سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب علی راشد صاحب کے لیے ایک تجویز
محترم جناب علی راشد صاحب،
Ali Rashid
مصنوعی ذہانت (AI)، پروگرامنگ، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں مستقبل کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔ لیکن ہزاروں طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ایک مناسب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی عدم دستیابی ہے۔
میری تجویز ہے کہ سندھ کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام شروع کرے جس کے تحت طلبہ کو صرف 1,000 روپے ماہانہ میں کروم بکس یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں۔
یہ منصوبہ کیسے کام کر سکتا ہے؟
سندھ آئی ٹی وزارت صرف ایک سہولت کار (Facilitator) کا کردار ادا کرے اور ایک میز پر درج ذیل اداروں کو اکٹھا کرے:
* کمرشل بینک
* مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والے ادارے
* تعلیمی ادارے اور ٹریننگ سینٹرز
وزارت کا بنیادی کردار صرف رابطہ کاری، آگاہی اور میڈیا سپورٹ فراہم کرنا ہوگا۔
مالیاتی ماڈل
فرض کریں ایک کروم بک یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ کی قیمت 8,000 روپے ہے۔
* فروخت کنندہ یہ لیپ ٹاپ بینک کو 8,000 روپے میں فراہم کرے۔
* بینک یا مائیکرو فنانس ادارہ طالب علم کو آسان اقساط پر یہ لیپ ٹاپ فراہم کرے۔
* طالب علم 12 ماہ تک تقریباً 1,000 روپے ماہانہ ادا کرے، یعنی مجموعی طور پر 12,000 روپے۔
* اس طرح بینک کو تقریباً 4,000 روپے (تقریباً 50 فیصد) کا منافع حاصل ہوگا، جو اس منصوبے کو معاشی طور پر قابلِ عمل بناتا ہے۔
* تمام اقساط مکمل ہونے کے بعد لیپ ٹاپ طالب علم کی ملکیت بن جائے گا۔
اس سے کس کو فائدہ ہوگا؟
* طلبہ کو لیپ ٹاپ ملے گا۔
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والوں کی فروخت بڑھے گی۔
* بینکوں کو منافع حاصل ہوگا۔
* حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
* سندھ کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس نوجوان ملیں گے۔
حکومت کو کیا خرچ کرنا ہوگا؟
تقریباً کچھ بھی نہیں۔
حکومت صرف اپنی:
* ساکھ (Credibility)
* میڈیا اور سوشل میڈیا کی طاقت
* پریس کانفرنسز
* مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری
کو استعمال کرے گی۔
متوقع نتائج
* لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کا موقع ملے گا۔
* AI، پروگرامنگ اور فری لانسنگ کو فروغ ملے گا۔
* سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا۔
* نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپس وجود میں آئیں گے۔
* نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھیں گے۔
اگلا قدم
سندھ آئی ٹی وزارت درج ذیل اداروں کے ساتھ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کرے:
* میزان بینک
* حبیب بینک
* یو بی ایل
* سندھ بینک
* خوشحالی مائیکرو فنانس بینک
* موبی لنک مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان اور فروخت کنندگان
* تعلیمی ادارے
اور مل کر “ہر طالب علم کے لیے لیپ ٹاپ سندھ پروگرام” کا آغاز کریں۔
جس طرح موبائل فون نے رابطوں کی دنیا بدل دی، اسی طرح سستے لیپ ٹاپ سندھ کے نوجوانوں کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
آج AI نئی بجلی (Electricity) ہے، اور آنے والے دور میں لیپ ٹاپ تک رسائی اتنی ہی ضروری ہوگی جتنی بجلی تک رسائی ہے۔
احترام کے ساتھ،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
دنیا کا پہلا AI فرسٹ اسکول
محترم جناب علی راشد صاحب،
Ali Rashid
مصنوعی ذہانت (AI)، پروگرامنگ، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں مستقبل کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔ لیکن ہزاروں طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ایک مناسب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی عدم دستیابی ہے۔
میری تجویز ہے کہ سندھ کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام شروع کرے جس کے تحت طلبہ کو صرف 1,000 روپے ماہانہ میں کروم بکس یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں۔
یہ منصوبہ کیسے کام کر سکتا ہے؟
سندھ آئی ٹی وزارت صرف ایک سہولت کار (Facilitator) کا کردار ادا کرے اور ایک میز پر درج ذیل اداروں کو اکٹھا کرے:
* کمرشل بینک
* مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والے ادارے
* تعلیمی ادارے اور ٹریننگ سینٹرز
وزارت کا بنیادی کردار صرف رابطہ کاری، آگاہی اور میڈیا سپورٹ فراہم کرنا ہوگا۔
مالیاتی ماڈل
فرض کریں ایک کروم بک یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ کی قیمت 8,000 روپے ہے۔
* فروخت کنندہ یہ لیپ ٹاپ بینک کو 8,000 روپے میں فراہم کرے۔
* بینک یا مائیکرو فنانس ادارہ طالب علم کو آسان اقساط پر یہ لیپ ٹاپ فراہم کرے۔
* طالب علم 12 ماہ تک تقریباً 1,000 روپے ماہانہ ادا کرے، یعنی مجموعی طور پر 12,000 روپے۔
* اس طرح بینک کو تقریباً 4,000 روپے (تقریباً 50 فیصد) کا منافع حاصل ہوگا، جو اس منصوبے کو معاشی طور پر قابلِ عمل بناتا ہے۔
* تمام اقساط مکمل ہونے کے بعد لیپ ٹاپ طالب علم کی ملکیت بن جائے گا۔
اس سے کس کو فائدہ ہوگا؟
* طلبہ کو لیپ ٹاپ ملے گا۔
