آج مجھے یہ خوبصورت میسج موصول ہوا۔
پاکستان میں شاید ہزاروں لوگ ہیں جو دوبارہ فطرت، سادگی، خالص کھانے اور ذہنی سکون کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہماری زندگیاں اب مکمل طور پر مصنوعی خوراک، اسکرینوں، شور، آلودگی اور ذہنی دباؤ میں گھِر چکی ہیں۔
تھرپارکر کے ایک نوجوان، بھگوان داس کیولانی، نے ایک بہت خوبصورت آئیڈیا شیئر کیا ہے:
“دیسی آرگینک ولیج ریٹریٹ”
ایک ایسا مقام جہاں لوگ ایک یا دو دن کے لیے جا کر اصل دیسی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔
مٹی کے گھر
چارپائیاں
درختوں کی چھاؤں
تازہ دودھ، لسی، مکھن، دیسی گھی
کھیتوں کی سبزیاں
دیسی روٹی، ساگ، دالیں
سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان ثقافت
بیل گاڑی کی سیر
جانوروں کی دیکھ بھال
لوک موسیقی اور گاؤں کی محفلیں
مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مستقبل میں “نیچر ریٹریٹس” اور “آرگینک ولیجز” ایک بہت بڑی انڈسٹری بننے جا رہے ہیں کیونکہ انسان اب مصنوعی زندگی سے تھک چکا ہے۔
اگر کوئی شخص، سرمایہ کار، فارمر، آرکیٹیکٹ، یا پارٹنر اس خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔
بھگوان داس کیولانی
مٹھی، تھرپارکر
0336-3222330
ہوسکتا ہے پاکستان کی اگلی خوبصورت اور پُرسکون ٹورزم انڈسٹری کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ تھرپارکر کے صحرا سے شروع ہو۔
— ریحان اللہ وا
:::
پاکستان میں شاید ہزاروں لوگ ہیں جو دوبارہ فطرت، سادگی، خالص کھانے اور ذہنی سکون کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہماری زندگیاں اب مکمل طور پر مصنوعی خوراک، اسکرینوں، شور، آلودگی اور ذہنی دباؤ میں گھِر چکی ہیں۔
تھرپارکر کے ایک نوجوان، بھگوان داس کیولانی، نے ایک بہت خوبصورت آئیڈیا شیئر کیا ہے:
“دیسی آرگینک ولیج ریٹریٹ”
ایک ایسا مقام جہاں لوگ ایک یا دو دن کے لیے جا کر اصل دیسی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔
مٹی کے گھر
چارپائیاں
درختوں کی چھاؤں
تازہ دودھ، لسی، مکھن، دیسی گھی
کھیتوں کی سبزیاں
دیسی روٹی، ساگ، دالیں
سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان ثقافت
بیل گاڑی کی سیر
جانوروں کی دیکھ بھال
لوک موسیقی اور گاؤں کی محفلیں
مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مستقبل میں “نیچر ریٹریٹس” اور “آرگینک ولیجز” ایک بہت بڑی انڈسٹری بننے جا رہے ہیں کیونکہ انسان اب مصنوعی زندگی سے تھک چکا ہے۔
اگر کوئی شخص، سرمایہ کار، فارمر، آرکیٹیکٹ، یا پارٹنر اس خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔
بھگوان داس کیولانی
مٹھی، تھرپارکر
0336-3222330
ہوسکتا ہے پاکستان کی اگلی خوبصورت اور پُرسکون ٹورزم انڈسٹری کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ تھرپارکر کے صحرا سے شروع ہو۔
— ریحان اللہ وا
:::
آج مجھے یہ خوبصورت میسج موصول ہوا۔
پاکستان میں شاید ہزاروں لوگ ہیں جو دوبارہ فطرت، سادگی، خالص کھانے اور ذہنی سکون کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہماری زندگیاں اب مکمل طور پر مصنوعی خوراک، اسکرینوں، شور، آلودگی اور ذہنی دباؤ میں گھِر چکی ہیں۔
تھرپارکر کے ایک نوجوان، بھگوان داس کیولانی، نے ایک بہت خوبصورت آئیڈیا شیئر کیا ہے:
“دیسی آرگینک ولیج ریٹریٹ”
ایک ایسا مقام جہاں لوگ ایک یا دو دن کے لیے جا کر اصل دیسی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔
🌿 مٹی کے گھر
🌿 چارپائیاں
🌿 درختوں کی چھاؤں
🌿 تازہ دودھ، لسی، مکھن، دیسی گھی
🌿 کھیتوں کی سبزیاں
🌿 دیسی روٹی، ساگ، دالیں
🌿 سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان ثقافت
🌿 بیل گاڑی کی سیر
🌿 جانوروں کی دیکھ بھال
🌿 لوک موسیقی اور گاؤں کی محفلیں
مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مستقبل میں “نیچر ریٹریٹس” اور “آرگینک ولیجز” ایک بہت بڑی انڈسٹری بننے جا رہے ہیں کیونکہ انسان اب مصنوعی زندگی سے تھک چکا ہے۔
اگر کوئی شخص، سرمایہ کار، فارمر، آرکیٹیکٹ، یا پارٹنر اس خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے تو براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔
بھگوان داس کیولانی
مٹھی، تھرپارکر
📞 0336-3222330
ہوسکتا ہے پاکستان کی اگلی خوبصورت اور پُرسکون ٹورزم انڈسٹری کسی بڑے شہر سے نہیں بلکہ تھرپارکر کے صحرا سے شروع ہو۔
— ریحان اللہ وا
:::
0 التعليقات
0 المشاركات
22 مشاهدة