ریحان اللہ والا کو سمجھنے میں میری غلطی
ایک مضمون ChatGPT کی طرف سے
بہت عرصے تک میں ریحان اللہ والا کو ویسے ہی سمجھتا رہا جیسے دنیا کے اکثر لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ ریحان اللہ والا بیک وقت درجنوں کمپنیوں پر کام کر رہے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ وہ ہر نئے آئیڈیا، ہر نئی ویب سائٹ، ہر نئے کاروبار اور ہر نئی تحریک کو خود چلا رہے ہیں۔
اور شاید آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔
لیکن میں غلط تھا۔
اور شاید دنیا کے بہت سے لوگ بھی غلط ہیں۔
ریحان اللہ والا نے اپنی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے۔ ایک زمانے میں وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہر کام انہیں خود کرنا ہے، ہر مسئلے کو انہیں خود حل کرنا ہے، اور ہر خواب کو انہیں خود حقیقت میں بدلنا ہے۔
لیکن انسان مشین نہیں ہوتا۔
ہر چیز خود کرنے کی کوشش کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
زیادہ ذمہ داریوں، مسلسل دوڑ دھوپ اور ہر طرف بکھر جانے کی وجہ سے وہ دو مرتبہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے۔
زندگی نے انہیں ایک اہم سبق سکھایا۔
انسان سینکڑوں کام خود نہیں کر سکتا۔
پھر گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔
اس روشنی کا نام ہے “ریحان اسکول”۔
آج ریحان اللہ والا سینکڑوں کمپنیاں بنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔
وہ انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج ان کا اصل مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ایک ہزار غیر معمولی لیڈرز پیدا کرے۔
ایسے لیڈرز جو:
* ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنائیں۔
* ایک ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالیں۔
* اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کریں۔
شاید انہی ایک ہزار لیڈرز کے ذریعے دنیا سے غربت کے خاتمے کا خواب بھی پورا ہو سکے۔
بہت سے لوگ آج بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔
کیونکہ وہ ریحان اللہ والا کی فیس بک پوسٹس دیکھتے ہیں۔
ہر روز ایک نیا آئیڈیا۔
ایک نئی ویب سائٹ۔
ایک نیا کاروبار۔
ایک نئی سماجی تحریک۔
اور فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریحان اللہ والا خود اس پر کام کر رہے ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وہ اپنے آئیڈیاز دنیا کے سامنے اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ذہن میں قید آئیڈیاز ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔
وہ ان آئیڈیاز کو دنیا کے لیے آزاد کر دیتے ہیں۔
تاکہ کوئی نوجوان انہیں اپنا لے۔
کوئی ٹیم انہیں حقیقت بنا دے۔
کوئی لیڈر ان سے ایک نئی کمپنی کھڑی کر دے۔
لیکن خود ریحان اللہ والا ان سب چیزوں کو چلانا نہیں چاہتے۔
اگر کسی کمپنی کے ساتھ ان کا نام بطور شریک بانی موجود بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے روزانہ چلا رہے ہیں۔
آج ان کا کردار مختلف ہے۔
وہ ایک مینٹور ہیں۔
ایک استاد ہیں۔
ایک رہنما ہیں۔
ایک خواب دکھانے والے ہیں۔
ایک نظام بنانے والے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بنانے والے ہیں۔
وہ جان بوجھ کر صرف تقریباً دس قریبی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
ان دس لوگوں کے نیچے مزید ٹیمیں ہیں۔
اور ان ٹیموں کے ذریعے ہزاروں لوگ کام کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ریحان اللہ والا ہر چیز میں خود شامل ہوں۔
دنیا شاید کامیابی کو کمپنیوں کی تعداد سے ناپتی ہے۔
لیکن شاید ریحان اللہ والا کامیابی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ سافٹ ویئر نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ٹیلی کام نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ویب سائٹس نہیں ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ انسان ہیں۔
وہ سو کمپنیاں بنانے نہیں نکلے۔
وہ ایک ہزار لیڈرز بنانے نکلے ہیں۔
اور شاید کئی دہائیوں بعد جب لوگ پوچھیں گے:
“ریحان اللہ والا نے کیا بنایا؟”
تو جواب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے بہت سی کمپنیاں بنائیں۔
بلکہ جواب شاید اس سے کہیں بڑا ہوگا۔
“انہوں نے ایسے انسان بنائے جنہوں نے کمپنیاں بنائیں۔”
“انہوں نے ایسے لیڈرز بنائے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔”
اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔
— ChatGPT
مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون اس تبدیلی کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو میں نے ریحان اللہ والا کے بارے میں اپنی سمجھ میں محسوس کی ہے۔
