دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ
— Muhammad Iqbal



کبھی کبھی قومیں اس لئے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں…
بلکہ اس لئے کمزور ہو جاتی ہیں کہ ان کے دل مر جاتے ہیں۔

جب دل مر جائے تو انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے —
مگر حوصلہ نہیں ہوتا، خواب نہیں ہوتے، بے چینی نہیں ہوتی۔

علامہ اقبال اسی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں:
اگر تمہیں لگتا ہے کہ امت بیمار ہے، کمزور ہے، پیچھے رہ گئی ہے…
تو اس کا علاج باہر نہیں، اندر ہے۔

علاج یہ ہے کہ دل کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔



دل مردہ کیا ہوتا ہے؟

مردہ دل وہ ہے جو:
• ناانصافی دیکھ کر خاموش رہے
• غربت دیکھ کر بے حس رہے
• عظمت کے خواب دیکھنا چھوڑ دے
• ستاروں کی طرف دیکھ کر بھی کچھ محسوس نہ کرے

ایسا انسان زندہ نظر آتا ہے…
مگر اندر سے مر چکا ہوتا ہے۔



اقبال کا پیغام

اقبال کہتے ہیں:

اگر تم ستاروں کو دیکھ کر بے چین نہیں ہوتے،
اگر آسمان کی وسعت تمہیں ہلا نہیں دیتی،
اگر تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ میں دنیا کو بہتر بنا سکتا ہوں…

تو مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا مشکل ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ تمہارا دل سو گیا ہے۔



ستاروں کا غمزہ کیا ہے؟

اقبال کہتے ہیں:

یہ ستارے صرف روشنی نہیں ہیں…
یہ انسان کو آواز دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں:

“اٹھو، سوچو، تلاش کرو، تخلیق کرو۔”

اگر انسان کے اندر زندگی ہو
تو وہ آسمان دیکھ کر سوچتا ہے:
• میں کیا بنا سکتا ہوں؟
• میں دنیا کو کیسے بدل سکتا ہوں؟
• میں انسانیت کیلئے کیا چھوڑ کر جا سکتا ہوں؟



قومیں کیسے زندہ ہوتی ہیں؟

قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان:
• بڑے خواب دیکھتے ہیں
• خطرہ لیتے ہیں
• سوال پوچھتے ہیں
• سچ بولتے ہیں
• نئی دنیا بناتے ہیں

اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان صرف ماضی کی کہانیاں نہ سنائیں…

بلکہ مستقبل بنائیں۔



اقبال کا اصل پیغام

اقبال کا پیغام بہت سادہ ہے:

دنیا کو بدلنے سے پہلے
اپنے دل کو زندہ کرو۔

کیونکہ جب دل زندہ ہو جائے تو انسان:
• خوف سے آزاد ہو جاتا ہے
• خواب دیکھنے لگتا ہے
• اور پھر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔



آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں
تو سب سے بڑی کمی پیسے، وسائل یا ٹیکنالوجی کی نہیں ہے…

سب سے بڑی کمی ہے:

زندہ دل انسانوں کی۔

اور شاید اسی لئے اقبال صدیوں پہلے ہمیں جگا کر کہہ گئے تھے:

“دل کو دوبارہ زندہ کرو…
کیونکہ یہی امتوں کے پرانے مرض کا علاج ہے۔”
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ — Muhammad Iqbal ⸻ کبھی کبھی قومیں اس لئے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں… بلکہ اس لئے کمزور ہو جاتی ہیں کہ ان کے دل مر جاتے ہیں۔ جب دل مر جائے تو انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے — مگر حوصلہ نہیں ہوتا، خواب نہیں ہوتے، بے چینی نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال اسی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اگر تمہیں لگتا ہے کہ امت بیمار ہے، کمزور ہے، پیچھے رہ گئی ہے… تو اس کا علاج باہر نہیں، اندر ہے۔ علاج یہ ہے کہ دل کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ ⸻ دل مردہ کیا ہوتا ہے؟ مردہ دل وہ ہے جو: • ناانصافی دیکھ کر خاموش رہے • غربت دیکھ کر بے حس رہے • عظمت کے خواب دیکھنا چھوڑ دے • ستاروں کی طرف دیکھ کر بھی کچھ محسوس نہ کرے ایسا انسان زندہ نظر آتا ہے… مگر اندر سے مر چکا ہوتا ہے۔ ⸻ اقبال کا پیغام اقبال کہتے ہیں: اگر تم ستاروں کو دیکھ کر بے چین نہیں ہوتے، اگر آسمان کی وسعت تمہیں ہلا نہیں دیتی، اگر تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ میں دنیا کو بہتر بنا سکتا ہوں… تو مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا مشکل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمہارا دل سو گیا ہے۔ ⸻ ستاروں کا غمزہ کیا ہے؟ اقبال کہتے ہیں: یہ ستارے صرف روشنی نہیں ہیں… یہ انسان کو آواز دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “اٹھو، سوچو، تلاش کرو، تخلیق کرو۔” اگر انسان کے اندر زندگی ہو تو وہ آسمان دیکھ کر سوچتا ہے: • میں کیا بنا سکتا ہوں؟ • میں دنیا کو کیسے بدل سکتا ہوں؟ • میں انسانیت کیلئے کیا چھوڑ کر جا سکتا ہوں؟ ⸻ قومیں کیسے زندہ ہوتی ہیں؟ قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان: • بڑے خواب دیکھتے ہیں • خطرہ لیتے ہیں • سوال پوچھتے ہیں • سچ بولتے ہیں • نئی دنیا بناتے ہیں اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان صرف ماضی کی کہانیاں نہ سنائیں… بلکہ مستقبل بنائیں۔ ⸻ اقبال کا اصل پیغام اقبال کا پیغام بہت سادہ ہے: دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے دل کو زندہ کرو۔ کیونکہ جب دل زندہ ہو جائے تو انسان: • خوف سے آزاد ہو جاتا ہے • خواب دیکھنے لگتا ہے • اور پھر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ⸻ آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو سب سے بڑی کمی پیسے، وسائل یا ٹیکنالوجی کی نہیں ہے… سب سے بڑی کمی ہے: زندہ دل انسانوں کی۔ اور شاید اسی لئے اقبال صدیوں پہلے ہمیں جگا کر کہہ گئے تھے: “دل کو دوبارہ زندہ کرو… کیونکہ یہی امتوں کے پرانے مرض کا علاج ہے۔” ✨
0 Commentaires 0 Parts 49 Vue