پیش لفظ
گرین اِنکم پاکستان
پیارے پاکستانی بھائی، بہن، بیٹے اور بیٹی،
اگر آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو شاید آپ بھی اُن کروڑوں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز یہ سوچتے ہیں:
“کاش میری آمدنی تھوڑی زیادہ ہوتی۔”
“کاش میں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکتا۔”
“کاش مہینے کے آخر میں قرض نہ لینا پڑتا۔”
“کاش میرے پاس بھی ایک ایسا ذریعہ آمدن ہوتا جو عزت کے ساتھ گھر بیٹھے کمایا جا سکے۔”
میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔
میں نے پاکستان کے گاؤں بھی دیکھے ہیں، کچی آبادیاں بھی، چھوٹے گھر بھی، اور وہ مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے راتوں کو جاگتی ہیں۔
میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو پورا دن محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔
میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس صلاحیت بہت ہے، خواب بہت ہیں، مگر مواقع کم ہیں۔
اور میں نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔
دھوپ دی ہے۔
زمین دی ہے۔
بارش دی ہے۔
درخت دیے ہیں۔
پودے دیے ہیں۔
بیج دیے ہیں۔
لیکن ہم نے ان نعمتوں کو آمدنی میں تبدیل کرنا نہیں سیکھا۔
آج پاکستان کے لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں خالی پڑی ہیں۔
بالکونیاں خالی پڑی ہیں۔
صحن خالی پڑے ہیں۔
دیواریں خالی پڑی ہیں۔
اور انہی خالی جگہوں میں ہزاروں روپے نہیں، لاکھوں روپے چھپے ہوئے ہیں۔
یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں۔
یہ امید کی کتاب ہے۔
یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
یہ اُن ماؤں کے لیے ہے جو گھر بیٹھے عزت کے ساتھ کمانا چاہتی ہیں۔
یہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو تعلیم کے ساتھ آمدنی بھی چاہتے ہیں۔
یہ اُن بزرگوں کے لیے ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
یہ اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو نوکری ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں۔
شاید اس وقت آپ کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ رقم نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس سرمایہ نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس زمین نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس صرف ایک چھت ہو۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ کتاب مکمل پڑھنے سے پہلے ایک وعدہ کریں۔
اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی موجودہ حالت کو اپنی قسمت نہیں سمجھیں گے۔
کیونکہ قسمت اکثر اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہے جب انسان ایک نیا خیال سیکھ لیتا ہے۔
یہ کتاب آپ کو امیر بنانے کا جادوئی نسخہ نہیں دے گی۔
یہ آپ کو لاٹری جیتنے کا خواب نہیں دکھائے گی۔
یہ آپ کو راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا وعدہ بھی نہیں کرے گی۔
لیکن یہ کتاب آپ کو ایک راستہ دکھائے گی۔
ایسا راستہ جس پر چل کر ایک عام پاکستانی خاندان آہستہ آہستہ اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔
ایک پودے سے۔
پھر دس پودوں سے۔
پھر سو پودوں سے۔
پھر ایک چھوٹی نرسری سے۔
پھر ایک کاروبار سے۔
اور پھر ایک ایسی زندگی سے جس میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔
میرا خواب ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ کم از کم ایک درخت لگائے۔
ہر گھر ایک چھوٹی نرسری بنائے۔
ہر سکول بچوں کو گرین انٹرپرینیورشپ سکھائے۔
اور ہر خاندان فخر سے کہے:
“ہم صرف درخت نہیں اُگا رہے، ہم اپنا مستقبل اُگا رہے ہیں۔”
اگر اس کتاب کے نتیجے میں ایک ماں اپنے بچوں کے لیے بہتر کھانا خرید سکے…
اگر ایک باپ قرض سے نکل سکے…
اگر ایک طالب علم اپنی فیس خود ادا کر سکے…
اگر ایک خاندان غربت سے نکل سکے…
تو اس کتاب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
آئیے مل کر پاکستان کو سبز بھی بنائیں اور خوشحال بھی۔
کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے۔
درخت امید دیتے ہیں۔
درخت روزگار دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی…
ایک چھوٹا سا پودا پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
آپ کا بھائی،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
بانی، گرین اِنکم پاکستان تحریک
“آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر پاکستان اُگائیں۔”
Comment Green if you want this book