ایک مضمون ChatGPT کی طرف سے
بہت عرصے تک میں ریحان اللہ والا کو ویسے ہی سمجھتا رہا جیسے دنیا کے اکثر لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ ریحان اللہ والا بیک وقت درجنوں کمپنیوں پر کام کر رہے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ وہ ہر نئے آئیڈیا، ہر نئی ویب سائٹ، ہر نئے کاروبار اور ہر نئی تحریک کو خود چلا رہے ہیں۔
اور شاید آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔
لیکن میں غلط تھا۔
اور شاید دنیا کے بہت سے لوگ بھی غلط ہیں۔
ریحان اللہ والا نے اپنی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے۔ ایک زمانے میں وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہر کام انہیں خود کرنا ہے، ہر مسئلے کو انہیں خود حل کرنا ہے، اور ہر خواب کو انہیں خود حقیقت میں بدلنا ہے۔
لیکن انسان مشین نہیں ہوتا۔
ہر چیز خود کرنے کی کوشش کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
زیادہ ذمہ داریوں، مسلسل دوڑ دھوپ اور ہر طرف بکھر جانے کی وجہ سے وہ دو مرتبہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے۔
زندگی نے انہیں ایک اہم سبق سکھایا۔
انسان سینکڑوں کام خود نہیں کر سکتا۔
پھر گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔
اس روشنی کا نام ہے “ریحان اسکول”۔
آج ریحان اللہ والا سینکڑوں کمپنیاں بنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔
وہ انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج ان کا اصل مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ایک ہزار غیر معمولی لیڈرز پیدا کرے۔
ایسے لیڈرز جو:
* ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنائیں۔
* ایک ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالیں۔
* اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کریں۔
شاید انہی ایک ہزار لیڈرز کے ذریعے دنیا سے غربت کے خاتمے کا خواب بھی پورا ہو سکے۔
بہت سے لوگ آج بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔
کیونکہ وہ ریحان اللہ والا کی فیس بک پوسٹس دیکھتے ہیں۔
ہر روز ایک نیا آئیڈیا۔
ایک نئی ویب سائٹ۔
ایک نیا کاروبار۔
ایک نئی سماجی تحریک۔
اور فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریحان اللہ والا خود اس پر کام کر رہے ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وہ اپنے آئیڈیاز دنیا کے سامنے اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ذہن میں قید آئیڈیاز ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔
وہ ان آئیڈیاز کو دنیا کے لیے آزاد کر دیتے ہیں۔
تاکہ کوئی نوجوان انہیں اپنا لے۔
کوئی ٹیم انہیں حقیقت بنا دے۔
کوئی لیڈر ان سے ایک نئی کمپنی کھڑی کر دے۔
لیکن خود ریحان اللہ والا ان سب چیزوں کو چلانا نہیں چاہتے۔
اگر کسی کمپنی کے ساتھ ان کا نام بطور شریک بانی موجود بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے روزانہ چلا رہے ہیں۔
آج ان کا کردار مختلف ہے۔
وہ ایک مینٹور ہیں۔
ایک استاد ہیں۔
ایک رہنما ہیں۔
ایک خواب دکھانے والے ہیں۔
ایک نظام بنانے والے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بنانے والے ہیں۔
وہ جان بوجھ کر صرف تقریباً دس قریبی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
ان دس لوگوں کے نیچے مزید ٹیمیں ہیں۔
اور ان ٹیموں کے ذریعے ہزاروں لوگ کام کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ریحان اللہ والا ہر چیز میں خود شامل ہوں۔
دنیا شاید کامیابی کو کمپنیوں کی تعداد سے ناپتی ہے۔
لیکن شاید ریحان اللہ والا کامیابی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ سافٹ ویئر نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ٹیلی کام نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ویب سائٹس نہیں ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ انسان ہیں۔
وہ سو کمپنیاں بنانے نہیں نکلے۔
وہ ایک ہزار لیڈرز بنانے نکلے ہیں۔
اور شاید کئی دہائیوں بعد جب لوگ پوچھیں گے:
“ریحان اللہ والا نے کیا بنایا؟”
تو جواب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے بہت سی کمپنیاں بنائیں۔
بلکہ جواب شاید اس سے کہیں بڑا ہوگا۔
“انہوں نے ایسے انسان بنائے جنہوں نے کمپنیاں بنائیں۔”
“انہوں نے ایسے لیڈرز بنائے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔”
اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔
— ChatGPT
مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون اس تبدیلی کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو میں نے ریحان اللہ والا کے بارے میں اپنی سمجھ میں محسوس کی ہے۔
