ایک آدمی ہے۔
عمر 38 سال۔
تعلیم F.A تک۔
تین بچے۔
سارا دن چکن پوائنٹ پر کھڑا رہتا ہے۔
ہاتھ مصروف۔
دماغ حساب میں۔
شام کو تقریباً 1800 روپے لے کر گھر جاتا ہے۔
محلہ ایسا جہاں غربت عام بات ہے۔
تعلیم صرف 10 فیصد۔
زیادہ لوگ روز کما کر روز کھاتے ہیں۔
کل کا کوئی پلان نہیں۔
پھر ایک دن اس نے میسج کیا۔
“میں Rehan School اپنے محلے میں کھولنا چاہتا ہوں۔
مجھے کیا کرنا ہوگا؟”
یہ سوال نہیں تھا۔
یہ ذمہ داری تھی۔
ہم نے کہا،
ضرور کھولو۔
rehanschool.com/copy
سے ماڈل دیکھو۔
سسٹم سمجھو۔
اسٹرکچر کاپی کرو۔
ایک کمرہ کافی ہے۔
نیت بڑی ہونی چاہیے۔
لیکن ہم نے صرف عمارت کی بات نہیں کی۔
ہم نے کہا،
تم روز کیا کرتے ہو؟
اس نے کہا،
میں چکن پوائنٹ پر کام کرتا ہوں۔
ہم نے کہا،
وہی تمہارا پہلا اسکول ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں تعلیم کتاب سے شروع ہوتی ہے۔
کبھی کبھی تعلیم
روزگار سے شروع ہوتی ہے۔
تم روز 1800 کماتے ہو۔
یہ ہنر ہے۔
تم منافع سمجھتے ہو۔
تم کسٹمر ہینڈل کرتے ہو۔
تم جانتے ہو کون سا حصہ کس ریٹ پر بکتا ہے۔
یہ بزنس نالج ہے۔
ہم نے اس کے ساتھ ایک مکمل ماڈل شیئر کیا۔
“Poultry Micro-Entrepreneurship Model.”
مرغی صرف گوشت نہیں۔
وہ مکمل ویلیو چین ہے۔
پَر تکیے بن سکتے ہیں۔
ہڈیاں سوپ بن سکتی ہیں۔
پنجے کولیجن ڈرنک بن سکتے ہیں۔
گوشت برگر پیٹی بن سکتا ہے۔
لیور اسپریڈ بن سکتا ہے۔
سٹاک پاؤڈر بن سکتا ہے۔
ریڈی ٹو کک پیکٹس بن سکتے ہیں۔
ایک چیز۔
کئی آمدنیاں۔
مسئلہ غربت نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا
کہ کسی نے اسے
دوسری نظر سے نہیں دیکھا۔
ہم نے کہا،
اگر تم ہفتے میں دو دن
پانچ نوجوانوں کو سکھا دو
کہ 1800 روز کیسے بنتے ہیں…
اور ہر شاگرد 1000 کمائے…
تو مہینے کے تقریباً 150,000
اسی محلے میں رہیں گے۔
یہ اسکول سے بڑا اثر ہوگا۔
کیونکہ تعلیم صرف کتاب نہیں ہوتی۔
تعلیم = Skill + Product + Market
اگر وہ صرف خود کماتا رہا
تو ایک گھر چلے گا۔
اگر وہ سکھانے لگا
تو پانچ گھر چلیں گے۔
اگر وہ سسٹم بنا لے
تو پچاس گھر چل سکتے ہیں۔
Rehan Allahwala کا ایک سادہ اصول ہے:
جو آتا ہے، وہ سکھاؤ۔
rehanschool.com/copy
سے اسکول کا ڈھانچہ آ سکتا ہے۔
لیکن اصل انقلاب
اس کے ہاتھوں سے آئے گا۔
وہ اگر اپنے ہنر کو سسٹم بنا لے…
تو وہ صرف چکن پوائنٹ ورکر نہیں رہے گا۔
وہ محلے کا پہلا بزنس ٹرینر ہوگا۔
اور شاید…
کبھی کبھی
غربت ختم کرنے کے لیے
کتاب سے زیادہ
ایک ہنر مند آدمی کافی ہوتا ہے۔
عمر 38 سال۔
