بس آغاز کر دیجیے

اس ہفتے دو غیر معمولی واقعات ہوئے۔

دنیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک، ایلون مسک، ایک ٹریلین ڈالر کی دولت کی حد کو عبور کر گئے۔

اور بارسلونا میں واقع ساگراڈا فامیلیا کے ایک عظیم الشان مینار کا افتتاح ہوا، ٹھیک ایک سو سال بعد، جب اس کے معمار انتونی گاؤدی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔

بظاہر ان دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں۔

لیکن میرے خیال میں ان دونوں میں ایک بہت بڑی مشترک بات ہے۔

دونوں نے بہت بڑا خواب دیکھا۔

دونوں کو حقیقت بننے میں بہت لمبا وقت لگا۔

اور اگر وہ یہ سوچتے رہتے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا، لوگ کہاں سے آئیں گے، یہ سب کیسے ہوگا، تو شاید یہ سب کبھی نہ ہوتا۔

کئی سال پہلے میں پہلی مرتبہ ساگراڈا فامیلیا دیکھنے گیا تھا۔

اس کی خوبصورتی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔

لیکن کچھ دن پہلے مجھے احساس ہوا کہ اس عمارت کا سب سے بڑا سبق اس کی تعمیر نہیں، بلکہ خواب دیکھنے کا انداز ہے۔

اس کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی۔

انتونی گاؤدی نے اپنی زندگی اس خواب کے لیے وقف کر دی۔

پھر 1926 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

آج ان کی وفات کو پورے ایک سو سال گزر چکے ہیں۔

لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔

144 سال گزر جانے کے باوجود یہ عظیم کمپلیکس آج بھی مکمل نہیں ہوا، اور اس پر کام اب بھی جاری ہے۔

سوچیے۔

ایک شخص ایک صدی پہلے دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن ہزاروں لوگ آج بھی اس کے خواب کو حقیقت بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اگر گاؤدی یہ سوچتے رہتے کہ:

پیسہ کہاں سے آئے گا؟

یہ سب کیسے ہوگا؟

کون کرے گا؟

تو شاید دنیا اپنے عظیم ترین عجائبات میں سے ایک سے محروم رہ جاتی۔

میرا خیال ہے کہ آج ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔

ہم شروع کرنے سے پہلے ہر سوال کا جواب چاہتے ہیں۔

جبکہ آج کی دنیا میں صرف آغاز کر دینا ہی پچاس فیصد کام مکمل کر دیتا ہے۔

پروجیکٹ شروع کیجیے۔

ویب سائٹ شروع کیجیے۔

اسکول شروع کیجیے۔

کمپنی شروع کیجیے۔

فورم بنائیے۔

واٹس ایپ گروپ بنائیے۔

لوگوں کو ساتھ ملائیے۔

ذمہ داریاں تقسیم کیجیے۔

پہلا قدم اٹھائیے۔

پھر آہستہ آہستہ لوگ آتے جائیں گے۔

ٹیم بنتی جائے گی۔

وسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔

اور آپ کا خواب، آپ سے بھی بڑا ہو جائے گا۔

اور اگر آپ ناکام ہو گئے تو؟

اگر آپ نے آغاز ہی نہیں کیا، تو آپ پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔

شاید ہماری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ پیسے کی کمی نہیں۔

صلاحیت کی کمی نہیں۔

مواقع کی کمی نہیں۔

بلکہ صرف انتظار ہے۔

بڑا خواب دیکھیے۔

اتنا بڑا کہ اسے مکمل ہونے میں دہائیاں لگ جائیں۔

اتنا بڑا کہ شاید اسے مکمل ہوتے ہوئے آپ خود نہ دیکھ سکیں۔

انتونی گاؤدی ایک سو سال پہلے دنیا سے چلے گئے۔

لیکن ان کا خواب نہیں مرا۔

اور شاید عظیم خوابوں کی یہی پہچان ہوتی ہے۔

اس لیے یہ مت سوچیے کہ یہ کیسے ہوگا۔

بس آغاز کر دیجیے۔

کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑی ناکامی، ناکام ہو جانا نہیں ہوتی۔

