پاکستان میں تقریباً ہر بڑا معاشی موقع طاقتور اور امیر لوگوں کے فائدے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

— عمر سیف

1. پاکستان نے اربوں ڈالر قرض لیا۔
یہ پیسہ فیکٹریاں، ایکسپورٹ، ہنر مند لوگ اور کاروبار بڑھانے پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔
لیکن اس کا بڑا حصہ بڑے بڑے منصوبوں اور کمیشن میں غائب ہو گیا۔

نتیجہ:
ہر چند سال بعد پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے قرض مانگنے پہنچ جاتا ہے، جبکہ امیر لوگ اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کر دیتے ہیں۔

2. پاکستان کی صنعت کو دنیا میں مقابلہ کرنے کے لیے سستی بجلی چاہیے تھی۔
لیکن نظام ایسا بنا دیا گیا کہ فائدہ صرف آئی پی پیز اور طاقتور لوگوں کو ہو۔

نتیجہ:
آئی پی پی مالکان امیر ہوتے گئے، جبکہ مہنگی بجلی نے صنعت کو کمزور کر دیا۔
ایکسپورٹ آگے نہ بڑھ سکی۔

3. کسانوں کو سستی کھاد کی ضرورت تھی۔
گیس سبسڈی زراعت کی مدد کے لیے دی گئی تھی۔
لیکن یہ سبسڈی بھی چند طاقتور لوگوں کے منافع کا ذریعہ بن گئی۔

نتیجہ:
کھاد بنانے والے بڑے گروپ فائدے میں رہے، مگر زراعت اور ایکسپورٹ میں خاص ترقی نہ ہو سکی۔

4. پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بڑا تجارتی راستہ بن سکتا تھا۔
لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ کو اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

نتیجہ:
ڈالر ملک سے باہر جاتے رہے، بلیک مارکیٹ بڑھی، تجارتی خسارہ بڑھتا گیا اور معیشت کمزور رہی۔

5. پاکستان کو بہترین تعلیم اور قابلِ روزگار مہارتوں کی ضرورت تھی۔
لیکن ڈگریاں بانٹنے والے ادارے بڑھتے گئے جبکہ سرکاری یونیورسٹیاں کمزور ہوتی گئیں۔

نتیجہ:
ہر سال تقریباً 75 ہزار آئی ٹی گریجویٹس نکلتے ہیں، مگر ان میں سے 5 ہزار سے بھی کم واقعی نوکری کے قابل ہوتے ہیں۔

پاکستان کا اصل مسئلہ مواقع کی کمی نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر موقع کو ملک کی ترقی کے بجائے صرف پیسہ نکالنے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

اب پاکستان کو دنیا میں ایک نئی اہمیت اور سفارتی مقام مل رہا ہے۔
امید ہے کہ اس موقع کو بھی ضائع نہیں کیا جائے

:::

Via Umar Saif
پاکستان میں تقریباً ہر بڑا معاشی موقع طاقتور اور امیر لوگوں کے فائدے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ — عمر سیف 1. پاکستان نے اربوں ڈالر قرض لیا۔ یہ پیسہ فیکٹریاں، ایکسپورٹ، ہنر مند لوگ اور کاروبار بڑھانے پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کا بڑا حصہ بڑے بڑے منصوبوں اور کمیشن میں غائب ہو گیا۔ نتیجہ: ہر چند سال بعد پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے قرض مانگنے پہنچ جاتا ہے، جبکہ امیر لوگ اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کر دیتے ہیں۔ 2. پاکستان کی صنعت کو دنیا میں مقابلہ کرنے کے لیے سستی بجلی چاہیے تھی۔ لیکن نظام ایسا بنا دیا گیا کہ فائدہ صرف آئی پی پیز اور طاقتور لوگوں کو ہو۔ نتیجہ: آئی پی پی مالکان امیر ہوتے گئے، جبکہ مہنگی بجلی نے صنعت کو کمزور کر دیا۔ ایکسپورٹ آگے نہ بڑھ سکی۔ 3. کسانوں کو سستی کھاد کی ضرورت تھی۔ گیس سبسڈی زراعت کی مدد کے لیے دی گئی تھی۔ لیکن یہ سبسڈی بھی چند طاقتور لوگوں کے منافع کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجہ: کھاد بنانے والے بڑے گروپ فائدے میں رہے، مگر زراعت اور ایکسپورٹ میں خاص ترقی نہ ہو سکی۔ 4. پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بڑا تجارتی راستہ بن سکتا تھا۔ لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ کو اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ: ڈالر ملک سے باہر جاتے رہے، بلیک مارکیٹ بڑھی، تجارتی خسارہ بڑھتا گیا اور معیشت کمزور رہی۔ 5. پاکستان کو بہترین تعلیم اور قابلِ روزگار مہارتوں کی ضرورت تھی۔ لیکن ڈگریاں بانٹنے والے ادارے بڑھتے گئے جبکہ سرکاری یونیورسٹیاں کمزور ہوتی گئیں۔ نتیجہ: ہر سال تقریباً 75 ہزار آئی ٹی گریجویٹس نکلتے ہیں، مگر ان میں سے 5 ہزار سے بھی کم واقعی نوکری کے قابل ہوتے ہیں۔ پاکستان کا اصل مسئلہ مواقع کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر موقع کو ملک کی ترقی کے بجائے صرف پیسہ نکالنے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اب پاکستان کو دنیا میں ایک نئی اہمیت اور سفارتی مقام مل رہا ہے۔ امید ہے کہ اس موقع کو بھی ضائع نہیں کیا جائے ::: Via Umar Saif
0 Commenti 0 condivisioni 29 Views