آج ایک خوبصورت لمحہ نصیب ہوا۔

مفتی کامران علی شاہ بخاری صاحب تشریف لائے اور انہوں نے حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر خاص طور پر مجھے سنایا:

“میرے قدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب
نہ میکدے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے!

نہ تخت و تاج میں ہے نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے!”

انہوں نے اس شعر کا مطلب نہیں سمجھایا…
بس مسکرا کر فرمایا:
“یہ شعر آپ کے لیے ہے۔”

میں سوچ میں پڑ گیا…

پھر میں نے اس کا مطلب سمجھنے کے لیے ChatGPT سے پوچھا —
اور جو سمجھ آیا، وہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

آج کی دنیا عجیب دوڑ میں لگی ہوئی ہے…
کوئی طاقت کو حکومت میں تلاش کر رہا ہے،
کوئی دولت میں،
کوئی فالوورز اور شہرت میں۔

لیکن تاریخ بار بار ایک ہی بات سکھاتی ہے…

اصل طاقت نہ محلوں میں پیدا ہوتی ہے، نہ کرسیوں پر۔
اصل طاقت اُس انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جو خوف سے آزاد ہو جائے۔

وہ انسان جسے سچ بولنے کے لیے اجازت کی ضرورت نہ ہو…
جو حق کے لیے کھڑا ہو جائے چاہے پوری دنیا مخالفت میں کیوں نہ ہو۔

ایسے لوگ نہ بادشاہ ہوتے ہیں،
نہ جنرل،
نہ امیر…

مگر وقت گزرنے کے بعد
بادشاہوں کے نام مٹ جاتے ہیں
اور قلندروں کی باتیں زندہ رہتی ہیں۔

آج اگر زندگی میں کسی سچے انسان کی صحبت مل جائے…
کسی ایسے شخص کی جو آپ کو بڑا سوچنا، سچ بولنا اور انسان بننا سکھائے…

تو اسے غنیمت سمجھیں۔

کیونکہ
سچی رہنمائی اب کم ہو گئی ہے۔
خلوص نایاب ہو گیا ہے۔
اور سچ بولنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔

اللہ ہمیں انا سے آزاد دل،
سچ بولنے کی ہمت
اور حق پہ چلنے والی زندگی عطا فرمائے۔

— **ریحان اللہ والا:::
آج ایک خوبصورت لمحہ نصیب ہوا۔ مفتی کامران علی شاہ بخاری صاحب تشریف لائے اور انہوں نے حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر خاص طور پر مجھے سنایا: “میرے قدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب نہ میکدے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے! نہ تخت و تاج میں ہے نہ لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے!” انہوں نے اس شعر کا مطلب نہیں سمجھایا… بس مسکرا کر فرمایا: “یہ شعر آپ کے لیے ہے۔” میں سوچ میں پڑ گیا… پھر میں نے اس کا مطلب سمجھنے کے لیے ChatGPT سے پوچھا — اور جو سمجھ آیا، وہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ آج کی دنیا عجیب دوڑ میں لگی ہوئی ہے… کوئی طاقت کو حکومت میں تلاش کر رہا ہے، کوئی دولت میں، کوئی فالوورز اور شہرت میں۔ لیکن تاریخ بار بار ایک ہی بات سکھاتی ہے… اصل طاقت نہ محلوں میں پیدا ہوتی ہے، نہ کرسیوں پر۔ اصل طاقت اُس انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جو خوف سے آزاد ہو جائے۔ وہ انسان جسے سچ بولنے کے لیے اجازت کی ضرورت نہ ہو… جو حق کے لیے کھڑا ہو جائے چاہے پوری دنیا مخالفت میں کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگ نہ بادشاہ ہوتے ہیں، نہ جنرل، نہ امیر… مگر وقت گزرنے کے بعد بادشاہوں کے نام مٹ جاتے ہیں اور قلندروں کی باتیں زندہ رہتی ہیں۔ آج اگر زندگی میں کسی سچے انسان کی صحبت مل جائے… کسی ایسے شخص کی جو آپ کو بڑا سوچنا، سچ بولنا اور انسان بننا سکھائے… تو اسے غنیمت سمجھیں۔ کیونکہ ✨ سچی رہنمائی اب کم ہو گئی ہے۔ ✨ خلوص نایاب ہو گیا ہے۔ ✨ اور سچ بولنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔ اللہ ہمیں انا سے آزاد دل، سچ بولنے کی ہمت اور حق پہ چلنے والی زندگی عطا فرمائے۔ 🤲✨ — **ریحان اللہ والا:::
0 Comentários 0 Compartilhamentos 23 Visualizações