اگر آج Sir Syed Ahmad Khan زندہ ہوتے، تو شاید وہ مسلمانوں سے کچھ اس طرح مخاطب ہوتے:

“میرے عزیز مسلمانو،

ایک زمانہ تھا جب بغداد، قرطبہ، دہلی، سمرقند، بخارا اور اندلس علم کے چراغ تھے۔ دنیا کے لوگ ہم سے علم، فلسفہ، ریاضی، طب اور سائنس سیکھنے آتے تھے۔ ہم نے دنیا کو الجبرا دیا، فلکیات دی، یونیورسٹیاں دیں، کتابیں دیں، اور تہذیب دی۔ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ ہم نے علم سے منہ موڑ لیا، اور دنیا ہم سے آگے نکل گئی۔

آج کے زمانے میں انگریزی صرف ایک زبان نہیں رہی۔ یہ دنیا کے علم، سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت، تحقیق، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، اور بین الاقوامی تعلقات کی زبان بن چکی ہے۔

اگر ایک مسلمان انگریزی نہیں جانتا، تو وہ دنیا کے تقریباً اسی فیصد جدید علم سے محروم رہ جاتا ہے۔

سوچیے:
دنیا کی بڑی سائنسی کتابیں کس زبان میں ہیں؟
مصنوعی ذہانت (AI) کس زبان میں سب سے زیادہ ترقی کر رہی ہے؟
دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں کس زبان میں پڑھاتی ہیں؟
انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ معلومات کس زبان میں ہیں؟
دنیا کے بڑے کاروبار کس زبان میں چلتے ہیں؟

ان سب کا جواب ہے: انگریزی۔

میں آپ کو اپنی تہذیب چھوڑنے کو نہیں کہہ رہا۔
میں آپ کو قرآن چھوڑنے کو نہیں کہہ رہا۔
میں آپ کو اردو، عربی، فارسی یا اپنی مادری زبان سے دور ہونے کو نہیں کہہ رہا۔

میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ دنیا کے علم کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں، تو انگریزی اس دروازے کی چابی بن چکی ہے۔

جس قوم کے نوجوان صرف اپنی گلی، اپنے محلے، اپنے شہر یا اپنے ملک تک محدود سوچتے ہیں، وہ دنیا کی قیادت نہیں کر سکتے۔ آج کا مسلمان اگر دنیا میں عزت، طاقت، اور اثر چاہتا ہے، تو اسے دنیا کی زبان سمجھنی ہوگی۔

یاد رکھو:
انگریزی سیکھنا غلامی نہیں۔
انگریزی نہ سیکھنا کمزوری بن سکتا ہے۔

جاپان نے انگریزی سیکھی، مگر جاپانی رہا۔
چین نے انگریزی سیکھی، مگر چینی رہا۔
ترکی نے انگریزی سیکھی، مگر ترک رہا۔

زبان ایک ہتھیار ہے۔
جس کے پاس زیادہ زبانیں ہوں، اس کے پاس دنیا کے زیادہ دروازے کھلتے ہیں۔

آج اگر ایک مسلمان بچہ انگریزی، AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، کاروبار، اور جدید سائنس سیکھ لے، تو وہ پوری دنیا میں اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ وہ صرف نوکری لینے والا نہیں، بلکہ نوکریاں دینے والا بن سکتا ہے۔

میں مسلمانوں سے کہتا ہوں:
اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے مت پڑھاؤ۔
انہیں دنیا سمجھنے کے لیے پڑھاؤ۔
انہیں اعتماد دو۔
انہیں سوال پوچھنا سکھاؤ۔
انہیں تحقیق کرنا سکھاؤ۔
انہیں انگریزی سکھاؤ تاکہ وہ دنیا کے علم کو پڑھ سکیں، سمجھ سکیں، اور پھر اپنی زبانوں میں اپنی قوم تک پہنچا سکیں۔

اگر مسلمان آنے والے زمانے میں عزت چاہتے ہیں، تو انہیں کتاب، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سائنس، اور انگریزی سے دوستی کرنی ہوگی۔

