پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے ایک، جنہوں نے امریکہ میں کامیابی حاصل کی، پھر واپس آ کر پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لڑائی لڑی۔
ڈاکٹر جاوید لغاری سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بن گئے۔ وہاں انہوں نے ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ تحقیق کی، سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔
لیکن ان کی کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔
سن 2009 میں جب انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی مشکلات اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے مضبوط یونیورسٹیاں، سائنس اور تحقیق ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان کے سینیٹر بھی رہے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
انہوں نے 650 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، اور ہزاروں طلبہ اور محققین کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔
آج اگر آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں، تو ڈاکٹر جاوید لغاری ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔
بعض لوگ کاروبار بناتے ہیں، بعض لوگ عمارتیں بناتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
Meet Javaid Laghari
ڈاکٹر جاوید لغاری سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بن گئے۔ وہاں انہوں نے ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ تحقیق کی، سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔
لیکن ان کی کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔
سن 2009 میں جب انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی مشکلات اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے مضبوط یونیورسٹیاں، سائنس اور تحقیق ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان کے سینیٹر بھی رہے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
انہوں نے 650 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، اور ہزاروں طلبہ اور محققین کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔
آج اگر آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں، تو ڈاکٹر جاوید لغاری ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔
بعض لوگ کاروبار بناتے ہیں، بعض لوگ عمارتیں بناتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
Meet Javaid Laghari
پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے ایک، جنہوں نے امریکہ میں کامیابی حاصل کی، پھر واپس آ کر پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لڑائی لڑی۔
ڈاکٹر جاوید لغاری سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بن گئے۔ وہاں انہوں نے ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ تحقیق کی، سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔
لیکن ان کی کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔
سن 2009 میں جب انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی مشکلات اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے مضبوط یونیورسٹیاں، سائنس اور تحقیق ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان کے سینیٹر بھی رہے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
انہوں نے 650 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، اور ہزاروں طلبہ اور محققین کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔
آج اگر آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں، تو ڈاکٹر جاوید لغاری ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔
بعض لوگ کاروبار بناتے ہیں، بعض لوگ عمارتیں بناتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر جاوید لغاری انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
Meet Javaid Laghari
0 Commentarios
0 Acciones
24 Views