آج کی ملاقات صرف ایک میٹنگ نہیں تھی — یہ ایک فکری ہم آہنگی کا لمحہ تھا۔

مجھے Gulmina Bilal صاحبہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، جو National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کی چیئرپرسن ہیں۔
NAVTTC پاکستان کا وہ ادارہ ہے جو قومی اسکلز پالیسی، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے معیار، ورک فورس ڈویلپمنٹ اور صنعت کے مطابق تربیت کے نظام کی نگرانی کرتا ہے — یعنی ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔

انہوں نے 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔

وہ ڈھائی گھنٹے بیٹھیں۔

یہ خود بہت کچھ کہتا ہے۔

میں نے انہیں فکری طور پر غیر معمولی پایا — ان نایاب لوگوں میں سے ایک جو واقعی پاکستان کو بااختیار بنانے کے مشن پر سنجیدہ ہیں۔

وہ گہری سوچ رکھنے والی لیڈر ہیں۔
تنقیدی انداز میں سوال کرتی ہیں۔
کسی بات کو سطحی طور پر قبول نہیں کرتیں۔

وہ ہر خیال کو زوم اِن کر کے دیکھتی ہیں۔
مفروضوں کو چیلنج کرتی ہیں۔
تفصیل میں جا کر سمجھتی ہیں۔

ہماری گفتگو AI کی تعلیم، قومی اسکلز ریفارمز، نوجوانوں کو کم عمری میں مالی خودمختار بنانے، اور ایسا نظام ڈیزائن کرنے پر تھی جو طالب علم کو صرف پڑھائے نہیں بلکہ کمانے کے قابل بھی بنائے۔

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا:

“This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.”

اور پھر انہوں نے ایک ذاتی بات کہی:

“My heart says and wants me to admit my son in your school.”

اور انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” قرار دیا۔

جب ملک کی اسکلز پالیسی کی ذمہ دار شخصیت آپ کے تعلیمی ماڈل کو انقلابی کہے — تو یہ صرف تعریف نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

میں شکر گزار ہوں اس گہرائی کا۔
اس وقت کا۔
اور اس مشترکہ عزم کا کہ ہم اگلی نسل کو صرف تعلیم نہیں، سمت بھی دیں گے۔

پاکستان کا مستقبل اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو گہرائی سے سوچتے ہیں اور جرات سے عمل کرتے ہیں۔

#Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #RehanSchool
آج کی ملاقات صرف ایک میٹنگ نہیں تھی — یہ ایک فکری ہم آہنگی کا لمحہ تھا۔ مجھے Gulmina Bilal صاحبہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، جو National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کی چیئرپرسن ہیں۔ NAVTTC پاکستان کا وہ ادارہ ہے جو قومی اسکلز پالیسی، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے معیار، ورک فورس ڈویلپمنٹ اور صنعت کے مطابق تربیت کے نظام کی نگرانی کرتا ہے — یعنی ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔ انہوں نے 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔ وہ ڈھائی گھنٹے بیٹھیں۔ یہ خود بہت کچھ کہتا ہے۔ میں نے انہیں فکری طور پر غیر معمولی پایا — ان نایاب لوگوں میں سے ایک جو واقعی پاکستان کو بااختیار بنانے کے مشن پر سنجیدہ ہیں۔ وہ گہری سوچ رکھنے والی لیڈر ہیں۔ تنقیدی انداز میں سوال کرتی ہیں۔ کسی بات کو سطحی طور پر قبول نہیں کرتیں۔ وہ ہر خیال کو زوم اِن کر کے دیکھتی ہیں۔ مفروضوں کو چیلنج کرتی ہیں۔ تفصیل میں جا کر سمجھتی ہیں۔ ہماری گفتگو AI کی تعلیم، قومی اسکلز ریفارمز، نوجوانوں کو کم عمری میں مالی خودمختار بنانے، اور ایسا نظام ڈیزائن کرنے پر تھی جو طالب علم کو صرف پڑھائے نہیں بلکہ کمانے کے قابل بھی بنائے۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا: “This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.” اور پھر انہوں نے ایک ذاتی بات کہی: “My heart says and wants me to admit my son in your school.” اور انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” قرار دیا۔ جب ملک کی اسکلز پالیسی کی ذمہ دار شخصیت آپ کے تعلیمی ماڈل کو انقلابی کہے — تو یہ صرف تعریف نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ میں شکر گزار ہوں اس گہرائی کا۔ اس وقت کا۔ اور اس مشترکہ عزم کا کہ ہم اگلی نسل کو صرف تعلیم نہیں، سمت بھی دیں گے۔ پاکستان کا مستقبل اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو گہرائی سے سوچتے ہیں اور جرات سے عمل کرتے ہیں۔ #Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #RehanSchool
0 Комментарии 0 Поделились 597 Просмотры