تعلیم F.A تک۔
تین بچے۔
سارا دن چکن پوائنٹ پر کھڑا رہتا ہے۔
ہاتھ مصروف۔
دماغ حساب میں۔
شام کو تقریباً 1800 روپے لے کر گھر جاتا ہے۔
محلہ ایسا جہاں غربت عام بات ہے۔
تعلیم صرف 10 فیصد۔
زیادہ لوگ روز کما کر روز کھاتے ہیں۔
کل کا کوئی پلان نہیں۔
پھر ایک دن اس نے میسج کیا۔
“میں Rehan School اپنے محلے میں کھولنا چاہتا ہوں۔
مجھے کیا کرنا ہوگا؟”
یہ سوال نہیں تھا۔
یہ ذمہ داری تھی۔
ہم نے کہا،
ضرور کھولو۔
rehanschool.com/copy
سے ماڈل دیکھو۔
سسٹم سمجھو۔
اسٹرکچر کاپی کرو۔
ایک کمرہ کافی ہے۔
نیت بڑی ہونی چاہیے۔
لیکن ہم نے صرف عمارت کی بات نہیں کی۔
ہم نے کہا،
تم روز کیا کرتے ہو؟
اس نے کہا،
میں چکن پوائنٹ پر کام کرتا ہوں۔
ہم نے کہا،
وہی تمہارا پہلا اسکول ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں تعلیم کتاب سے شروع ہوتی ہے۔
کبھی کبھی تعلیم
روزگار سے شروع ہوتی ہے۔
تم روز 1800 کماتے ہو۔
یہ ہنر ہے۔
تم منافع سمجھتے ہو۔
تم کسٹمر ہینڈل کرتے ہو۔
تم جانتے ہو کون سا حصہ کس ریٹ پر بکتا ہے۔
یہ بزنس نالج ہے۔
ہم نے اس کے ساتھ ایک مکمل ماڈل شیئر کیا۔
“Poultry Micro-Entrepreneurship Model.”
مرغی صرف گوشت نہیں۔
وہ مکمل ویلیو چین ہے۔
پَر تکیے بن سکتے ہیں۔
ہڈیاں سوپ بن سکتی ہیں۔
پنجے کولیجن ڈرنک بن سکتے ہیں۔
گوشت برگر پیٹی بن سکتا ہے۔
لیور اسپریڈ بن سکتا ہے۔
سٹاک پاؤڈر بن سکتا ہے۔
ریڈی ٹو کک پیکٹس بن سکتے ہیں۔
ایک چیز۔
کئی آمدنیاں۔
مسئلہ غربت نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا
کہ کسی نے اسے
دوسری نظر سے نہیں دیکھا۔
ہم نے کہا،
اگر تم ہفتے میں دو دن
پانچ نوجوانوں کو سکھا دو
کہ 1800 روز کیسے بنتے ہیں…
اور ہر شاگرد 1000 کمائے…
تو مہینے کے تقریباً 150,000
اسی محلے میں رہیں گے۔
یہ اسکول سے بڑا اثر ہوگا۔
کیونکہ تعلیم صرف کتاب نہیں ہوتی۔
تعلیم = Skill + Product + Market
اگر وہ صرف خود کماتا رہا
تو ایک گھر چلے گا۔
اگر وہ سکھانے لگا
تو پانچ گھر چلیں گے۔
اگر وہ سسٹم بنا لے
تو پچاس گھر چل سکتے ہیں۔
Rehan Allahwala کا ایک سادہ اصول ہے:
جو آتا ہے، وہ سکھاؤ۔
rehanschool.com/copy
سے اسکول کا ڈھانچہ آ سکتا ہے۔
لیکن اصل انقلاب
اس کے ہاتھوں سے آئے گا۔
وہ اگر اپنے ہنر کو سسٹم بنا لے…
تو وہ صرف چکن پوائنٹ ورکر نہیں رہے گا۔
وہ محلے کا پہلا بزنس ٹرینر ہوگا۔
اور شاید…
کبھی کبھی
غربت ختم کرنے کے لیے
کتاب سے زیادہ
ایک ہنر مند آدمی کافی ہوتا ہے۔
ایک آدمی ہے۔
عمر 38 سال۔