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والوں کی فروخت بڑھے گی۔
* بینکوں کو منافع حاصل ہوگا۔
* حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
* سندھ کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس نوجوان ملیں گے۔
حکومت کو کیا خرچ کرنا ہوگا؟
تقریباً کچھ بھی نہیں۔
حکومت صرف اپنی:
* ساکھ (Credibility)
* میڈیا اور سوشل میڈیا کی طاقت
* پریس کانفرنسز
* مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری
کو استعمال کرے گی۔
متوقع نتائج
* لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کا موقع ملے گا۔
* AI، پروگرامنگ اور فری لانسنگ کو فروغ ملے گا۔
* سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا۔
* نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپس وجود میں آئیں گے۔
* نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھیں گے۔
اگلا قدم
سندھ آئی ٹی وزارت درج ذیل اداروں کے ساتھ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کرے:
* میزان بینک
* حبیب بینک
* یو بی ایل
* سندھ بینک
* خوشحالی مائیکرو فنانس بینک
* موبی لنک مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان اور فروخت کنندگان
* تعلیمی ادارے
اور مل کر “ہر طالب علم کے لیے لیپ ٹاپ سندھ پروگرام” کا آغاز کریں۔
جس طرح موبائل فون نے رابطوں کی دنیا بدل دی، اسی طرح سستے لیپ ٹاپ سندھ کے نوجوانوں کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
آج AI نئی بجلی (Electricity) ہے، اور آنے والے دور میں لیپ ٹاپ تک رسائی اتنی ہی ضروری ہوگی جتنی بجلی تک رسائی ہے۔
احترام کے ساتھ،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
دنیا کا پہلا AI فرسٹ اسکول
سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب علی راشد صاحب کے لیے ایک تجویز
محترم جناب علی راشد صاحب،
Ali Rashid
مصنوعی ذہانت (AI)، پروگرامنگ، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں مستقبل کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔ لیکن ہزاروں طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ایک مناسب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی عدم دستیابی ہے۔
میری تجویز ہے کہ سندھ کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام شروع کرے جس کے تحت طلبہ کو صرف 1,000 روپے ماہانہ میں کروم بکس یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں۔
یہ منصوبہ کیسے کام کر سکتا ہے؟
سندھ آئی ٹی وزارت صرف ایک سہولت کار (Facilitator) کا کردار ادا کرے اور ایک میز پر درج ذیل اداروں کو اکٹھا کرے:
* کمرشل بینک
* مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والے ادارے
* تعلیمی ادارے اور ٹریننگ سینٹرز
وزارت کا بنیادی کردار صرف رابطہ کاری، آگاہی اور میڈیا سپورٹ فراہم کرنا ہوگا۔
مالیاتی ماڈل
فرض کریں ایک کروم بک یا ریفربشڈ لیپ ٹاپ کی قیمت 8,000 روپے ہے۔
* فروخت کنندہ یہ لیپ ٹاپ بینک کو 8,000 روپے میں فراہم کرے۔
* بینک یا مائیکرو فنانس ادارہ طالب علم کو آسان اقساط پر یہ لیپ ٹاپ فراہم کرے۔
* طالب علم 12 ماہ تک تقریباً 1,000 روپے ماہانہ ادا کرے، یعنی مجموعی طور پر 12,000 روپے۔
* اس طرح بینک کو تقریباً 4,000 روپے (تقریباً 50 فیصد) کا منافع حاصل ہوگا، جو اس منصوبے کو معاشی طور پر قابلِ عمل بناتا ہے۔
* تمام اقساط مکمل ہونے کے بعد لیپ ٹاپ طالب علم کی ملکیت بن جائے گا۔
اس سے کس کو فائدہ ہوگا؟
* طلبہ کو لیپ ٹاپ ملے گا۔
* لیپ ٹاپ فروخت کرنے والوں کی فروخت بڑھے گی۔
* بینکوں کو منافع حاصل ہوگا۔
* حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
* سندھ کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس نوجوان ملیں گے۔
حکومت کو کیا خرچ کرنا ہوگا؟
تقریباً کچھ بھی نہیں۔
حکومت صرف اپنی:
* ساکھ (Credibility)
* میڈیا اور سوشل میڈیا کی طاقت
* پریس کانفرنسز
* مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری
کو استعمال کرے گی۔
متوقع نتائج
* لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کا موقع ملے گا۔
* AI، پروگرامنگ اور فری لانسنگ کو فروغ ملے گا۔
* سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا۔
* نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپس وجود میں آئیں گے۔
* نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھیں گے۔
اگلا قدم
سندھ آئی ٹی وزارت درج ذیل اداروں کے ساتھ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کرے:
* میزان بینک
* حبیب بینک
* یو بی ایل
* سندھ بینک
* خوشحالی مائیکرو فنانس بینک
* موبی لنک مائیکرو فنانس بینک
* لیپ ٹاپ درآمد کنندگان اور فروخت کنندگان
* تعلیمی ادارے
اور مل کر “ہر طالب علم کے لیے لیپ ٹاپ سندھ پروگرام” کا آغاز کریں۔
جس طرح موبائل فون نے رابطوں کی دنیا بدل دی، اسی طرح سستے لیپ ٹاپ سندھ کے نوجوانوں کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
آج AI نئی بجلی (Electricity) ہے، اور آنے والے دور میں لیپ ٹاپ تک رسائی اتنی ہی ضروری ہوگی جتنی بجلی تک رسائی ہے۔
احترام کے ساتھ،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
دنیا کا پہلا AI فرسٹ اسکول
0 تبصرے
0 شیئرز
30 ویوز