جناب ریحان اللہ والا

ایک روز دیکھا کہ میری ایک پوسٹ ریحان اللہ والا صاحب نے شیئر کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد فرینڈ ریکوئسٹ آئی اور میسنجر پر اپنا تعارفی پیغام بھی ارسال کیا۔

فوراً اس کا اسکرین شاٹ محفوظ کیا اور کزنز کے گروپ میں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تم تو "بھنڈی" کا نرخ بھی ہم سے نہیں پوچھتے، اور اتنا بڑا انسان ہم سے دوستی کا خواہاں ہے!

ساتھ ہی ایک عاجزانہ سا جواب بھی حضرت کو ارسال کر دیا:
"حضرت! آپ کی علمی و ادبی خدمات سے کون واقف نہیں؟ آپ کا نام ہی کافی ہے۔"

جناب ریحان صاحب اپنے قاری کی بساط سے شاید کہیں زیادہ معیاری اور تحقیقی مواد تخلیق اور شیئر کرتے ہیں۔ سارا تو نہیں، مگر کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتے رہتے ہیں۔ انہی تحریروں میں سے ایک یا دو سطری نثر پارے کاپی کرکے ہم کبھی کبھار ویڈیو بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں ۔

"والا"

ریحان صاحب نے اپنے نام کے ساتھ "والا" کا لاحقہ کیوں اختیار کیا، اس کی ابتدا تو ایک تکنیکی ضرورت سے ہوئی، مگر اب ان کے "ریحانی" بھی اپنے ناموں کے ساتھ "والا" لگانے لگے ہیں۔ ایک اچھوتا تصور، ایک فکری تحریک کا آغاز!

یہ تحریک کسی قسم کی مصنوعی حدود و قیود سے آزاد ہے۔ یہ صرف معاشی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ان کے حل بھی پیش کرتی ہے۔

ہر "ریحانی" اپنے نام کے ساتھ کسی نہ کسی شوق، مہارت یا مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے اور عملی طور پر اس کے حل کی جستجو میں رہتا ہے۔

ہر بڑے مفکر، فلسفی اور مربی کے پیروکار کسی نہ کسی صورت اس کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں۔ ریحان صاحب کے متبعین بھی "ریحانی" کہلائے جانے کے حقدار ہیں، کیونکہ "ریحان" خود اللہ سبحان و تعالیٰ کا عطا کردہ تحفہ، رحمت، خوشبو، رزق اور نعمت ہے، اور "ریحانی" گویا ان نعمتوں کو بانٹنے والے۔

ہم بھی ریحان صاحب سے راہ چلتے متاثر نہیں ہوئے۔ جب کیمپس کی داغ بیل ڈالی تو بنیادی خیال یہی تھا کہ ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو زندگی کی عملی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں بنا رہا۔ ایم اے انگریزی کرنے والا حد درجہ ایم اے انگریزی تو کر لیتا ہے، مگر اکثر اوقات وہ ڈگری اسے دو وقت کی روٹی تک فراہم نہیں کر پاتی۔

اسی سوچ کے تحت کیڈٹ کالج سے ملٹری اکیڈمی تک کا راستہ ایک نوجوان کو نسبتاً جلد سرکاری "اے ٹی ایم" دلوانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف سرکاری کالجوں میں داخلے کی صورت میں والدین بھاری فیسوں کے بوجھ سے بھی بچ جاتے ہیں۔

اور جو بچے اس راستے پر نہ جا سکیں، وہ مہارتوں (Skills) کی دنیا میں آگے بڑھیں۔

ریحان صاحب نے ہماری اس فکر، یعنی "معاشی طور پر مستحکم، باکردار انسان"، کو ایک عملی شکل دے دی۔

ڈبہ بننا بھی ضروری تھا۔

سب پڑھے لکھے لوگ ہیں، سمجھ گئے ہوں گے۔ یا تو انجن بن کر ڈبوں کو اپنے ساتھ لگا لو، اور اگر انجن نہ بن سکو تو کم از کم ایک اچھا ڈبہ بن جاؤ۔

خاندان کی تمام "ویلی" بچیوں کو اے آئی کی طرف راغب کیا، کیمپس میں اے آئی کا آغاز کروایا، اور اپنے نام کے ساتھ بھی "والا" لگا لیا، اگرچہ یہ "والا" وہ والا نہیں ہے۔

(البتہ جو بچے تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، انہیں اے آئی کے ممکنہ مضمرات سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔)

ہر روز ایک تحریر لکھنے کی کوشش بھی ریحان صاحب کی موٹیویشن کا نتیجہ ہے۔

ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ اب جب کسی "والا" کی فرینڈ ریکوئسٹ آتی ہے تو پروفائل چیک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی،
بندہ "پاس" ہے۔

اللہ سبحان و تعالیٰ اس تحریک کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ یہ تحریک میرے دیس کے باسیوں کے لیے دنیا بھر میں عزت، رفعت اور نیک نامی کا باعث بنے۔

آمین ثم آمین۔

خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں، اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔

