ڈاکٹر باری صاحب، Indus Hospital & Health Network کے بانی، ایک بہت خوبصورت خواب رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“میری خواہش ہے کہ ایک دن سارے اسپتال خالی ہو جائیں۔”
پہلی بار سننے پر یہ بات عجیب لگتی ہے۔
ایک شخص جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی اسپتالوں میں سے ایک بنایا…
وہ اسپتال بند کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟
کیونکہ اصل کامیابی بیماری کا علاج نہیں…
بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
آج پاکستان آہستہ آہستہ مریضوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔
شوگر…
دل کی بیماریاں…
ڈپریشن…
ٹینشن…
کڈنی فیل ہونا…
کینسر…
ہائی بلڈ پریشر…
موٹاپا…
اور ان میں سے بہت سی بیماریاں صرف قسمت کی وجہ سے نہیں ہیں۔
یہ خراب خوراک،
ذہنی دباؤ،
آلودگی،
کمزور تعلیم،
ورزش کی کمی،
نیند کی خرابی،
اور گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔
خاص طور پر “صاف پینے کا پانی” شاید پاکستان کا سب سے بڑا خاموش بحران ہے۔
پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ ایسا پانی پیتے ہیں جس میں:
* جراثیم ہوتے ہیں،
* سیوریج ملا ہوتا ہے،
* صنعتی کیمیکل شامل ہوتے ہیں،
* یا پلاسٹک اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔
اسی پانی کی وجہ سے:
* پیٹ کی بیماریاں،
* ہیپاٹائٹس،
* ٹائیفائیڈ،
* ڈائریا،
* گردوں کے مسائل،
* بچوں کی کمزور نشوونما،
* اور ہزاروں اموات ہوتی ہیں۔
بہت سارے پاکستانی اسپتال اس لیے بھرے ہوئے ہیں…
کیونکہ لوگوں کو صاف پانی ہی نہیں مل رہا۔
سوچیے…
اگر پاکستان کے ہر گھر،
ہر اسکول،
ہر مسجد،
اور ہر محلے میں صاف پانی دستیاب ہو جائے…
تو شاید لاکھوں لوگ اسپتال جانے سے بچ جائیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں صرف صاف پانی آنے سے:
* بچوں کی اموات میں بڑی کمی آئی،
* بیماریوں میں زبردست کمی ہوئی،
* اور صحت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچ گئے۔
اصل انقلاب صرف نئے اسپتال بنانے سے نہیں آئے گا۔
اصل انقلاب تب آئے گا جب:
* بچے صحت مند کھانا کھائیں گے،
* روزانہ ورزش کریں گے،
* موبائل سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑیں گے،
* ذہنی سکون سیکھیں گے،
* صاف ہوا لیں گے،
* اور صاف پانی پئیں گے۔
تصور کریں اگر پاکستان کے ہر اسکول میں:
* ورزش،
* میڈیٹیشن،
* ہیلتھ ایجوکیشن،
* AI ہیلتھ ٹریکنگ،
* ذہنی صحت کی تربیت،
* اور صاف پانی کا بہترین نظام ہو…
تو آہستہ آہستہ اسپتال خالی ہونا شروع ہو جائیں گے۔
کیونکہ اصل کامیابی زیادہ آپریشن کرنا نہیں ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ بیمار ہی کم ہوں۔
ایک ترقی یافتہ ملک وہ نہیں جہاں سب سے بڑے اسپتال ہوں…
بلکہ وہ ہے جہاں:
* اسپتال کم بھرے ہوں،
* جیلیں کم بھری ہوں،
* لوگ زیادہ صحت مند ہوں،
* اور بچے اپنے والدین سے زیادہ مضبوط زندگی گزاریں۔
ڈاکٹر باری صاحب شاید اسپتال بند نہیں کرنا چاہتے…
وہ تکلیف بند کرنا چاہتے ہیں۔
اور شاید پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایک دن یہ ہوگی…
