ریحان خوشبو کو کہتے ہیں، جو مقید نہیں ہوتی بس پھیلتی رہتی ہے۔
ریحان اللہ والا اسم با مسمیٰ ہیں۔ ماشاءاللہ
یہ ایک معمول کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ مستقبل کی سمت پر ہونے والی ایک بامقصد گفتگو تھی۔
ریحان اللہ والا واقعی ایک فرد نہیں بلکہ ایک تعلیمی عہد کا نام محسوس ہوئے۔ گفتگو کے آغاز ہی سے ان کی توجہ روایتی تعلیم سے آگے بڑھ کر نئی نسل کو عملی طور پر خودمختار بنانے پر مرکوز تھی۔
انہوں نے گلوبل منٹرشپ انسٹیٹیوٹ کے وژن اور سلیبس کو نہ صرف سراہا بلکہ فوراً عملی اشتراک کی پیشکش کی۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ *اگر اہلِ فکر اور اہلِ علم اکٹھے ہو جائیں تو محض ادارے نہیں، ایک تحریک جنم لیتی ہے۔* علماء کرام کو منظم کر کے ایک بڑے تعلیمی اور سماجی مقصد کے لیے متحرک کرنے کا ان کا وژن قابلِ توجہ تھا۔
گفتگو کا اہم حصہ *اسکول نیٹ ورکنگ اور تعلیمی اداروں کو AI اور IT کے ذریعے اپ لفٹ* کرنے سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق مستقبل کی تعلیم وہ ہے جو بچے کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کمائی، مہارت اور عالمی معیار کی صلاحیت دے۔
ریحان فاؤنڈیشن اسکول کا ماڈل اسی سوچ پر مبنی ہے:
ہر بچہ گریجویشن سے پہلے مالی طور پر خود مختار ہو۔
پانچویں جماعت میں 5 ہزار کی کمائی کا ہدف
چھٹی میں 28 ہزار
ساتویں میں 55 ہزار
اور مجموعی طور پر گریجویشن تک ایک ملین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف۔۔۔
یہ اعداد صرف دعوے نہیں بلکہ ایک اسٹرکچرڈ AI بیسڈ سسٹم کے تحت ترتیب دیے گئے ہیں، جس میں مہارت، ٹیکنالوجی، اور عملی پروجیکٹس مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ریحان اللہ والا کا تعلیمی ماڈل روایتی نصاب سے مختلف ہے۔ یہ نظام:
ٹیکنالوجی پر مبنی ہے
کم عمری میں اسکل ڈیولپمنٹ پر زور دیتا ہے
عملی پراجیکٹس کے ذریعے سیکھنے کو یقینی بناتا ہے
نتائج کو ویژول اور قابلِ پیمائش بناتا ہے
مختلف کم عمر بچوں کی کامیابیوں کی ویڈیوز اور پراجیکٹس اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ ماڈل محض نظریہ نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کم عمر طلبہ کی غیر معمولی کارکردگی اس سسٹم کی افادیت کا مظہر ہے۔
یہ ملاقات محض تعارفی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے تعلیمی رخ پر مکالمہ تھا جو آنے والے وقت میں مدارس اور اسکول دونوں کے لیے ناگزیر ہو سکتا ہے۔
*وقت بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نظام بدلے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا تماشائی رہیں گے۔*
Via Kamran Ali Shah Bukhari
ریحان اللہ والا اسم با مسمیٰ ہیں۔ ماشاءاللہ
یہ ایک معمول کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ مستقبل کی سمت پر ہونے والی ایک بامقصد گفتگو تھی۔
ریحان اللہ والا واقعی ایک فرد نہیں بلکہ ایک تعلیمی عہد کا نام محسوس ہوئے۔ گفتگو کے آغاز ہی سے ان کی توجہ روایتی تعلیم سے آگے بڑھ کر نئی نسل کو عملی طور پر خودمختار بنانے پر مرکوز تھی۔
انہوں نے گلوبل منٹرشپ انسٹیٹیوٹ کے وژن اور سلیبس کو نہ صرف سراہا بلکہ فوراً عملی اشتراک کی پیشکش کی۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ *اگر اہلِ فکر اور اہلِ علم اکٹھے ہو جائیں تو محض ادارے نہیں، ایک تحریک جنم لیتی ہے۔* علماء کرام کو منظم کر کے ایک بڑے تعلیمی اور سماجی مقصد کے لیے متحرک کرنے کا ان کا وژن قابلِ توجہ تھا۔
گفتگو کا اہم حصہ *اسکول نیٹ ورکنگ اور تعلیمی اداروں کو AI اور IT کے ذریعے اپ لفٹ* کرنے سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق مستقبل کی تعلیم وہ ہے جو بچے کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کمائی، مہارت اور عالمی معیار کی صلاحیت دے۔
ریحان فاؤنڈیشن اسکول کا ماڈل اسی سوچ پر مبنی ہے:
ہر بچہ گریجویشن سے پہلے مالی طور پر خود مختار ہو۔
پانچویں جماعت میں 5 ہزار کی کمائی کا ہدف
چھٹی میں 28 ہزار