ورنہ دنیا آگے نکل جائے گی، اور ہم صرف ماضی کی کہانیاں سناتے رہ جائیں گے۔

— سر سید احمد خان (خیالی اندازِ تحریر)”
اگر آج Sir Syed Ahmad Khan زندہ ہوتے، تو شاید وہ مسلمانوں سے کچھ اس طرح مخاطب ہوتے: “میرے عزیز مسلمانو، ایک زمانہ تھا جب بغداد، قرطبہ، دہلی، سمرقند، بخارا اور اندلس علم کے چراغ تھے۔ دنیا کے لوگ ہم سے علم، فلسفہ، ریاضی، طب اور سائنس سیکھنے آتے تھے۔ ہم نے دنیا کو الجبرا دیا، فلکیات دی، یونیورسٹیاں دیں، کتابیں دیں، اور تہذیب دی۔ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ ہم نے علم سے منہ موڑ لیا، اور دنیا ہم سے آگے نکل گئی۔ آج کے زمانے میں انگریزی صرف ایک زبان نہیں رہی۔ یہ دنیا کے علم، سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت، تحقیق، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، اور بین الاقوامی تعلقات کی زبان بن چکی ہے۔ اگر ایک مسلمان انگریزی نہیں جانتا، تو وہ دنیا کے تقریباً اسی فیصد جدید علم سے محروم رہ جاتا ہے۔ سوچیے: دنیا کی بڑی سائنسی کتابیں کس زبان میں ہیں؟ مصنوعی ذہانت (AI) کس زبان میں سب سے زیادہ ترقی کر رہی ہے؟ دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں کس زبان میں پڑھاتی ہیں؟ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ معلومات کس زبان میں ہیں؟ دنیا کے بڑے کاروبار کس زبان میں چلتے ہیں؟ ان سب کا جواب ہے: انگریزی۔ میں آپ کو اپنی تہذیب چھوڑنے کو نہیں کہہ رہا۔ میں آپ کو قرآن چھوڑنے کو نہیں کہہ رہا۔ میں آپ کو اردو، عربی، فارسی یا اپنی مادری زبان سے دور ہونے کو نہیں کہہ رہا۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ دنیا کے علم کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں، تو انگریزی اس دروازے کی چابی بن چکی ہے۔ جس قوم کے نوجوان صرف اپنی گلی، اپنے محلے، اپنے شہر یا اپنے ملک تک محدود سوچتے ہیں، وہ دنیا کی قیادت نہیں کر سکتے۔ آج کا مسلمان اگر دنیا میں عزت، طاقت، اور اثر چاہتا ہے، تو اسے دنیا کی زبان سمجھنی ہوگی۔ یاد رکھو: انگریزی سیکھنا غلامی نہیں۔ انگریزی نہ سیکھنا کمزوری بن سکتا ہے۔ جاپان نے انگریزی سیکھی، مگر جاپانی رہا۔ چین نے انگریزی سیکھی، مگر چینی رہا۔ ترکی نے انگریزی سیکھی، مگر ترک رہا۔ زبان ایک ہتھیار ہے۔ جس کے پاس زیادہ زبانیں ہوں، اس کے پاس دنیا کے زیادہ دروازے کھلتے ہیں۔ آج اگر ایک مسلمان بچہ انگریزی، AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، کاروبار، اور جدید سائنس سیکھ لے، تو وہ پوری دنیا میں اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ وہ صرف نوکری لینے والا نہیں، بلکہ نوکریاں دینے والا بن سکتا ہے۔ میں مسلمانوں سے کہتا ہوں: اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے مت پڑھاؤ۔ انہیں دنیا سمجھنے کے لیے پڑھاؤ۔ انہیں اعتماد دو۔ انہیں سوال پوچھنا سکھاؤ۔ انہیں تحقیق کرنا سکھاؤ۔ انہیں انگریزی سکھاؤ تاکہ وہ دنیا کے علم کو پڑھ سکیں، سمجھ سکیں، اور پھر اپنی زبانوں میں اپنی قوم تک پہنچا سکیں۔ اگر مسلمان آنے والے زمانے میں عزت چاہتے ہیں، تو انہیں کتاب، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سائنس، اور انگریزی سے دوستی کرنی ہوگی۔ ورنہ دنیا آگے نکل جائے گی، اور ہم صرف ماضی کی کہانیاں سناتے رہ جائیں گے۔ — سر سید احمد خان (خیالی اندازِ تحریر)”
0 التعليقات 0 المشاركات 22 مشاهدة