وہ خاموش بیٹھے ہیں…
شیر، ہاتھی، زرافہ، زیبرا—
زمین کی وہ مخلوق جو بقا کی زبان سمجھتی ہے۔
ان کے ساتھ…
دو خاموش مہمان، کسی اور دنیا سے،
آسمان کو جلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
اوپر…
مشینیں دھاڑ رہی ہیں،
لوہے کے پرندوں کی طرح،
اپنے ہی بنائے ہوئے شہروں پر آگ برسا رہی ہیں۔
عمارتیں گر رہی ہیں…
دھواں بادلوں تک چڑھ رہا ہے…
زمین کانپ رہی ہے—
ایسے غصے سے جسے کوئی جانور سمجھ نہیں سکتا۔
شیر سوچتا ہے—
ہم لڑتے ہیں… بھوک کے لیے، علاقے کے لیے، زندگی کے لیے…
مگر کبھی اپنی ہی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے نہیں۔
ہاتھی کو جنگل اور دریا یاد آتے ہیں…
وہ آہستہ سے پوچھتا ہے—
سب سے ذہین مخلوق
اپنا ہی گھر کیوں جلاتی ہے؟
زرافہ افق کو جلتے دیکھتا ہے…
اور دھیرے سے کہتا ہے—
انسان ستاروں تک پہنچنا چاہتے ہیں…
مگر امن تک نہیں پہنچ پاتے۔
زیبرا ملبے کو دیکھ کر سوچتا ہے—
ہم خطرے سے بھاگتے ہیں…
انسان تو جیسے خطرے کی طرف بھاگتے ہیں۔
اور وہ چھوٹے سبز مہمان…
جو اس عجیب سی زمین کا مطالعہ کر رہے ہیں…
ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں—
“کیا حیرت انگیز مخلوق ہے…
شہر بنا سکتی ہے، کہکشاؤں کو کھوج سکتی ہے،
شاعری لکھ سکتی ہے، کائنات کے راز سمجھ سکتی ہے…
مگر پھر بھی…
ابھی تک یہ نہیں سیکھ سکی
کہ ایک دوسرے کے ساتھ جینا کیسے ہے…”
اور جب آسمان آگ اور گرج سے بھر جاتا ہے…
وہ سب ایک لکڑی کی بینچ پر خاموش بیٹھے رہتے ہیں…
انسانیت کے سب سے بڑے تضاد کو دیکھتے ہوئے—
ایک ایسی مخلوق…
جو دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے،
مگر ابھی تک…
اسے تباہ نہ کرنے کا ہنر نہیں سیکھ سکی۔
Via @samo
شیر، ہاتھی، زرافہ، زیبرا—
زمین کی وہ مخلوق جو بقا کی زبان سمجھتی ہے۔
ان کے ساتھ…
دو خاموش مہمان، کسی اور دنیا سے،
آسمان کو جلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
اوپر…
مشینیں دھاڑ رہی ہیں،
لوہے کے پرندوں کی طرح،
اپنے ہی بنائے ہوئے شہروں پر آگ برسا رہی ہیں۔
عمارتیں گر رہی ہیں…
دھواں بادلوں تک چڑھ رہا ہے…
زمین کانپ رہی ہے—
ایسے غصے سے جسے کوئی جانور سمجھ نہیں سکتا۔
شیر سوچتا ہے—
ہم لڑتے ہیں… بھوک کے لیے، علاقے کے لیے، زندگی کے لیے…
مگر کبھی اپنی ہی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے نہیں۔
ہاتھی کو جنگل اور دریا یاد آتے ہیں…
وہ آہستہ سے پوچھتا ہے—
سب سے ذہین مخلوق
اپنا ہی گھر کیوں جلاتی ہے؟
زرافہ افق کو جلتے دیکھتا ہے…
اور دھیرے سے کہتا ہے—
انسان ستاروں تک پہنچنا چاہتے ہیں…