گرین اِنکم پاکستان
پیارے پاکستانی بھائی، بہن، بیٹے اور بیٹی،
اگر آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو شاید آپ بھی اُن کروڑوں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز یہ سوچتے ہیں:
“کاش میری آمدنی تھوڑی زیادہ ہوتی۔”
“کاش میں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکتا۔”
“کاش مہینے کے آخر میں قرض نہ لینا پڑتا۔”
“کاش میرے پاس بھی ایک ایسا ذریعہ آمدن ہوتا جو عزت کے ساتھ گھر بیٹھے کمایا جا سکے۔”
میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔
میں نے پاکستان کے گاؤں بھی دیکھے ہیں، کچی آبادیاں بھی، چھوٹے گھر بھی، اور وہ مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے راتوں کو جاگتی ہیں۔
میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو پورا دن محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔
میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس صلاحیت بہت ہے، خواب بہت ہیں، مگر مواقع کم ہیں۔
اور میں نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔
دھوپ دی ہے۔
زمین دی ہے۔
بارش دی ہے۔
درخت دیے ہیں۔
پودے دیے ہیں۔
بیج دیے ہیں۔
لیکن ہم نے ان نعمتوں کو آمدنی میں تبدیل کرنا نہیں سیکھا۔
آج پاکستان کے لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں خالی پڑی ہیں۔
بالکونیاں خالی پڑی ہیں۔
صحن خالی پڑے ہیں۔
دیواریں خالی پڑی ہیں۔
اور انہی خالی جگہوں میں ہزاروں روپے نہیں، لاکھوں روپے چھپے ہوئے ہیں۔
یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں۔
یہ امید کی کتاب ہے۔
یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
یہ اُن ماؤں کے لیے ہے جو گھر بیٹھے عزت کے ساتھ کمانا چاہتی ہیں۔
یہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو تعلیم کے ساتھ آمدنی بھی چاہتے ہیں۔
یہ اُن بزرگوں کے لیے ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
یہ اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو نوکری ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں۔
شاید اس وقت آپ کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ رقم نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس سرمایہ نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس زمین نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس صرف ایک چھت ہو۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ کتاب مکمل پڑھنے سے پہلے ایک وعدہ کریں۔
اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی موجودہ حالت کو اپنی قسمت نہیں سمجھیں گے۔
کیونکہ قسمت اکثر اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہے جب انسان ایک نیا خیال سیکھ لیتا ہے۔
یہ کتاب آپ کو امیر بنانے کا جادوئی نسخہ نہیں دے گی۔
یہ آپ کو لاٹری جیتنے کا خواب نہیں دکھائے گی۔
یہ آپ کو راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا وعدہ بھی نہیں کرے گی۔
لیکن یہ کتاب آپ کو ایک راستہ دکھائے گی۔
ایسا راستہ جس پر چل کر ایک عام پاکستانی خاندان آہستہ آہستہ اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔
ایک پودے سے۔
پھر دس پودوں سے۔
پھر سو پودوں سے۔
پھر ایک چھوٹی نرسری سے۔
پھر ایک کاروبار سے۔
اور پھر ایک ایسی زندگی سے جس میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔
میرا خواب ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ کم از کم ایک درخت لگائے۔
ہر گھر ایک چھوٹی نرسری بنائے۔
ہر سکول بچوں کو گرین انٹرپرینیورشپ سکھائے۔
اور ہر خاندان فخر سے کہے:
“ہم صرف درخت نہیں اُگا رہے، ہم اپنا مستقبل اُگا رہے ہیں۔”
اگر اس کتاب کے نتیجے میں ایک ماں اپنے بچوں کے لیے بہتر کھانا خرید سکے…
اگر ایک باپ قرض سے نکل سکے…
اگر ایک طالب علم اپنی فیس خود ادا کر سکے…
اگر ایک خاندان غربت سے نکل سکے…
تو اس کتاب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
آئیے مل کر پاکستان کو سبز بھی بنائیں اور خوشحال بھی۔
کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے۔
درخت امید دیتے ہیں۔
درخت روزگار دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی…
ایک چھوٹا سا پودا پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
آپ کا بھائی،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
بانی، گرین اِنکم پاکستان تحریک
“آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر پاکستان اُگائیں۔”
Comment Green if you want this book
