“میں نے خدا کو ڈھونڈا تو خود کو پایا…
اور جب خود کو ڈھونڈا تو خدا مل گیا۔”
— مولانا جلال الدین رومی



صدیوں پہلے ایک شخص نکل پڑا۔

وہ صحراؤں سے گزرا۔
وہ پہاڑوں پر چڑھا۔
وہ مسجدوں میں بیٹھا۔
وہ خانقاہوں میں گیا۔

ہر جگہ اس نے ایک ہی سوال پوچھا:

“خدا کہاں ملتا ہے؟”

کسی نے کہا:

مکہ جاؤ۔
کسی نے کہا:

چالیس دن کا روزہ رکھو۔
کسی نے کہا:

ہزار کتابیں پڑھو۔

وہ کرتا رہا…

سفر… عبادت… تلاش…

سال گزر گئے۔

پھر ایک دن وہ تھک گیا۔

وہ خاموش بیٹھ گیا۔

اور پہلی بار اس نے دنیا سے نہیں…
خود سے سوال کیا۔

میں کون ہوں؟

میرا اصل کیا ہے؟

میرا دل کیوں بے چین ہے؟

اور اسی لمحے ایک عجیب حقیقت سامنے آئی۔

وہ خدا کو دنیا بھر میں ڈھونڈ رہا تھا…

مگر جس جگہ خدا نے اپنی نشانی رکھی تھی…

وہ اس کے اپنے دل کے اندر تھی۔

تب اس نے کہا:

“میں نے خدا کو ڈھونڈا تو خود کو پایا…
اور جب خود کو ڈھونڈا تو خدا مل گیا۔”



صوفیاء صدیوں سے ایک راز بتاتے آئے ہیں:

انسان کی سب سے لمبی سفر کی مسافت
زمین سے آسمان تک نہیں ہوتی…
بلکہ دماغ سے دل تک ہوتی ہے۔

کیونکہ دل ایک آئینہ ہے۔

مگر اس آئینے پر تہیں جم جاتی ہیں:

غرور
حسد
خوف
لالچ
اور انا

جب یہ سب صاف ہو جائیں…

تو دل کا آئینہ روشن ہو جاتا ہے۔

اور اس میں انسان کو نظر آتا ہے…

خالق کی نشانی۔



اسی لیے ایک قدیم قول ہے:

“جس نے خود کو پہچان لیا،
اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”

آج کی دنیا میں لوگ ہر چیز تلاش کر رہے ہیں:

زیادہ پیسہ
زیادہ شہرت
زیادہ طاقت
زیادہ فالوورز

مگر سب سے اہم سوال بھول گئے ہیں:

میں واقعی کون ہوں؟

جب تک انسان یہ سوال نہیں پوچھتا…

اس کی خدا کی تلاش ادھوری رہتی ہے۔

کیونکہ کبھی کبھی…

جس خدا کو ہم پوری دنیا میں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں
وہ خاموشی سے ہمارے اپنے دل میں انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
“میں نے خدا کو ڈھونڈا تو خود کو پایا… اور جب خود کو ڈھونڈا تو خدا مل گیا۔” — مولانا جلال الدین رومی ⸻ صدیوں پہلے ایک شخص نکل پڑا۔ وہ صحراؤں سے گزرا۔ وہ پہاڑوں پر چڑھا۔ وہ مسجدوں میں بیٹھا۔ وہ خانقاہوں میں گیا۔ ہر جگہ اس نے ایک ہی سوال پوچھا: “خدا کہاں ملتا ہے؟” کسی نے کہا: مکہ جاؤ۔ کسی نے کہا: چالیس دن کا روزہ رکھو۔ کسی نے کہا: ہزار کتابیں پڑھو۔ وہ کرتا رہا… سفر… عبادت… تلاش… سال گزر گئے۔ پھر ایک دن وہ تھک گیا۔ وہ خاموش بیٹھ گیا۔ اور پہلی بار اس نے دنیا سے نہیں… خود سے سوال کیا۔ میں کون ہوں؟ میرا اصل کیا ہے؟ میرا دل کیوں بے چین ہے؟ اور اسی لمحے ایک عجیب حقیقت سامنے آئی۔ وہ خدا کو دنیا بھر میں ڈھونڈ رہا تھا… مگر جس جگہ خدا نے اپنی نشانی رکھی تھی… وہ اس کے اپنے دل کے اندر تھی۔ تب اس نے کہا: “میں نے خدا کو ڈھونڈا تو خود کو پایا… اور جب خود کو ڈھونڈا تو خدا مل گیا۔” ⸻ صوفیاء صدیوں سے ایک راز بتاتے آئے ہیں: انسان کی سب سے لمبی سفر کی مسافت زمین سے آسمان تک نہیں ہوتی… بلکہ دماغ سے دل تک ہوتی ہے۔ کیونکہ دل ایک آئینہ ہے۔ مگر اس آئینے پر تہیں جم جاتی ہیں: غرور حسد خوف لالچ اور انا جب یہ سب صاف ہو جائیں… تو دل کا آئینہ روشن ہو جاتا ہے۔ اور اس میں انسان کو نظر آتا ہے… خالق کی نشانی۔ ⸻ اسی لیے ایک قدیم قول ہے: “جس نے خود کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔” آج کی دنیا میں لوگ ہر چیز تلاش کر رہے ہیں: زیادہ پیسہ زیادہ شہرت زیادہ طاقت زیادہ فالوورز مگر سب سے اہم سوال بھول گئے ہیں: میں واقعی کون ہوں؟ جب تک انسان یہ سوال نہیں پوچھتا… اس کی خدا کی تلاش ادھوری رہتی ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی… جس خدا کو ہم پوری دنیا میں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں وہ خاموشی سے ہمارے اپنے دل میں انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
0 التعليقات 0 المشاركات 22 مشاهدة