ساتویں میں 55 ہزار
اور مجموعی طور پر گریجویشن تک ایک ملین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف۔۔۔
یہ اعداد صرف دعوے نہیں بلکہ ایک اسٹرکچرڈ AI بیسڈ سسٹم کے تحت ترتیب دیے گئے ہیں، جس میں مہارت، ٹیکنالوجی، اور عملی پروجیکٹس مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ریحان اللہ والا کا تعلیمی ماڈل روایتی نصاب سے مختلف ہے۔ یہ نظام:
ٹیکنالوجی پر مبنی ہے
کم عمری میں اسکل ڈیولپمنٹ پر زور دیتا ہے
عملی پراجیکٹس کے ذریعے سیکھنے کو یقینی بناتا ہے
نتائج کو ویژول اور قابلِ پیمائش بناتا ہے
مختلف کم عمر بچوں کی کامیابیوں کی ویڈیوز اور پراجیکٹس اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ ماڈل محض نظریہ نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کم عمر طلبہ کی غیر معمولی کارکردگی اس سسٹم کی افادیت کا مظہر ہے۔
یہ ملاقات محض تعارفی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے تعلیمی رخ پر مکالمہ تھا جو آنے والے وقت میں مدارس اور اسکول دونوں کے لیے ناگزیر ہو سکتا ہے۔
*وقت بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نظام بدلے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا تماشائی رہیں گے۔*
Via Kamran Ali Shah Bukhari
ریحان خوشبو کو کہتے ہیں، جو مقید نہیں ہوتی بس پھیلتی رہتی ہے۔
ریحان اللہ والا اسم با مسمیٰ ہیں۔ ماشاءاللہ
یہ ایک معمول کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ مستقبل کی سمت پر ہونے والی ایک بامقصد گفتگو تھی۔
ریحان اللہ والا واقعی ایک فرد نہیں بلکہ ایک تعلیمی عہد کا نام محسوس ہوئے۔ گفتگو کے آغاز ہی سے ان کی توجہ روایتی تعلیم سے آگے بڑھ کر نئی نسل کو عملی طور پر خودمختار بنانے پر مرکوز تھی۔
انہوں نے گلوبل منٹرشپ انسٹیٹیوٹ کے وژن اور سلیبس کو نہ صرف سراہا بلکہ فوراً عملی اشتراک کی پیشکش کی۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ *اگر اہلِ فکر اور اہلِ علم اکٹھے ہو جائیں تو محض ادارے نہیں، ایک تحریک جنم لیتی ہے۔* علماء کرام کو منظم کر کے ایک بڑے تعلیمی اور سماجی مقصد کے لیے متحرک کرنے کا ان کا وژن قابلِ توجہ تھا۔
گفتگو کا اہم حصہ *اسکول نیٹ ورکنگ اور تعلیمی اداروں کو AI اور IT کے ذریعے اپ لفٹ* کرنے سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق مستقبل کی تعلیم وہ ہے جو بچے کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کمائی، مہارت اور عالمی معیار کی صلاحیت دے۔
ریحان فاؤنڈیشن اسکول کا ماڈل اسی سوچ پر مبنی ہے:
ہر بچہ گریجویشن سے پہلے مالی طور پر خود مختار ہو۔
پانچویں جماعت میں 5 ہزار کی کمائی کا ہدف
چھٹی میں 28 ہزار
ساتویں میں 55 ہزار
اور مجموعی طور پر گریجویشن تک ایک ملین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف۔۔۔
یہ اعداد صرف دعوے نہیں بلکہ ایک اسٹرکچرڈ AI بیسڈ سسٹم کے تحت ترتیب دیے گئے ہیں، جس میں مہارت، ٹیکنالوجی، اور عملی پروجیکٹس مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ریحان اللہ والا کا تعلیمی ماڈل روایتی نصاب سے مختلف ہے۔ یہ نظام:
ٹیکنالوجی پر مبنی ہے
کم عمری میں اسکل ڈیولپمنٹ پر زور دیتا ہے
عملی پراجیکٹس کے ذریعے سیکھنے کو یقینی بناتا ہے
نتائج کو ویژول اور قابلِ پیمائش بناتا ہے
مختلف کم عمر بچوں کی کامیابیوں کی ویڈیوز اور پراجیکٹس اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ ماڈل محض نظریہ نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کم عمر طلبہ کی غیر معمولی کارکردگی اس سسٹم کی افادیت کا مظہر ہے۔
یہ ملاقات محض تعارفی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے تعلیمی رخ پر مکالمہ تھا جو آنے والے وقت میں مدارس اور اسکول دونوں کے لیے ناگزیر ہو سکتا ہے۔
*وقت بدل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نظام بدلے گا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا تماشائی رہیں گے۔*
Via Kamran Ali Shah Bukhari
0 Kommentare
0 Anteile
278 Ansichten