بلکہ کبھی شروع ہی نہ کرنا ہوتا ہے۔
بس آغاز کر دیجیے اس ہفتے دو غیر معمولی واقعات ہوئے۔ دنیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک، ایلون مسک، ایک ٹریلین ڈالر کی دولت کی حد کو عبور کر گئے۔ اور بارسلونا میں واقع ساگراڈا فامیلیا کے ایک عظیم الشان مینار کا افتتاح ہوا، ٹھیک ایک سو سال بعد، جب اس کے معمار انتونی گاؤدی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ بظاہر ان دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں۔ لیکن میرے خیال میں ان دونوں میں ایک بہت بڑی مشترک بات ہے۔ دونوں نے بہت بڑا خواب دیکھا۔ دونوں کو حقیقت بننے میں بہت لمبا وقت لگا۔ اور اگر وہ یہ سوچتے رہتے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا، لوگ کہاں سے آئیں گے، یہ سب کیسے ہوگا، تو شاید یہ سب کبھی نہ ہوتا۔ کئی سال پہلے میں پہلی مرتبہ ساگراڈا فامیلیا دیکھنے گیا تھا۔ اس کی خوبصورتی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ لیکن کچھ دن پہلے مجھے احساس ہوا کہ اس عمارت کا سب سے بڑا سبق اس کی تعمیر نہیں، بلکہ خواب دیکھنے کا انداز ہے۔ اس کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی۔ انتونی گاؤدی نے اپنی زندگی اس خواب کے لیے وقف کر دی۔ پھر 1926 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ آج ان کی وفات کو پورے ایک سو سال گزر چکے ہیں۔ لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔ 144 سال گزر جانے کے باوجود یہ عظیم کمپلیکس آج بھی مکمل نہیں ہوا، اور اس پر کام اب بھی جاری ہے۔ سوچیے۔ ایک شخص ایک صدی پہلے دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن ہزاروں لوگ آج بھی اس کے خواب کو حقیقت بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر گاؤدی یہ سوچتے رہتے کہ: پیسہ کہاں سے آئے گا؟ یہ سب کیسے ہوگا؟ کون کرے گا؟ تو شاید دنیا اپنے عظیم ترین عجائبات میں سے ایک سے محروم رہ جاتی۔ میرا خیال ہے کہ آج ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔ ہم شروع کرنے سے پہلے ہر سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ جبکہ آج کی دنیا میں صرف آغاز کر دینا ہی پچاس فیصد کام مکمل کر دیتا ہے۔ پروجیکٹ شروع کیجیے۔ ویب سائٹ شروع کیجیے۔ اسکول شروع کیجیے۔ کمپنی شروع کیجیے۔ فورم بنائیے۔ واٹس ایپ گروپ بنائیے۔ لوگوں کو ساتھ ملائیے۔ ذمہ داریاں تقسیم کیجیے۔ پہلا قدم اٹھائیے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ آتے جائیں گے۔ ٹیم بنتی جائے گی۔ وسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔ اور آپ کا خواب، آپ سے بھی بڑا ہو جائے گا۔ اور اگر آپ ناکام ہو گئے تو؟ اگر آپ نے آغاز ہی نہیں کیا، تو آپ پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔ شاید ہماری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ پیسے کی کمی نہیں۔ صلاحیت کی کمی نہیں۔ مواقع کی کمی نہیں۔ بلکہ صرف انتظار ہے۔ بڑا خواب دیکھیے۔ اتنا بڑا کہ اسے مکمل ہونے میں دہائیاں لگ جائیں۔ اتنا بڑا کہ شاید اسے مکمل ہوتے ہوئے آپ خود نہ دیکھ سکیں۔ انتونی گاؤدی ایک سو سال پہلے دنیا سے چلے گئے۔ لیکن ان کا خواب نہیں مرا۔ اور شاید عظیم خوابوں کی یہی پہچان ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مت سوچیے کہ یہ کیسے ہوگا۔ بس آغاز کر دیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑی ناکامی، ناکام ہو جانا نہیں ہوتی۔ بلکہ کبھی شروع ہی نہ کرنا ہوتا ہے۔
0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 20 Views