پہلے میں بہت عقل مند تھی،
اس لیے میں دنیا کو بدلنا چاہتی تھی۔
پھر میں نے خود کو دیکھا،
تو سمجھ آیا کہ سب سے بڑی جنگ باہر نہیں،
اندر لڑی جاتی ہے۔
جب میں نے اپنی تنہائی کو طاقت بنایا،
اپنی کمزوریوں کو روشنی میں بدلا،
تب مجھے معلوم ہوا کہ اصل جیت
کسی اور پر نہیں، خود پر ہوتی ہے۔
جو خود کو فتح کر لے،
اس کی خاموشی بھی
ہزاروں دلوں کو جگا دیتی ہے۔
مقابلہ کسی اور سے نہیں،
صرف خود سے ہے…
اور جب خود سے جیت جاؤ،
تو پوری دنیا بدلنے لگتی ہے۔
— جلال الدین رومی (خیال سے متاثر)
Via Ayesha Siddiqa
اس لیے میں دنیا کو بدلنا چاہتی تھی۔
پھر میں نے خود کو دیکھا،
تو سمجھ آیا کہ سب سے بڑی جنگ باہر نہیں،
اندر لڑی جاتی ہے۔
جب میں نے اپنی تنہائی کو طاقت بنایا،
اپنی کمزوریوں کو روشنی میں بدلا،
تب مجھے معلوم ہوا کہ اصل جیت
کسی اور پر نہیں، خود پر ہوتی ہے۔
جو خود کو فتح کر لے،
اس کی خاموشی بھی
ہزاروں دلوں کو جگا دیتی ہے۔
مقابلہ کسی اور سے نہیں،
صرف خود سے ہے…
اور جب خود سے جیت جاؤ،
تو پوری دنیا بدلنے لگتی ہے۔
— جلال الدین رومی (خیال سے متاثر)
Via Ayesha Siddiqa
پہلے میں بہت عقل مند تھی،
اس لیے میں دنیا کو بدلنا چاہتی تھی۔
پھر میں نے خود کو دیکھا،
تو سمجھ آیا کہ سب سے بڑی جنگ باہر نہیں،
اندر لڑی جاتی ہے۔
جب میں نے اپنی تنہائی کو طاقت بنایا،
اپنی کمزوریوں کو روشنی میں بدلا،
تب مجھے معلوم ہوا کہ اصل جیت
کسی اور پر نہیں، خود پر ہوتی ہے۔
جو خود کو فتح کر لے،
اس کی خاموشی بھی
ہزاروں دلوں کو جگا دیتی ہے۔
مقابلہ کسی اور سے نہیں،
صرف خود سے ہے…
اور جب خود سے جیت جاؤ،
تو پوری دنیا بدلنے لگتی ہے۔
— جلال الدین رومی (خیال سے متاثر) ✨
Via Ayesha Siddiqa
0 Comentários
0 Compartilhamentos
23 Visualizações