تعلیم F.A تک۔
تین بچے۔
سارا دن چکن پوائنٹ پر کھڑا رہتا ہے۔
ہاتھ مصروف۔
دماغ حساب میں۔
شام کو تقریباً 1800 روپے لے کر گھر جاتا ہے۔
محلہ ایسا جہاں غربت عام بات ہے۔
تعلیم صرف 10 فیصد۔
زیادہ لوگ روز کما کر روز کھاتے ہیں۔
کل کا کوئی پلان نہیں۔
پھر ایک دن اس نے میسج کیا۔
“میں Rehan School اپنے محلے میں کھولنا چاہتا ہوں۔
مجھے کیا کرنا ہوگا؟”
یہ سوال نہیں تھا۔
یہ ذمہ داری تھی۔
ہم نے کہا،
ضرور کھولو۔
rehanschool.com/copy
سے ماڈل دیکھو۔
سسٹم سمجھو۔
اسٹرکچر کاپی کرو۔
ایک کمرہ کافی ہے۔
نیت بڑی ہونی چاہیے۔
لیکن ہم نے صرف عمارت کی بات نہیں کی۔
ہم نے کہا،
تم روز کیا کرتے ہو؟
اس نے کہا،
میں چکن پوائنٹ پر کام کرتا ہوں۔
ہم نے کہا،
وہی تمہارا پہلا اسکول ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں تعلیم کتاب سے شروع ہوتی ہے۔
کبھی کبھی تعلیم
روزگار سے شروع ہوتی ہے۔
تم روز 1800 کماتے ہو۔
یہ ہنر ہے۔
تم منافع سمجھتے ہو۔
تم کسٹمر ہینڈل کرتے ہو۔
تم جانتے ہو کون سا حصہ کس ریٹ پر بکتا ہے۔
یہ بزنس نالج ہے۔
ہم نے اس کے ساتھ ایک مکمل ماڈل شیئر کیا۔
“Poultry Micro-Entrepreneurship Model.”
مرغی صرف گوشت نہیں۔
وہ مکمل ویلیو چین ہے۔
پَر تکیے بن سکتے ہیں۔
ہڈیاں سوپ بن سکتی ہیں۔
پنجے کولیجن ڈرنک بن سکتے ہیں۔
گوشت برگر پیٹی بن سکتا ہے۔
لیور اسپریڈ بن سکتا ہے۔
سٹاک پاؤڈر بن سکتا ہے۔
ریڈی ٹو کک پیکٹس بن سکتے ہیں۔
ایک چیز۔
کئی آمدنیاں۔
مسئلہ غربت نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا
کہ کسی نے اسے
دوسری نظر سے نہیں دیکھا۔
ہم نے کہا،
اگر تم ہفتے میں دو دن
پانچ نوجوانوں کو سکھا دو
کہ 1800 روز کیسے بنتے ہیں…
اور ہر شاگرد 1000 کمائے…
تو مہینے کے تقریباً 150,000
اسی محلے میں رہیں گے۔
یہ اسکول سے بڑا اثر ہوگا۔
کیونکہ تعلیم صرف کتاب نہیں ہوتی۔
تعلیم = Skill + Product + Market
اگر وہ صرف خود کماتا رہا
تو ایک گھر چلے گا۔
اگر وہ سکھانے لگا
تو پانچ گھر چلیں گے۔
اگر وہ سسٹم بنا لے
تو پچاس گھر چل سکتے ہیں۔
Rehan Allahwala کا ایک سادہ اصول ہے:
جو آتا ہے، وہ سکھاؤ۔
rehanschool.com/copy
سے اسکول کا ڈھانچہ آ سکتا ہے۔
لیکن اصل انقلاب
اس کے ہاتھوں سے آئے گا۔
وہ اگر اپنے ہنر کو سسٹم بنا لے…
تو وہ صرف چکن پوائنٹ ورکر نہیں رہے گا۔
وہ محلے کا پہلا بزنس ٹرینر ہوگا۔
اور شاید…
کبھی کبھی
غربت ختم کرنے کے لیے
کتاب سے زیادہ
ایک ہنر مند آدمی کافی ہوتا ہے۔
0 Комментарии
0 Поделились
27 Просмотры