پاکستان کے 20 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایپس ہمیں کیا بتاتے ہیں؟
اگر آپ کسی ملک کے لوگوں کے خواب، عادتیں اور ترجیحات سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف خبریں یا سیاست دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
لوگ اپنے موبائل میں کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔
آج پاکستان میں 15 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہی ان کا اسکول، دفتر، بینک، بازار اور تفریح کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ فیس بک ہے، جس کے تقریباً 7 کروڑ صارفین ہیں۔
دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک ہے، جس کے تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ صارفین ہیں۔ ہزاروں پاکستانی صرف ٹک ٹاک کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔
تیسرے نمبر پر یوٹیوب ہے، جسے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔
آج یوٹیوب دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔
کوئی کھانا پکانا سیکھ رہا ہے، کوئی انگریزی، کوئی پروگرامنگ، کوئی کاروبار، اور کوئی مصنوعی ذہانت۔
میسنجر اور واٹس ایپ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
شاید آپ کو حیرت ہو، لیکن آج پاکستان میں بہت سے کاروبار صرف واٹس ایپ کے ذریعے چل رہے ہیں۔
آرڈر واٹس ایپ پر۔
رسید واٹس ایپ پر۔
اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ پر۔
میٹنگز واٹس ایپ پر۔
یعنی واٹس ایپ پاکستان کی غیر سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔
اسنیپ چیٹ کے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔
لنکڈ اِن کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان اب صرف نوکری نہیں بلکہ دنیا سے رابطے اور مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں۔
سب سے دلچسپ تبدیلی ڈیجیٹل بینکنگ میں آئی ہے۔
ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں جبکہ جاز کیش کروڑوں پاکستانیوں کو مالی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور خاموش انقلاب شروع ہو چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب۔
چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسی ایپس پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
چند سال پہلے لوگ صرف ویڈیوز دیکھتے تھے۔
آج لوگ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔
کل یہی لوگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروبار بنائیں گے۔
جب ہم پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس کو دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔
پاکستانی لوگ اپنا زیادہ وقت صرف پانچ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں:
رابطے بنانے پر۔
ویڈیوز اور تفریح پر۔
سیکھنے پر۔
پیسے کے لین دین پر۔
اور مواد تخلیق کرنے پر۔
یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔
کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بن رہا۔
بلکہ آہستہ آہستہ ایک Creator Economy میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ موبائل فون کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں، دنیا سے جڑ سکتے ہیں، اپنا کاروبار بنا سکتے ہیں اور گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا سکھا رہے ہیں؟
یا پھر ہم انہیں سکھا رہے ہیں کہ یہی موبائل ان کا استاد، ان کا دفتر، ان کا بینک اور ان کا مستقبل بھی بن سکتا ہے؟
پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس دراصل صرف ایپس نہیں۔
یہ پاکستان کے مستقبل کی ایک جھلک ہیں۔
اور آنے والا وقت انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور رابطوں کی طاقت کو استعمال کرنا سیکھ جائی
ے۔
اگر آپ کسی ملک کے لوگوں کے خواب، عادتیں اور ترجیحات سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف خبریں یا سیاست دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
لوگ اپنے موبائل میں کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔
آج پاکستان میں 15 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہی ان کا اسکول، دفتر، بینک، بازار اور تفریح کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ فیس بک ہے، جس کے تقریباً 7 کروڑ صارفین ہیں۔
دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک ہے، جس کے تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ صارفین ہیں۔ ہزاروں پاکستانی صرف ٹک ٹاک کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔
تیسرے نمبر پر یوٹیوب ہے، جسے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔
آج یوٹیوب دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔
کوئی کھانا پکانا سیکھ رہا ہے، کوئی انگریزی، کوئی پروگرامنگ، کوئی کاروبار، اور کوئی مصنوعی ذہانت۔
میسنجر اور واٹس ایپ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
شاید آپ کو حیرت ہو، لیکن آج پاکستان میں بہت سے کاروبار صرف واٹس ایپ کے ذریعے چل رہے ہیں۔
آرڈر واٹس ایپ پر۔
رسید واٹس ایپ پر۔
اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ پر۔
میٹنگز واٹس ایپ پر۔
یعنی واٹس ایپ پاکستان کی غیر سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔
اسنیپ چیٹ کے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔
لنکڈ اِن کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان اب صرف نوکری نہیں بلکہ دنیا سے رابطے اور مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں۔
سب سے دلچسپ تبدیلی ڈیجیٹل بینکنگ میں آئی ہے۔
ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں جبکہ جاز کیش کروڑوں پاکستانیوں کو مالی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور خاموش انقلاب شروع ہو چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب۔
چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسی ایپس پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
چند سال پہلے لوگ صرف ویڈیوز دیکھتے تھے۔
آج لوگ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔
کل یہی لوگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروبار بنائیں گے۔
جب ہم پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس کو دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔
پاکستانی لوگ اپنا زیادہ وقت صرف پانچ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں:
رابطے بنانے پر۔
ویڈیوز اور تفریح پر۔
سیکھنے پر۔
پیسے کے لین دین پر۔
اور مواد تخلیق کرنے پر۔
یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔
کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بن رہا۔
بلکہ آہستہ آہستہ ایک Creator Economy میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ موبائل فون کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں، دنیا سے جڑ سکتے ہیں، اپنا کاروبار بنا سکتے ہیں اور گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا سکھا رہے ہیں؟
یا پھر ہم انہیں سکھا رہے ہیں کہ یہی موبائل ان کا استاد، ان کا دفتر، ان کا بینک اور ان کا مستقبل بھی بن سکتا ہے؟
پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس دراصل صرف ایپس نہیں۔
یہ پاکستان کے مستقبل کی ایک جھلک ہیں۔
اور آنے والا وقت انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور رابطوں کی طاقت کو استعمال کرنا سیکھ جائی
ے۔
پاکستان کے 20 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایپس ہمیں کیا بتاتے ہیں؟
اگر آپ کسی ملک کے لوگوں کے خواب، عادتیں اور ترجیحات سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف خبریں یا سیاست دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
لوگ اپنے موبائل میں کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں، اس سے بھی بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔
آج پاکستان میں 15 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہی ان کا اسکول، دفتر، بینک، بازار اور تفریح کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ فیس بک ہے، جس کے تقریباً 7 کروڑ صارفین ہیں۔
دوسرے نمبر پر ٹک ٹاک ہے، جس کے تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ صارفین ہیں۔ ہزاروں پاکستانی صرف ٹک ٹاک کی مدد سے روزگار کما رہے ہیں۔
تیسرے نمبر پر یوٹیوب ہے، جسے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔
آج یوٹیوب دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔
کوئی کھانا پکانا سیکھ رہا ہے، کوئی انگریزی، کوئی پروگرامنگ، کوئی کاروبار، اور کوئی مصنوعی ذہانت۔
میسنجر اور واٹس ایپ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
شاید آپ کو حیرت ہو، لیکن آج پاکستان میں بہت سے کاروبار صرف واٹس ایپ کے ذریعے چل رہے ہیں۔
آرڈر واٹس ایپ پر۔
رسید واٹس ایپ پر۔
اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ پر۔
میٹنگز واٹس ایپ پر۔
یعنی واٹس ایپ پاکستان کی غیر سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔
اسنیپ چیٹ کے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین ہیں جبکہ انسٹاگرام کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔
لنکڈ اِن کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان اب صرف نوکری نہیں بلکہ دنیا سے رابطے اور مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں۔
سب سے دلچسپ تبدیلی ڈیجیٹل بینکنگ میں آئی ہے۔
ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں جبکہ جاز کیش کروڑوں پاکستانیوں کو مالی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور خاموش انقلاب شروع ہو چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب۔
چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسی ایپس پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
چند سال پہلے لوگ صرف ویڈیوز دیکھتے تھے۔
آج لوگ مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھ رہے ہیں۔
کل یہی لوگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کاروبار بنائیں گے۔
جب ہم پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس کو دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔
پاکستانی لوگ اپنا زیادہ وقت صرف پانچ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں:
رابطے بنانے پر۔
ویڈیوز اور تفریح پر۔
سیکھنے پر۔
پیسے کے لین دین پر۔
اور مواد تخلیق کرنے پر۔
یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔
کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بن رہا۔
بلکہ آہستہ آہستہ ایک Creator Economy میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ موبائل فون کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں، دنیا سے جڑ سکتے ہیں، اپنا کاروبار بنا سکتے ہیں اور گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں موبائل کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا سکھا رہے ہیں؟
یا پھر ہم انہیں سکھا رہے ہیں کہ یہی موبائل ان کا استاد، ان کا دفتر، ان کا بینک اور ان کا مستقبل بھی بن سکتا ہے؟
پاکستان کی 20 سب سے مقبول ایپس دراصل صرف ایپس نہیں۔
یہ پاکستان کے مستقبل کی ایک جھلک ہیں۔
اور آنے والا وقت انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور رابطوں کی طاقت کو استعمال کرنا سیکھ جائی
ے۔
0 تبصرے
0 شیئرز
42 ویوز