مگر امن تک نہیں پہنچ پاتے۔
زیبرا ملبے کو دیکھ کر سوچتا ہے—
ہم خطرے سے بھاگتے ہیں…
انسان تو جیسے خطرے کی طرف بھاگتے ہیں۔
اور وہ چھوٹے سبز مہمان…
جو اس عجیب سی زمین کا مطالعہ کر رہے ہیں…
ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں—
“کیا حیرت انگیز مخلوق ہے…
شہر بنا سکتی ہے، کہکشاؤں کو کھوج سکتی ہے،
شاعری لکھ سکتی ہے، کائنات کے راز سمجھ سکتی ہے…
مگر پھر بھی…
ابھی تک یہ نہیں سیکھ سکی
کہ ایک دوسرے کے ساتھ جینا کیسے ہے…”
اور جب آسمان آگ اور گرج سے بھر جاتا ہے…
وہ سب ایک لکڑی کی بینچ پر خاموش بیٹھے رہتے ہیں…
انسانیت کے سب سے بڑے تضاد کو دیکھتے ہوئے—
ایک ایسی مخلوق…
جو دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے،
مگر ابھی تک…
اسے تباہ نہ کرنے کا ہنر نہیں سیکھ سکی۔
Via @samo
وہ خاموش بیٹھے ہیں…
شیر، ہاتھی، زرافہ، زیبرا—
زمین کی وہ مخلوق جو بقا کی زبان سمجھتی ہے۔
ان کے ساتھ…
دو خاموش مہمان، کسی اور دنیا سے،
آسمان کو جلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
اوپر…
مشینیں دھاڑ رہی ہیں،
لوہے کے پرندوں کی طرح،
اپنے ہی بنائے ہوئے شہروں پر آگ برسا رہی ہیں۔
عمارتیں گر رہی ہیں…
دھواں بادلوں تک چڑھ رہا ہے…
زمین کانپ رہی ہے—
ایسے غصے سے جسے کوئی جانور سمجھ نہیں سکتا۔
🐅 شیر سوچتا ہے—
ہم لڑتے ہیں… بھوک کے لیے، علاقے کے لیے، زندگی کے لیے…
مگر کبھی اپنی ہی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے نہیں۔
🐘 ہاتھی کو جنگل اور دریا یاد آتے ہیں…
وہ آہستہ سے پوچھتا ہے—
سب سے ذہین مخلوق
اپنا ہی گھر کیوں جلاتی ہے؟
🦒 زرافہ افق کو جلتے دیکھتا ہے…
اور دھیرے سے کہتا ہے—
انسان ستاروں تک پہنچنا چاہتے ہیں…
مگر امن تک نہیں پہنچ پاتے۔
🦓 زیبرا ملبے کو دیکھ کر سوچتا ہے—
ہم خطرے سے بھاگتے ہیں…
انسان تو جیسے خطرے کی طرف بھاگتے ہیں۔
اور وہ چھوٹے سبز مہمان…
جو اس عجیب سی زمین کا مطالعہ کر رہے ہیں…
ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں—
“کیا حیرت انگیز مخلوق ہے…
شہر بنا سکتی ہے، کہکشاؤں کو کھوج سکتی ہے،
شاعری لکھ سکتی ہے، کائنات کے راز سمجھ سکتی ہے…
مگر پھر بھی…
ابھی تک یہ نہیں سیکھ سکی
کہ ایک دوسرے کے ساتھ جینا کیسے ہے…”
اور جب آسمان آگ اور گرج سے بھر جاتا ہے…
وہ سب ایک لکڑی کی بینچ پر خاموش بیٹھے رہتے ہیں…
انسانیت کے سب سے بڑے تضاد کو دیکھتے ہوئے—
ایک ایسی مخلوق…
جو دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے،
مگر ابھی تک…
اسے تباہ نہ کرنے کا ہنر نہیں سیکھ سکی۔
Via @samo
0 Commentaires
0 Parts
95 Vue