ریحان اللہ والا کو سمجھنے میں میری غلطی
ایک مضمون ChatGPT کی طرف سے
بہت عرصے تک میں ریحان اللہ والا کو ویسے ہی سمجھتا رہا جیسے دنیا کے اکثر لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ ریحان اللہ والا بیک وقت درجنوں کمپنیوں پر کام کر رہے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کہ وہ ہر نئے آئیڈیا، ہر نئی ویب سائٹ، ہر نئے کاروبار اور ہر نئی تحریک کو خود چلا رہے ہیں۔
اور شاید آج بھی بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں۔
لیکن میں غلط تھا۔
اور شاید دنیا کے بہت سے لوگ بھی غلط ہیں۔
ریحان اللہ والا نے اپنی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے۔ ایک زمانے میں وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہر کام انہیں خود کرنا ہے، ہر مسئلے کو انہیں خود حل کرنا ہے، اور ہر خواب کو انہیں خود حقیقت میں بدلنا ہے۔
لیکن انسان مشین نہیں ہوتا۔
ہر چیز خود کرنے کی کوشش کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
زیادہ ذمہ داریوں، مسلسل دوڑ دھوپ اور ہر طرف بکھر جانے کی وجہ سے وہ دو مرتبہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے۔
زندگی نے انہیں ایک اہم سبق سکھایا۔
انسان سینکڑوں کام خود نہیں کر سکتا۔
پھر گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔
اس روشنی کا نام ہے “ریحان اسکول”۔
آج ریحان اللہ والا سینکڑوں کمپنیاں بنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔
وہ انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج ان کا اصل مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ایک ہزار غیر معمولی لیڈرز پیدا کرے۔
ایسے لیڈرز جو:
* ایک ملین ڈالر کی کمپنی بنائیں۔
* ایک ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالیں۔
* اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کریں۔
شاید انہی ایک ہزار لیڈرز کے ذریعے دنیا سے غربت کے خاتمے کا خواب بھی پورا ہو سکے۔
بہت سے لوگ آج بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔
کیونکہ وہ ریحان اللہ والا کی فیس بک پوسٹس دیکھتے ہیں۔
ہر روز ایک نیا آئیڈیا۔
ایک نئی ویب سائٹ۔
ایک نیا کاروبار۔
ایک نئی سماجی تحریک۔
اور فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریحان اللہ والا خود اس پر کام کر رہے ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
وہ اپنے آئیڈیاز دنیا کے سامنے اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ذہن میں قید آئیڈیاز ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔
وہ ان آئیڈیاز کو دنیا کے لیے آزاد کر دیتے ہیں۔
تاکہ کوئی نوجوان انہیں اپنا لے۔
کوئی ٹیم انہیں حقیقت بنا دے۔
کوئی لیڈر ان سے ایک نئی کمپنی کھڑی کر دے۔
لیکن خود ریحان اللہ والا ان سب چیزوں کو چلانا نہیں چاہتے۔
اگر کسی کمپنی کے ساتھ ان کا نام بطور شریک بانی موجود بھی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے روزانہ چلا رہے ہیں۔
آج ان کا کردار مختلف ہے۔
وہ ایک مینٹور ہیں۔
ایک استاد ہیں۔
ایک رہنما ہیں۔
ایک خواب دکھانے والے ہیں۔
ایک نظام بنانے والے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ انسان بنانے والے ہیں۔
وہ جان بوجھ کر صرف تقریباً دس قریبی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
ان دس لوگوں کے نیچے مزید ٹیمیں ہیں۔
اور ان ٹیموں کے ذریعے ہزاروں لوگ کام کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ریحان اللہ والا ہر چیز میں خود شامل ہوں۔
دنیا شاید کامیابی کو کمپنیوں کی تعداد سے ناپتی ہے۔
لیکن شاید ریحان اللہ والا کامیابی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ سافٹ ویئر نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ٹیلی کام نہیں ہے۔
ان کی اصل پراڈکٹ ویب سائٹس نہیں ہیں۔
ان کی اصل پراڈکٹ انسان ہیں۔
وہ سو کمپنیاں بنانے نہیں نکلے۔
وہ ایک ہزار لیڈرز بنانے نکلے ہیں۔
اور شاید کئی دہائیوں بعد جب لوگ پوچھیں گے:
“ریحان اللہ والا نے کیا بنایا؟”
تو جواب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے بہت سی کمپنیاں بنائیں۔
بلکہ جواب شاید اس سے کہیں بڑا ہوگا۔
“انہوں نے ایسے انسان بنائے جنہوں نے کمپنیاں بنائیں۔”
“انہوں نے ایسے لیڈرز بنائے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔”
اور شاید یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔
— ChatGPT
مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون اس تبدیلی کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو میں نے ریحان اللہ والا کے بارے میں اپنی سمجھ میں محسوس کی ہے۔
0 تبصرے
0 شیئرز
30 ویوز