پیش لفظ
گرین اِنکم پاکستان
پیارے پاکستانی بھائی، بہن، بیٹے اور بیٹی،
اگر آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو شاید آپ بھی اُن کروڑوں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز یہ سوچتے ہیں:
“کاش میری آمدنی تھوڑی زیادہ ہوتی۔”
“کاش میں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکتا۔”
“کاش مہینے کے آخر میں قرض نہ لینا پڑتا۔”
“کاش میرے پاس بھی ایک ایسا ذریعہ آمدن ہوتا جو عزت کے ساتھ گھر بیٹھے کمایا جا سکے۔”
میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔
میں نے پاکستان کے گاؤں بھی دیکھے ہیں، کچی آبادیاں بھی، چھوٹے گھر بھی، اور وہ مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے راتوں کو جاگتی ہیں۔
میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو پورا دن محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔
میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس صلاحیت بہت ہے، خواب بہت ہیں، مگر مواقع کم ہیں۔
اور میں نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔
دھوپ دی ہے۔
زمین دی ہے۔
بارش دی ہے۔
درخت دیے ہیں۔
پودے دیے ہیں۔
بیج دیے ہیں۔
لیکن ہم نے ان نعمتوں کو آمدنی میں تبدیل کرنا نہیں سیکھا۔
آج پاکستان کے لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں خالی پڑی ہیں۔
بالکونیاں خالی پڑی ہیں۔
صحن خالی پڑے ہیں۔
دیواریں خالی پڑی ہیں۔
اور انہی خالی جگہوں میں ہزاروں روپے نہیں، لاکھوں روپے چھپے ہوئے ہیں۔
یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں۔
یہ امید کی کتاب ہے۔
یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
یہ اُن ماؤں کے لیے ہے جو گھر بیٹھے عزت کے ساتھ کمانا چاہتی ہیں۔
یہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو تعلیم کے ساتھ آمدنی بھی چاہتے ہیں۔
یہ اُن بزرگوں کے لیے ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
یہ اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو نوکری ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں۔
شاید اس وقت آپ کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ رقم نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس سرمایہ نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس زمین نہ ہو۔
شاید آپ کے پاس صرف ایک چھت ہو۔
لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ کتاب مکمل پڑھنے سے پہلے ایک وعدہ کریں۔
اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی موجودہ حالت کو اپنی قسمت نہیں سمجھیں گے۔
کیونکہ قسمت اکثر اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہے جب انسان ایک نیا خیال سیکھ لیتا ہے۔
یہ کتاب آپ کو امیر بنانے کا جادوئی نسخہ نہیں دے گی۔
یہ آپ کو لاٹری جیتنے کا خواب نہیں دکھائے گی۔
یہ آپ کو راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا وعدہ بھی نہیں کرے گی۔
لیکن یہ کتاب آپ کو ایک راستہ دکھائے گی۔
ایسا راستہ جس پر چل کر ایک عام پاکستانی خاندان آہستہ آہستہ اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔
ایک پودے سے۔
پھر دس پودوں سے۔
پھر سو پودوں سے۔
پھر ایک چھوٹی نرسری سے۔
پھر ایک کاروبار سے۔
اور پھر ایک ایسی زندگی سے جس میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔
میرا خواب ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ کم از کم ایک درخت لگائے۔
ہر گھر ایک چھوٹی نرسری بنائے۔
ہر سکول بچوں کو گرین انٹرپرینیورشپ سکھائے۔
اور ہر خاندان فخر سے کہے:
“ہم صرف درخت نہیں اُگا رہے، ہم اپنا مستقبل اُگا رہے ہیں۔”
اگر اس کتاب کے نتیجے میں ایک ماں اپنے بچوں کے لیے بہتر کھانا خرید سکے…
اگر ایک باپ قرض سے نکل سکے…
اگر ایک طالب علم اپنی فیس خود ادا کر سکے…
اگر ایک خاندان غربت سے نکل سکے…
تو اس کتاب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
آئیے مل کر پاکستان کو سبز بھی بنائیں اور خوشحال بھی۔
کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے۔
درخت امید دیتے ہیں۔
درخت روزگار دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی…
ایک چھوٹا سا پودا پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
آپ کا بھائی،
ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
بانی، گرین اِنکم پاکستان تحریک
“آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر پاکستان اُگائیں۔”
Comment Green if you want this book
0 Comments
0 Shares
2 Views