عنوان:
مندھ قدیم توں دنیا اندر دو قبیلے آئے
اک جناں زہر ہے پیتا اک جناں پلائے

ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔
اس گاؤں میں دو قسم کے لوگ رہتے تھے۔

ایک وہ لوگ تھے جو اگر کوئی ان سے برا بول دے، تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔
دل میں درد ہوتا تھا، مگر وہ جواب میں کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔

دوسرے وہ لوگ تھے جو ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے۔
افواہیں پھیلاتے، لڑائیاں کرواتے، اور لوگوں کے دلوں میں زہر بھر دیتے۔

گاؤں کے بچے ایک دن ایک بوڑھے دانا کے پاس گئے اور پوچھا:

“بابا جی، یہ لوگ ایسے کیوں ہیں؟”

بوڑھے نے مسکرا کر کہا:

“بیٹو، دنیا کے شروع سے ہی دو قبیلے ہیں۔

ایک قبیلہ وہ ہے جو خود زہر پی لیتا ہے
مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔

اور دوسرا قبیلہ وہ ہے
جو خود تو آرام سے رہتا ہے
مگر دوسروں کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔”

بچوں نے پوچھا:

“بابا جی، اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟”

بوڑھے نے کہا:

“اچھے لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کبھی تکلیف نہ ہو۔

اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں
جو تکلیف ہونے کے باوجود
کسی اور کو تکلیف نہیں دیتے۔”

پھر اس نے ایک مثال دی۔

اس نے کہا:

“جب کوئی تمہیں برا کہے
اور تم جواب میں برا نہ کہو
تو تم نے زہر پی لیا۔

مگر جب تم کسی کے دل میں نفرت ڈال دو
تو تم نے اسے زہر پلا دیا۔”

بچے خاموش ہو گئے۔

انہیں سمجھ آگئی کہ اصل بہادری لڑائی میں نہیں،
بلکہ اپنے دل کو صاف رکھنے میں ہے۔

اس دن سے گاؤں کے بچوں نے فیصلہ کیا:

ہم اس قبیلے میں شامل ہوں گے
جو زہر پیتا ہے، مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔

کیونکہ آخر میں دنیا کو طاقتور لوگ نہیں،
اچھے لوگ زندہ رکھتے ہیں۔
عنوان: مندھ قدیم توں دنیا اندر دو قبیلے آئے اک جناں زہر ہے پیتا اک جناں پلائے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس گاؤں میں دو قسم کے لوگ رہتے تھے۔ ایک وہ لوگ تھے جو اگر کوئی ان سے برا بول دے، تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔ دل میں درد ہوتا تھا، مگر وہ جواب میں کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے۔ افواہیں پھیلاتے، لڑائیاں کرواتے، اور لوگوں کے دلوں میں زہر بھر دیتے۔ گاؤں کے بچے ایک دن ایک بوڑھے دانا کے پاس گئے اور پوچھا: “بابا جی، یہ لوگ ایسے کیوں ہیں؟” بوڑھے نے مسکرا کر کہا: “بیٹو، دنیا کے شروع سے ہی دو قبیلے ہیں۔ ایک قبیلہ وہ ہے جو خود زہر پی لیتا ہے مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔ اور دوسرا قبیلہ وہ ہے جو خود تو آرام سے رہتا ہے مگر دوسروں کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔” بچوں نے پوچھا: “بابا جی، اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟” بوڑھے نے کہا: “اچھے لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کبھی تکلیف نہ ہو۔ اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو تکلیف ہونے کے باوجود کسی اور کو تکلیف نہیں دیتے۔” پھر اس نے ایک مثال دی۔ اس نے کہا: “جب کوئی تمہیں برا کہے اور تم جواب میں برا نہ کہو تو تم نے زہر پی لیا۔ مگر جب تم کسی کے دل میں نفرت ڈال دو تو تم نے اسے زہر پلا دیا۔” بچے خاموش ہو گئے۔ انہیں سمجھ آگئی کہ اصل بہادری لڑائی میں نہیں، بلکہ اپنے دل کو صاف رکھنے میں ہے۔ اس دن سے گاؤں کے بچوں نے فیصلہ کیا: ہم اس قبیلے میں شامل ہوں گے جو زہر پیتا ہے، مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔ کیونکہ آخر میں دنیا کو طاقتور لوگ نہیں، اچھے لوگ زندہ رکھتے ہیں۔
0 Comments 0 Shares 2 Views