بارش کا پانی ضائع نہ ہونے دیں، پاکستان کے پانی کو بچائیں اور ایک نئی صنعت کی بنیاد رکھیں

پاکستان ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر سال اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کروڑوں گیلن بارش کو نالوں اور سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے کنویں، بورنگ اور زیرِ زمین آبی ذخائر دن بدن خالی ہوتے جا رہے ہیں۔

اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی حکومت نے اب بارش کے پانی کو محفوظ کرنے (Rain Water Harvesting) کو نئی تعمیرات کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو اپنے پانی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ صرف ماحولیات کی خدمت نہیں، بلکہ ایک عظیم کاروباری موقع بھی ہے۔

ہمارے ملک کو ہزاروں ایسے دیانت دار اور مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اس میدان میں آگے آئیں اور لوگوں کو معیاری اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کریں تاکہ زیرِ زمین پانی محفوظ ہو سکے اور پاکستان پانی کی تباہی سے بچ سکے۔

الحمدللہ، جناب یوسف ریاض صاحب نے اس مشن کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے راولپنڈی میں پاکستان کا پہلا خصوصی تربیتی مرکز قائم کیا اور اب تک 250 سے زیادہ کامیاب منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔

وہ اس شعبے میں تین ماہ کی عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد آپ چاہیں تو ان کی فرنچائز حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اپنا آزاد کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔

یہ کاروبار صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے۔ آپ کی لگائی ہوئی ہر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کرے گی۔

اگر آپ نوجوان ہیں، انجینئر ہیں، بلڈر ہیں، اسکول چلاتے ہیں یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شعبہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔

مزید معلومات کے لیے:

Website:
waterman.pk

جناب یوسف ریاض صاحب

Yousaf Riaz
+92 341 6622526

واٹس ایپ گروپ:
https://chat.whatsapp.com/GAByHqfJ4BxH8oMCBKNVz0

آج اگر ہزاروں ایماندار پاکستانی اس شعبے میں داخل ہو جائیں تو ہم نہ صرف ایک نئی صنعت کھڑی کر سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں اور پوتوں کے لیے پانی کا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ بارش کی صورت میں ہمیں جو نعمت عطا کرتا ہے، اسے ضائع ہونے سے بچانا صرف ایک کاروبار نہیں، بلکہ ایک قومی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔

شاید آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کی کمی سے بچانے والے ہی اس قوم کے اصل ہیرو کہلائیں گے۔
بارش کا پانی ضائع نہ ہونے دیں، پاکستان کے پانی کو بچائیں اور ایک نئی صنعت کی بنیاد رکھیں پاکستان ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر سال اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کروڑوں گیلن بارش کو نالوں اور سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے کنویں، بورنگ اور زیرِ زمین آبی ذخائر دن بدن خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی حکومت نے اب بارش کے پانی کو محفوظ کرنے (Rain Water Harvesting) کو نئی تعمیرات کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو اپنے پانی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ماحولیات کی خدمت نہیں، بلکہ ایک عظیم کاروباری موقع بھی ہے۔ ہمارے ملک کو ہزاروں ایسے دیانت دار اور مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اس میدان میں آگے آئیں اور لوگوں کو معیاری اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کریں تاکہ زیرِ زمین پانی محفوظ ہو سکے اور پاکستان پانی کی تباہی سے بچ سکے۔ الحمدللہ، جناب یوسف ریاض صاحب نے اس مشن کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے راولپنڈی میں پاکستان کا پہلا خصوصی تربیتی مرکز قائم کیا اور اب تک 250 سے زیادہ کامیاب منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ وہ اس شعبے میں تین ماہ کی عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد آپ چاہیں تو ان کی فرنچائز حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اپنا آزاد کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ یہ کاروبار صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے۔ آپ کی لگائی ہوئی ہر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کرے گی۔ اگر آپ نوجوان ہیں، انجینئر ہیں، بلڈر ہیں، اسکول چلاتے ہیں یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شعبہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ مزید معلومات کے لیے: 🌐 Website: waterman.pk 📞 جناب یوسف ریاض صاحب Yousaf Riaz +92 341 6622526 📱 واٹس ایپ گروپ: https://chat.whatsapp.com/GAByHqfJ4BxH8oMCBKNVz0 آج اگر ہزاروں ایماندار پاکستانی اس شعبے میں داخل ہو جائیں تو ہم نہ صرف ایک نئی صنعت کھڑی کر سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں اور پوتوں کے لیے پانی کا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بارش کی صورت میں ہمیں جو نعمت عطا کرتا ہے، اسے ضائع ہونے سے بچانا صرف ایک کاروبار نہیں، بلکہ ایک قومی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ شاید آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کی کمی سے بچانے والے ہی اس قوم کے اصل ہیرو کہلائیں گے۔
0 Commenti 0 condivisioni 32 Views