السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔

ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔

حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔

میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔

یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔

آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم سید عنایت اللہ جان صاحب،

آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔

آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔

ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟

یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں:

وقت کی قدر اور فلٹر
روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو:
• ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے
• طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے
• فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے

فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔

مکمل توجہ کے ساتھ نشست
جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو:
• اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے
• مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے
• عملی رہنمائی دی جاتی ہے

یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔

مشن پر فوکس
اس وقت بنیادی توجہ:
• نظام کی بہتری
• طلبہ کی ٹریننگ
• اساتذہ کی تیاری
• AI-based learning کی توسیع

پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔



اہم بات

ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔
ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔



آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔

آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔

احترام کے ساتھ
ریحان اللہ والا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔ ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔ حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔ میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔ یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔ آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم سید عنایت اللہ جان صاحب، آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟ یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں: 1️⃣ وقت کی قدر اور فلٹر روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو: • ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے • طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے • فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔ 2️⃣ مکمل توجہ کے ساتھ نشست جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو: • اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے • مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے • عملی رہنمائی دی جاتی ہے یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔ 3️⃣ مشن پر فوکس اس وقت بنیادی توجہ: • نظام کی بہتری • طلبہ کی ٹریننگ • اساتذہ کی تیاری • AI-based learning کی توسیع پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔ ⸻ اہم بات ✔️ ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔ ✔️ ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ✔️ براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔ ⸻ آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔ آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔ احترام کے ساتھ ریحان اللہ والا
0 Comments 0 Shares 2 Views