کہ ہم نے دنیا کی سب سے صحت مند نسل پیدا کر دی۔
وہ کہتے ہیں:
“میری خواہش ہے کہ ایک دن سارے اسپتال خالی ہو جائیں۔”
پہلی بار سننے پر یہ بات عجیب لگتی ہے۔
ایک شخص جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی اسپتالوں میں سے ایک بنایا…
وہ اسپتال بند کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟
کیونکہ اصل کامیابی بیماری کا علاج نہیں…
بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
آج پاکستان آہستہ آہستہ مریضوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔
شوگر…
دل کی بیماریاں…
ڈپریشن…
ٹینشن…
کڈنی فیل ہونا…
کینسر…
ہائی بلڈ پریشر…
موٹاپا…
اور ان میں سے بہت سی بیماریاں صرف قسمت کی وجہ سے نہیں ہیں۔
یہ خراب خوراک،
ذہنی دباؤ،
آلودگی،
کمزور تعلیم،
ورزش کی کمی،
نیند کی خرابی،
اور گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔
خاص طور پر “صاف پینے کا پانی” شاید پاکستان کا سب سے بڑا خاموش بحران ہے۔
پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ ایسا پانی پیتے ہیں جس میں:
* جراثیم ہوتے ہیں،
* سیوریج ملا ہوتا ہے،
* صنعتی کیمیکل شامل ہوتے ہیں،
* یا پلاسٹک اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔
اسی پانی کی وجہ سے:
* پیٹ کی بیماریاں،
* ہیپاٹائٹس،
* ٹائیفائیڈ،
* ڈائریا،
* گردوں کے مسائل،
* بچوں کی کمزور نشوونما،
* اور ہزاروں اموات ہوتی ہیں۔
بہت سارے پاکستانی اسپتال اس لیے بھرے ہوئے ہیں…
کیونکہ لوگوں کو صاف پانی ہی نہیں مل رہا۔
سوچیے…
اگر پاکستان کے ہر گھر،
ہر اسکول،
ہر مسجد،
اور ہر محلے میں صاف پانی دستیاب ہو جائے…
تو شاید لاکھوں لوگ اسپتال جانے سے بچ جائیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں صرف صاف پانی آنے سے:
* بچوں کی اموات میں بڑی کمی آئی،
* بیماریوں میں زبردست کمی ہوئی،
* اور صحت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچ گئے۔
اصل انقلاب صرف نئے اسپتال بنانے سے نہیں آئے گا۔
اصل انقلاب تب آئے گا جب:
* بچے صحت مند کھانا کھائیں گے،
* روزانہ ورزش کریں گے،
* موبائل سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑیں گے،
* ذہنی سکون سیکھیں گے،
* صاف ہوا لیں گے،
* اور صاف پانی پئیں گے۔
تصور کریں اگر پاکستان کے ہر اسکول میں:
* ورزش،
* میڈیٹیشن،
* ہیلتھ ایجوکیشن،
* AI ہیلتھ ٹریکنگ،
* ذہنی صحت کی تربیت،
* اور صاف پانی کا بہترین نظام ہو…
تو آہستہ آہستہ اسپتال خالی ہونا شروع ہو جائیں گے۔
کیونکہ اصل کامیابی زیادہ آپریشن کرنا نہیں ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ بیمار ہی کم ہوں۔
ایک ترقی یافتہ ملک وہ نہیں جہاں سب سے بڑے اسپتال ہوں…
بلکہ وہ ہے جہاں:
* اسپتال کم بھرے ہوں،
* جیلیں کم بھری ہوں،
* لوگ زیادہ صحت مند ہوں،
* اور بچے اپنے والدین سے زیادہ مضبوط زندگی گزاریں۔
ڈاکٹر باری صاحب شاید اسپتال بند نہیں کرنا چاہتے…
وہ تکلیف بند کرنا چاہتے ہیں۔
اور شاید پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایک دن یہ ہوگی…
کہ ہم نے دنیا کی سب سے صحت مند نسل پیدا کر دی۔