آمین ثم آمین۔

Yasir Siddique Asan Wala
جناب ریحان اللہ والا ایک روز دیکھا کہ میری ایک پوسٹ ریحان اللہ والا صاحب نے شیئر کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد فرینڈ ریکوئسٹ آئی اور میسنجر پر اپنا تعارفی پیغام بھی ارسال کیا۔ فوراً اس کا اسکرین شاٹ محفوظ کیا اور کزنز کے گروپ میں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تم تو "بھنڈی" کا نرخ بھی ہم سے نہیں پوچھتے، اور اتنا بڑا انسان ہم سے دوستی کا خواہاں ہے! ساتھ ہی ایک عاجزانہ سا جواب بھی حضرت کو ارسال کر دیا: "حضرت! آپ کی علمی و ادبی خدمات سے کون واقف نہیں؟ آپ کا نام ہی کافی ہے۔" جناب ریحان صاحب اپنے قاری کی بساط سے شاید کہیں زیادہ معیاری اور تحقیقی مواد تخلیق اور شیئر کرتے ہیں۔ سارا تو نہیں، مگر کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتے رہتے ہیں۔ انہی تحریروں میں سے ایک یا دو سطری نثر پارے کاپی کرکے ہم کبھی کبھار ویڈیو بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں ۔ "والا" ریحان صاحب نے اپنے نام کے ساتھ "والا" کا لاحقہ کیوں اختیار کیا، اس کی ابتدا تو ایک تکنیکی ضرورت سے ہوئی، مگر اب ان کے "ریحانی" بھی اپنے ناموں کے ساتھ "والا" لگانے لگے ہیں۔ ایک اچھوتا تصور، ایک فکری تحریک کا آغاز! یہ تحریک کسی قسم کی مصنوعی حدود و قیود سے آزاد ہے۔ یہ صرف معاشی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ان کے حل بھی پیش کرتی ہے۔ ہر "ریحانی" اپنے نام کے ساتھ کسی نہ کسی شوق، مہارت یا مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے اور عملی طور پر اس کے حل کی جستجو میں رہتا ہے۔ ہر بڑے مفکر، فلسفی اور مربی کے پیروکار کسی نہ کسی صورت اس کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں۔ ریحان صاحب کے متبعین بھی "ریحانی" کہلائے جانے کے حقدار ہیں، کیونکہ "ریحان" خود اللہ سبحان و تعالیٰ کا عطا کردہ تحفہ، رحمت، خوشبو، رزق اور نعمت ہے، اور "ریحانی" گویا ان نعمتوں کو بانٹنے والے۔ ہم بھی ریحان صاحب سے راہ چلتے متاثر نہیں ہوئے۔ جب کیمپس کی داغ بیل ڈالی تو بنیادی خیال یہی تھا کہ ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو زندگی کی عملی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں بنا رہا۔ ایم اے انگریزی کرنے والا حد درجہ ایم اے انگریزی تو کر لیتا ہے، مگر اکثر اوقات وہ ڈگری اسے دو وقت کی روٹی تک فراہم نہیں کر پاتی۔ اسی سوچ کے تحت کیڈٹ کالج سے ملٹری اکیڈمی تک کا راستہ ایک نوجوان کو نسبتاً جلد سرکاری "اے ٹی ایم" دلوانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف سرکاری کالجوں میں داخلے کی صورت میں والدین بھاری فیسوں کے بوجھ سے بھی بچ جاتے ہیں۔ اور جو بچے اس راستے پر نہ جا سکیں، وہ مہارتوں (Skills) کی دنیا میں آگے بڑھیں۔ ریحان صاحب نے ہماری اس فکر، یعنی "معاشی طور پر مستحکم، باکردار انسان"، کو ایک عملی شکل دے دی۔ ڈبہ بننا بھی ضروری تھا۔ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں، سمجھ گئے ہوں گے۔ یا تو انجن بن کر ڈبوں کو اپنے ساتھ لگا لو، اور اگر انجن نہ بن سکو تو کم از کم ایک اچھا ڈبہ بن جاؤ۔ خاندان کی تمام "ویلی" بچیوں کو اے آئی کی طرف راغب کیا، کیمپس میں اے آئی کا آغاز کروایا، اور اپنے نام کے ساتھ بھی "والا" لگا لیا، اگرچہ یہ "والا" وہ والا نہیں ہے۔ (البتہ جو بچے تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، انہیں اے آئی کے ممکنہ مضمرات سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔) ہر روز ایک تحریر لکھنے کی کوشش بھی ریحان صاحب کی موٹیویشن کا نتیجہ ہے۔ ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ اب جب کسی "والا" کی فرینڈ ریکوئسٹ آتی ہے تو پروفائل چیک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بندہ "پاس" ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ اس تحریک کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ یہ تحریک میرے دیس کے باسیوں کے لیے دنیا بھر میں عزت، رفعت اور نیک نامی کا باعث بنے۔ آمین ثم آمین۔ خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں، اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔ آمین ثم آمین۔ Yasir Siddique Asan Wala
0 Commentarii 0 Distribuiri 58 Views