دو خواتین کی کہانی
آج سے تقریباً چار سال پہلے دو مائیں اپنے اپنے چار چار بچوں کے ساتھ ریحان اسکول کورنگی پہنچیں۔ میں ان کو جانتا تک نہیں تھا۔
بائیں طرف موجود ثبا ابراہیم صاحبہ اپنے چار بچوں کو کورنگی سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تقریباً 8، 9، 14 اور 15 سال تھیں۔
دائیں طرف موجود راحت پروین صاحبہ اپنے چار بچوں کو فیصل آباد سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی تقریباً اسی کے آس پاس تھیں۔
آج، چار سال بعد، ثبا ابراہیم صاحبہ کی بڑی بیٹی مناحل ریموٹ جاب والی، 19 سال کی عمر میں، ریحان اسکول کے تمام کیمپسز کے سافٹ ویئر اور آپریشنز چلانے میں میری مدد کر رہی ہے۔
اور راحت پروین صاحبہ کی بیٹی حجاب، صرف 15 سال کی عمر میں، تمام اسکولوں کے اکاؤنٹنگ اور HR کے سافٹ ویئر کو مینیج کر رہی ہے۔
میں ان دونوں بہنوں کا دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میرا حوصلہ بڑھایا، مجھے طاقت دی، اور ریحان اسکول بنانے اور چلانے میں میرا ساتھ دیا۔
کئی بار ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھ پر کیا، شاید میں خود بھی اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ کر پاتا۔
راحت پروین صاحبہ نے تو میرے ہاتھ پر شاگردی کی بیعت بھی کی۔ آج وہ اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ ایک کالج اور ایک اسکول میں چھ ماہ تک بطور پرنسپل خدمات انجام دے چکی ہیں، اور اب تین نئے چھوٹے اسکول قائم کرنے جا رہی ہیں، جو ریحان کالج آف ایجوکیشن کے طلبہ کے لیے ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کریں گے۔
میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی پیاری بہنیں، ایسے مخلص ساتھی، اور ایسے دن رات محنت کرنے والے لوگ عطا کیے، جن کی وجہ سے آج ریحان اسکول کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور کامیابیوں کی پہلی کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں۔
ریحان اسکول صرف ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، محبت، قربانی اور مل کر خواب دیکھنے والوں کی ایک تحریک ہے۔
الحمدللہ
Thank you Saba Ibrahim and Rahat CounsellingWali
آج سے تقریباً چار سال پہلے دو مائیں اپنے اپنے چار چار بچوں کے ساتھ ریحان اسکول کورنگی پہنچیں۔ میں ان کو جانتا تک نہیں تھا۔
بائیں طرف موجود ثبا ابراہیم صاحبہ اپنے چار بچوں کو کورنگی سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تقریباً 8، 9، 14 اور 15 سال تھیں۔
دائیں طرف موجود راحت پروین صاحبہ اپنے چار بچوں کو فیصل آباد سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی تقریباً اسی کے آس پاس تھیں۔
آج، چار سال بعد، ثبا ابراہیم صاحبہ کی بڑی بیٹی مناحل ریموٹ جاب والی، 19 سال کی عمر میں، ریحان اسکول کے تمام کیمپسز کے سافٹ ویئر اور آپریشنز چلانے میں میری مدد کر رہی ہے۔
اور راحت پروین صاحبہ کی بیٹی حجاب، صرف 15 سال کی عمر میں، تمام اسکولوں کے اکاؤنٹنگ اور HR کے سافٹ ویئر کو مینیج کر رہی ہے۔
میں ان دونوں بہنوں کا دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میرا حوصلہ بڑھایا، مجھے طاقت دی، اور ریحان اسکول بنانے اور چلانے میں میرا ساتھ دیا۔
کئی بار ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھ پر کیا، شاید میں خود بھی اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ کر پاتا۔
راحت پروین صاحبہ نے تو میرے ہاتھ پر شاگردی کی بیعت بھی کی۔ آج وہ اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ ایک کالج اور ایک اسکول میں چھ ماہ تک بطور پرنسپل خدمات انجام دے چکی ہیں، اور اب تین نئے چھوٹے اسکول قائم کرنے جا رہی ہیں، جو ریحان کالج آف ایجوکیشن کے طلبہ کے لیے ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کریں گے۔
میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی پیاری بہنیں، ایسے مخلص ساتھی، اور ایسے دن رات محنت کرنے والے لوگ عطا کیے، جن کی وجہ سے آج ریحان اسکول کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور کامیابیوں کی پہلی کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں۔
ریحان اسکول صرف ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، محبت، قربانی اور مل کر خواب دیکھنے والوں کی ایک تحریک ہے۔
الحمدللہ
Thank you Saba Ibrahim and Rahat CounsellingWali
دو خواتین کی کہانی ❤️
آج سے تقریباً چار سال پہلے دو مائیں اپنے اپنے چار چار بچوں کے ساتھ ریحان اسکول کورنگی پہنچیں۔ میں ان کو جانتا تک نہیں تھا۔
بائیں طرف موجود ثبا ابراہیم صاحبہ اپنے چار بچوں کو کورنگی سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تقریباً 8، 9، 14 اور 15 سال تھیں۔
دائیں طرف موجود راحت پروین صاحبہ اپنے چار بچوں کو فیصل آباد سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی تقریباً اسی کے آس پاس تھیں۔
آج، چار سال بعد، ثبا ابراہیم صاحبہ کی بڑی بیٹی مناحل ریموٹ جاب والی، 19 سال کی عمر میں، ریحان اسکول کے تمام کیمپسز کے سافٹ ویئر اور آپریشنز چلانے میں میری مدد کر رہی ہے۔
اور راحت پروین صاحبہ کی بیٹی حجاب، صرف 15 سال کی عمر میں، تمام اسکولوں کے اکاؤنٹنگ اور HR کے سافٹ ویئر کو مینیج کر رہی ہے۔
میں ان دونوں بہنوں کا دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میرا حوصلہ بڑھایا، مجھے طاقت دی، اور ریحان اسکول بنانے اور چلانے میں میرا ساتھ دیا۔
کئی بار ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھ پر کیا، شاید میں خود بھی اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ کر پاتا۔
راحت پروین صاحبہ نے تو میرے ہاتھ پر شاگردی کی بیعت بھی کی۔ آج وہ اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ ایک کالج اور ایک اسکول میں چھ ماہ تک بطور پرنسپل خدمات انجام دے چکی ہیں، اور اب تین نئے چھوٹے اسکول قائم کرنے جا رہی ہیں، جو ریحان کالج آف ایجوکیشن کے طلبہ کے لیے ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کریں گے۔
میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی پیاری بہنیں، ایسے مخلص ساتھی، اور ایسے دن رات محنت کرنے والے لوگ عطا کیے، جن کی وجہ سے آج ریحان اسکول کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور کامیابیوں کی پہلی کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں۔
ریحان اسکول صرف ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، محبت، قربانی اور مل کر خواب دیکھنے والوں کی ایک تحریک ہے۔
الحمدللہ ❤️
Thank you Saba Ibrahim and Rahat CounsellingWali
0 Comments
0 Shares
36 Views