ڈاکٹر باری صاحب، Indus Hospital & Health Network کے بانی، ایک بہت خوبصورت خواب رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“میری خواہش ہے کہ ایک دن سارے اسپتال خالی ہو جائیں۔”
پہلی بار سننے پر یہ بات عجیب لگتی ہے۔
ایک شخص جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی اسپتالوں میں سے ایک بنایا…
وہ اسپتال بند کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟
کیونکہ اصل کامیابی بیماری کا علاج نہیں…
بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
آج پاکستان آہستہ آہستہ مریضوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔
شوگر…
دل کی بیماریاں…
ڈپریشن…
ٹینشن…
کڈنی فیل ہونا…
کینسر…
ہائی بلڈ پریشر…
موٹاپا…
اور ان میں سے بہت سی بیماریاں صرف قسمت کی وجہ سے نہیں ہیں۔
یہ خراب خوراک،
ذہنی دباؤ،
آلودگی،
کمزور تعلیم،
ورزش کی کمی،
نیند کی خرابی،
اور گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔
خاص طور پر “صاف پینے کا پانی” شاید پاکستان کا سب سے بڑا خاموش بحران ہے۔
پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ ایسا پانی پیتے ہیں جس میں:
* جراثیم ہوتے ہیں،
* سیوریج ملا ہوتا ہے،
* صنعتی کیمیکل شامل ہوتے ہیں،
* یا پلاسٹک اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔
اسی پانی کی وجہ سے:
* پیٹ کی بیماریاں،
* ہیپاٹائٹس،
* ٹائیفائیڈ،
* ڈائریا،
* گردوں کے مسائل،
* بچوں کی کمزور نشوونما،
* اور ہزاروں اموات ہوتی ہیں۔
بہت سارے پاکستانی اسپتال اس لیے بھرے ہوئے ہیں…
کیونکہ لوگوں کو صاف پانی ہی نہیں مل رہا۔
سوچیے…
اگر پاکستان کے ہر گھر،
ہر اسکول،
ہر مسجد،
اور ہر محلے میں صاف پانی دستیاب ہو جائے…
تو شاید لاکھوں لوگ اسپتال جانے سے بچ جائیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں صرف صاف پانی آنے سے:
* بچوں کی اموات میں بڑی کمی آئی،
* بیماریوں میں زبردست کمی ہوئی،
* اور صحت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچ گئے۔
اصل انقلاب صرف نئے اسپتال بنانے سے نہیں آئے گا۔
اصل انقلاب تب آئے گا جب:
* بچے صحت مند کھانا کھائیں گے،
* روزانہ ورزش کریں گے،
* موبائل سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑیں گے،
* ذہنی سکون سیکھیں گے،
* صاف ہوا لیں گے،
* اور صاف پانی پئیں گے۔
تصور کریں اگر پاکستان کے ہر اسکول میں:
* ورزش،
* میڈیٹیشن،
* ہیلتھ ایجوکیشن،
* AI ہیلتھ ٹریکنگ،
* ذہنی صحت کی تربیت،
* اور صاف پانی کا بہترین نظام ہو…
تو آہستہ آہستہ اسپتال خالی ہونا شروع ہو جائیں گے۔
کیونکہ اصل کامیابی زیادہ آپریشن کرنا نہیں ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ بیمار ہی کم ہوں۔
ایک ترقی یافتہ ملک وہ نہیں جہاں سب سے بڑے اسپتال ہوں…
بلکہ وہ ہے جہاں:
* اسپتال کم بھرے ہوں،
* جیلیں کم بھری ہوں،
* لوگ زیادہ صحت مند ہوں،
* اور بچے اپنے والدین سے زیادہ مضبوط زندگی گزاریں۔
ڈاکٹر باری صاحب شاید اسپتال بند نہیں کرنا چاہتے…
وہ تکلیف بند کرنا چاہتے ہیں۔
اور شاید پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایک دن یہ ہوگی…
کہ ہم نے دنیا کی سب سے صحت مند نسل پیدا کر دی۔
0 Комментарии
0 Поделились
27 Просмотры