر مزید قدرتی کھاد حاصل کی جا سکتی ہے۔ یعنی صرف دو سے تین ماہ میں بنجر زمین دوبارہ زندہ اور زرخیز بننا شروع ہو جاتی ہے۔ قدرتی یوریا فیکٹری مونگ کی دال کی جڑیں فضا سے نائٹروجن جذب کر کے مٹی میں جمع کرتی ہیں۔ ایک ہیکٹر مونگ کی فصل تقریباً 30 سے 60 کلوگرام نائٹروجن مٹی میں شامل کر سکتی ہے، جو تقریباً 65 سے 130 کلوگرام یوریا کھاد کے برابر ہے۔ آج کی قیمتوں کے مطابق یہ تقریباً 6 ہزار سے 12 ہزار روپے کی یوریا کھاد کے برابر بنتا ہے۔ یعنی اگر زمین ویسے بھی خالی پڑی ہے تو صرف مونگ اگانے سے ہزاروں روپے کی قدرتی کھاد مفت حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر فصل نہ کاٹی جائے تو کیا ہوگا؟ مونگ کی دال کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اگر اسے نہ کاٹا جائے تو اس کی پھلیاں خشک ہو کر خود بخود زمین پر گر جاتی ہیں۔ ان پھلیوں سے بیج دوبارہ زمین میں بکھر جاتے ہیں۔ پھر جب بارش ہوتی ہے یا پانی لگتا ہے تو یہی بیج دوبارہ اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قدرت خود ہی دوبارہ بیج بونے کا کام انجام دیتی ہے۔ یعنی: * زمین خالی اور بنجر نہیں رہتی بلکہ سبز رہتی ہے۔ * ہر 60 سے 90 دن بعد ایک نئی نسل کے پودے پیدا ہو سکتے ہیں۔ * مٹی میں نامیاتی مادہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ * زمین کی زرخیزی ہر سال بہتر ہوتی جاتی ہے۔ * پرندے، شہد کی مکھیاں، کیڑے اور زمین کے فائدہ مند جاندار واپس آ جاتے ہیں۔ * جڑی بوٹیوں کی افزائش کم ہو جاتی ہے۔ * بارش اور ہوا سے مٹی کے کٹاؤ میں کمی آتی ہے۔ گویا ایک بے جان زمین آہستہ آہستہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام (Ecosystem) میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ زمین کو مردہ ہونے سے بچانا ننگی زمین سورج، ہوا اور بارش کے باعث اپنی نمی اور زرخیزی کھو دیتی ہے۔ مونگ کے پودے: * مٹی کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں۔ * نمی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ * سخت زمین کو نرم کرتے ہیں۔ * کیچوؤں اور فائدہ مند جراثیم کی افزائش میں مدد دیتے ہیں۔ * جڑی بوٹیوں کو قدرتی طور پر کم کرتے ہیں۔ کم خرچ، زیادہ فائدہ مونگ کی فصل کو نسبتاً کم پانی درکار ہوتا ہے اور اسے اگانا آسان ہے۔ اگر ایک کلو بیج بویا جائے تو عام حالات میں تقریباً 10 سے 15 کلو مونگ حاصل ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک طرف زمین بہتر ہوتی ہے اور دوسری طرف کسان کو اضافی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ آنے والی فصلوں کے لیے بہترین تحفہ مونگ کے بعد اگائی جانے والی گندم، کپاس، سبزیاں اور پھل دار درخت زیادہ اچھی پیداوار دیتے ہیں اور ان کے لیے کم کیمیائی کھاد درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں دالوں کو زمین کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غربت کے خلاف ایک خاموش ہتھیار پاکستان ہر سال اربوں روپے کی کھاد درآمد کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے مونگ جیسی فصلوں کی صورت میں ایک قدرتی نظام پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ اگر پاکستان کی لاکھوں ایکڑ خالی زمین پر صرف مونگ کی دال اگائی جائے تو: * زمین کی زرخیزی بڑھے گی۔ * یوریا کھاد پر خرچ کم ہوگا۔ * خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ * کسانوں کی آمدنی بڑھے گی۔ * ماحول سرسبز ہوگا۔ * زیر زمین پانی محفوظ رہے گا۔ * پاکستان مزید خود کفیل بن سکے گا۔ نتیجہ خالی زمین ایک ضائع شدہ نعمت ہے۔ صرف ایک مٹھی مونگ کے بیج، جو 60 سے 90 دن میں بڑھتے ہیں، زمین کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ اور اگر فصل نہ بھی کاٹی جائے تو قدرت خود ہی اگلی فصل کا انتظام کر دیتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جو سب سے سادہ ہوتی ہیں۔ ایک مٹھی مونگ کی دال لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو دوبارہ سرسبز، زرخیز اور زندگی سے بھرپور بنا سکتی ہے۔
0 Комментарии 0 Поделились 27 Просмотры